• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پچانوے سال پہلے آج کے دن یکم مارچ 1919ء کو ن، م ، راشدبابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، امرتا پریتم، مظفر علی سید اور میرے آبائی ضلع کے شہر گوجرانوالہ کے محلہ حاکم رائے میں پیدا ہونے والے جدید نظم میں نئے رجحانات اور موضوعات کے خوبصورت فنی تجربے کرنے والے قابل ذکر شاعر ’’مختار صدیقی کی حیات وخدمات‘‘ کے عنوان سے سرائیکی شاعرہ ڈاکٹر صابرہ شاہین ڈیروی نے پی ایچ ڈی کے لئے لکھے گئے اپنے تحقیقاتی مطالعے (تھیسس) کو کتابی صورت میں چھاپا ہے اس کے ’’عرض مدعا‘‘ کو ان الفاظ سے شرو ع کیا ہے کہ ’’بیسویں صدی کے نصف آخر میں اردو شعراء اور ادبا سینٹ برگ ملارمے اور ٹی ایس ایلیٹ سے متاثر تھے لہٰذا حلقہ ارباب ذوق کے پلیٹ فارم سے میراجی کی معیت میں معاشرے پر فرد کی تقدیم و برتری کا علم اٹھائے، ظاہر کے راستے باطن کی غواصی میں مشغول ہوئے اور اردو شاعری کو ہیت، فکر، موضوع اور طرز ادا کے حوالے سے ایک انقلاب عظیم سے روشناس کرایا۔ انقلاب کے جویا ان ہی لوگوں میں مختار صدیقی کا نام سرفہرست ہے‘‘
اس کتاب کے گردپوش پر میری ایک عرض داشت بھی موجود ہے کہ ’’منیر نیازی نے اپنی ضرورت سے زیادہ خودپسندی کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ ’’میں خبیث روحوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لئے اپنے گرد خودپسندی کے حصار
اور فصیلیں کھڑی کر دیتا ہوں۔ ان سے پہلے مختار صدیقی نے اپنے کسی آشنا کی تعریف میں کہا تھا کہ
آشنا ایسے بھی ان آنکھوں نے کم دیکھے ہیں
اس کے ساتھ ہی مختار صدیقی کے اندر کے منیر نیازی نے کہا تھا کہ
ایسی آنکھیں بھی تو ان آنکھوں نے کم دیکھی ہیں
صابرہ شاہین نے ویسی ہی آنکھوں سے مختار صدیقی کو دیکھا اور دکھایا ہے کیونکہ صابرہ شاہین کی آنکھوں کے اندر میری پہلی محبت سرائیکی زبان کی خوبصورت شاعرہ شاہین ڈیروی کی آنکھیں بھی موجود ہیں۔ میری پہلی محبت اگر سرائیکی زبان ہے تو پہلے متاثر کرنے والے اردو شاعر مختار صدیقی ہیں۔ صابرہ شاہین سے اپنی یہ مطابقت بہت اچھی لگی ہے میری ایک پنجابی نظم کا ایک شعر ہے
میں مختار صدیقی کولوں پچھنی سی اک گل
ایڈا سوہنا گل کرنے داکتھوںلیا ای ول
ایک مشترکہ دوست کے ذریعے میرے پاس ایک فرمائش آئی کہ ’’ایڈاسوہنا‘‘ کے الفاظ کو ’’ایڈی سوہنی ‘‘ میں بدل دوں مگر اس فرمائش پر ابھی غور ہی کر رہا تھا کہ مختار صدیقی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔مختار صدیقی کا یہ معجزہ شمار کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی کے پروگرام ایگزیکٹو کے طور پر میری زبان کی شدید لکنت کو عارضی طور پر غائب کر دیا اور ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے میری زبان میں پندرہ ’’حکایات رومی ‘‘ نشر کروائیں اور میری 1955ء کی ماہوار صحافتی تنخواہ (پچاس روپے) سے تین سو فیصدی زیادہ مالیت کا چیک دے کر مجھے افراط زر میں مبتلا کر دیا۔ ایک روز مجھے برائون جرابوں کے ساتھ کالے بوٹوں میں ملبوس دیکھ کر مختار صدیقی نے مجھے ’’ولیم ‘‘کا نام دیا اور زندگی بھر اسی نام سے پکارا اور یاد فرمایا۔
صابرہ شاہین نے اپنی اس کتاب میں خوبصورت انداز، بھرپور طریقے اور سرائیکی سلیقے کے ساتھ بتایا ہے کہ جدید نظم میں نئے رجحانات اور موضوعات کے علاوہ خوبصورت فنی قرینے عطا کرنے والے اہم شاعروں میں شمار ہونے کے باوصف مختار صدیقی کو شہرت کے سنگھاسن پر کوئی خاص اور نمایاں جگہ کیوں نہیں مل سکی ۔
تازہ ترین