ڈربی/ناٹنگھم (امجد بیگ) برطانیہ میں ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، متعدد کمپنیاں بند، رہائش کی کمی،اخراجات کا بوجھ،ہوم آفس کی جانب سے وارننگ لیٹرز،بارڈر ایجنسی کے چھاپے، ایجنٹوں نے فون بند کر دئیے آبائی ملکوں میں والدین اور رشتہ دار پریشانی میں مبتلا ہوگئے اور ان کی زندگی دگرگوں ہو گئی ہے۔ معیشت میں حالیہ تبدیلیوں اور سخت امیگریشن پالیسیوں نے ہزاروں افراد کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے، جن میں سے بہت سے لوگ بہتر روزگار کی تلاش میں اپنے آبائی ممالک سے برطانیہ آئے تھی مبینہ جعلسازی کی نیت سے کھولی گئی متعدد کمپنیوں کو برطانوی حکومت نے بند کروا دیا یا کمپنی مالکان نے خود کمپنیاں بند کر دیں ہیں جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے ورک پرمٹ پر آنے والے سیکڑوں افراد روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ بند ہوتی ہوئی صنعتوں اور کارخانوں کے باعث ورک پرمٹ ہولڈرز کے لیے نوکری کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب رہائش کا مسئلہ بھی ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ بڑے شہروں میں کرائے آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اور رہائش کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ کمروں میں شیئر رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں رہائش کی کمی کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور دیگر سہولیات کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں جس سے ورک پرمٹ ہولڈرزپر مزید مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں برطانیہ کے ہوم آفس نے غیر قانونی ملازمتوں اور ورک ویزا کی خلاف ورزیوں پر سختی کی ہے۔ ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کو ہوم آفس کی جانب سے وارننگ لیٹرز موصول ہو رہے ہیں، جن میں انہیں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی نہ کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے مختلف کاروباری مراکز اور رہائش گاہوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے ورک پرمٹ ہولڈرزمیں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے،ورک پرمٹ دلوانے والے ایجنٹوں کا کردار بھی اس صورتحال میں بہت اہم ہے، متعدد متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جب سے وہ برطانیہ پہنچے ہیں، ایجنٹوں نے ان سے رابطہ منقطع کر لیا ہے۔ یہ ایجنٹ، جو بھاری رقم لے کر ورک ویزا اور روزگار کا وعدہ کرتے تھے، اب فون بند کر چکے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ اس صورتحال میں بہت سے افراد دھوکہ دہی کا شکار ہو چکے ہیں اور قانونی مدد نہ ملنے کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا کر رہے برطانیہ میں مشکلات کے شکار ان افراد کے آبائی ممالک میں والدین اور رشتہ دار بھی شدید پریشان ہیں۔ روزگار اور بہتر زندگی کے خوابوں کے ساتھ برطانیہ آنے والے افراد کی موجودہ صورتحال ان کے اہل خانہ کے لیے مزید تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اس سنجیدہ معاملہ کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کے مسائل کا فوری حل نکالا جا سکے۔