پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتا ق کلوٹا
" فتح مکہ"رمضان المبارک ۸ ھ میں وقوع پذیر ہونے والا اسلامی تاریخ کا نہایت ہی عظیم الشان واقعہ ہے ، سیرت النبی ﷺ کا یہ وہ سنہرا باب ہے کہ جس کی چمک دمک سے ہر مومن کا دل تا قیام قیامت مسرتوں کا آفتاب بنا رہے گا ،کیونکہ بے مثل سپہ سالار، رحمۃ للعالمین ، نبی مہربان، فاتح مکہ حضرت محمد ﷺنے اس تاریخ سے آٹھ سال قبل انتہائی رنجیدگی کے عالم میں اپنے یارغار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر رات کی تاریکی میں مکہ سے ہجرت فرماکر اپنے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا تھا اور مکہ سے نکلتے وقت اللہ کے بابرکت گھر ، بیت اللہ پر ایک حسرت بھری نگاہ ڈال کر یہ فرماتے ہوئے مدینہ روانہ ہوئے تھے کہ ’’اے مکہ!اللہ کی قسم! تو میری نگاہ میں تمام دنیا کے شہروں سے زیادہ پیارا ہے ،اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔‘‘ لیکن آٹھ برس بعد یہی وہ مسرت خیز تاریخ ہے کہ فاتح مکہ حضرت محمد ﷺ ایک فاتح اعظم کی شان و شوکت مگر عاجزی و انکساری کے ساتھ اسی شہر مکہ میں داخل ہوتے ہیں۔
خانہ کعبہ کے بتوں کا ٹوٹنا گویا تمام ملک عرب کے بتوں کا ٹوٹنا تھا‘ اسی طرح قریش مکہ کا اسلام میں داخل ہو جانا‘ اور اسلام کی اطاعت اختیار کرنا سارے ملک عرب کا مطیع ہو جانا تھا‘ کیونکہ تمام قبائل کی آنکھیں قریش مکہ کی طرف ہی لگی ہوئی تھیں کہ وہ اسلام قبول کرتے ہیں یا نہیں‘ فتح مکہ کے بعد بہت سے قریش مسلمان ہو گئے تھے‘ لیکن بعض اپنے کفر اور بت پرستی پر قائم تھے‘ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرنے کی کوشش مطلق نہیں کی گئی۔
پیارے نبی ﷺ دلوں کو فتح فرماتے تھے ۔ یہ پیارے نبی ﷺ کی رحمدلی ، بندہ نوازی، شفقت و رحمت اور خاص رحمۃ للعالمینی ہی کا اثر تھا کہ فاتح اعظم، پیغمبر رحمت، نبی مہربان حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ نے اپنے تاریخ ساز خطبۂ فتح مکہ میں فرمایا :آج تم پر کوئی ملامت نہیں ، جاؤ کہ تم سب آزاد ہو ۔ یہ تاریخ ساز فرمان درحقیقت دلوں پر حکمرانی کا چارٹر تھا، جس نے آپ ﷺ کو پوری انسانیت کا فاتح اعظم اور تا ابد تاریخ عالم میں دلوں کا فاتح بنادیا۔
رسول اللہﷺ نے قریش کے ان تمام جرائم کو معاف کر دیا تھا جو انہوں نے آپ ﷺ کے مقابلے میں کئے تھے، البتہ اس عام معافی سے چند مجرموں کو مستثنی قرار دیا گیا اور نام لے لے کر حکم دیا گیا کہ انہیں قتل کردیا جائے، خواہ وہ غلاف کعبہ میں چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ملیں، ان لوگوں میں عکرمہ ابن ابی جہل کا نام سرفہرست تھا، اس لئے اپنی جان کے خوف سے وہ چھپ کر مکہ سے نکلا اور یمن کی طرف چل پڑا کیونکہ اس کے علاوہ اسے کسی دوسری جگہ پناہ ملنے کی امید نہ تھی۔
عکرمہ فرار ہو کر کشتی پر سوار ہوئے، تو انہیں آندھی نے گھیر لیا، لوگوں نے کہا:" سب لوگ خالص اللہ کو پکارو اس لیے کہ تمہارے یہ باطل معبود تمہیں یہاں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔" عکرمہ نے کہا:" اللہ کی قسم! اگر سمندر سے مجھے سوائے توحید خالص کے کوئی چیز نہیں بچا سکتی تو خشکی میں بھی اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچا سکتی، اے اللہ !مجھ پر عہد ہے اگر میں یہاں سے صحیح سلامت نکل گیا تو میں محمد ﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دوں گا اور میں آپ ﷺ کو ضرور رؤف و رحیم پاؤں گا۔"(سنن نسائی)
عکرمہ کی بیوی ام حکیم اور ہند بنت عتبہ اور دوسری عورتوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے بیعت کرنے کے ارادے سے آپ کی قیام گاہ پر پہنچیں۔ عکرمہ کی بیوی ام حکیم کھڑی ہوئی، اس نے پہلے تو اپنے اسلام کا اظہار کیا ۔یہ نہایت سمجھ دار ‘ ذہین خاتون تھیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں عرض کرتی ہے: عکرمہ آپ کے ڈر سے یمن بھاگ گیا ہے ۔ اسے قتل ہونے کا اندیشہ ہے ۔
آپ از راہ ِکرم اسے معاف فرما دیں اور امان بھی عطا کر دیجیے۔"اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اسے ہماری طرف سے امان ہے۔‘‘ ام حکیم نے اللہ کے رسول ﷺ سے اپنے خاوند کے لیے امان حاصل کر لی تواس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی تلاش کے لیے یمن کی طرف روانہ ہوگئیں۔ ام حکیم نے تہامہ کے ساحل پر عکرمہ کو ڈھونڈ لیا ۔ وہ عکرمہ سے واپسی کے لیے اصرار کر رہی ہیں، مگر عکرمہ ہے کہ انکار کر رہا ہے، ڈر رہا ہے، اپنے انجام سے خوف زدہ ہے کہ کہیں مکہ مکرمہ میں اسے قتل نہ کر دیا جائے۔
ام حکیم اپنے شوہر کو یقین دلا رہی ہیں:"میں نے بذاتِ خود نبی کریم ﷺ سے گزارش کی ہے تو انہوں نے تمہارے لیے معافی کا اعلان فرمایا ہے اور تمہاری تمام سابقہ غلطیوں کو معاف کردیا ہے ۔ تم میرے ساتھ مکہ مکرمہ چلو، تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ "عکرمہ کو یقین آگیا، اس کی بیوی واقعی درست کہہ رہی تھی ، وہ واپس مکہ مکرمہ آنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔عکرمہ اور ان کی بیوی ام حکیم دونوں قریش کی شاخ بنو مخزو م کے معزز افراد تھے۔
ان کے مکہ مکرمہ پہنچنے کی خبر پہلے سے پہنچ چکی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ ان کا استقبال کس طرح کر رہے ہیں؟ جب عکرمہ مکہ کے قریب پہنچا رسول الله ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا: عکرمہ ابن ابی جہل بہت جلد ایک مومن ومہاجر کی حیثیت سے تمہارے پاس پہنچنے والا ہے، اس کے باپ کو برا مت کہنا مردے کو برا کہنے سے زندوں کو اذیت پہنچتی ہے اور میت کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔(تاریخ طبری، جلد11، ص 501)
آپ ﷺ انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اس طرح لپکتے ہیں کہ آپ ﷺکی چادر مبارک کندھوں سے گر جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس قدر جلدی سے آگے بڑھے کہ چادر مبارک کندھوں سے گر گئی۔ ایک روایت کے مطابق اس قدر جلدی سے آگے بڑھے کہ چادر اوڑھنے کی بھی پروا نہ کی۔ انھیں فرما رہے ہیں:خوش آمدید اے مہاجربن کر آنے والے سوار!" (تاریخ الخمیس، جلد2، ص 92)
عکرمہ کو اس پرتباک استقبال پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں اتنا بڑا مجرم‘ میں نے اور میرے باپ نے اسلام کی راہ میں کتنے روڑے اٹکائے، میں نے تو بے حساب مال کفر کی مدد کے لیے خرچ کیا اور میرا اس طرح استقبال! عکرمہ کی آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتر چکی ہے۔ آپ ﷺ کا اعلیٰ اخلاق، آپ کا حسنِ سلوک اور عفو و در گزر جو سنا تھا اسے دیکھ چکا ہے۔ وہ آپ ﷺسے بے حد متأثر ہوا ہے۔
عکرمہ بے یقینی کے عالم میں اپنی بیوی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے:"اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ ﷺ نے مجھے امان دی ہے؟"آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس نے سچ کہا ، تمہیں امان حاصل ہے۔‘‘عکرمہ کی غلط فہمی دور ہو گئی۔ اب وہ پوچھ رہا ہے: یہ بتائیے کہ آپ ﷺکی دعوت کیا ہے اور آپ کس طرف بلاتے ہیں؟ آپ ﷺفرما رہے ہیں"’’میں دعوت دیتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ "
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی مدد کے لیے صحابہ کرامؓ کو چن لیاتھا ، جو خاتم النبیین ﷺ کے پسینے کی جگہ اپنا خون بہانابڑی سعادت سمجھتے تھے۔ طلوع اسلام سے فتح مکہ اوربعدتک ان کا ایمان ہرکسوٹی پر پورا اترا تھا۔اسلام کی عظیم برکتیں ہر سو پھیل گئیں ۔ فتح مکہ سے قبل وہی قبائل جو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے گروہ در گروہ اسلام قبول کرنے لگے۔
صحابہ کرام ؓنے اسلام کے پاکیزہ پیغام کو ساری دنیا میں پہنچانے کے لئے سر پرکفن باندھ لیا، اور یوں اسلام کا پیغام گھر گھر اور امت کے ہر فرد تک پہنچا۔ " فتح مکہ " کا پیغام رواداری، امن و سلامتی ، عفو و درگزر، ایثار و مہربانی اور حقیقی معنی ٰ میں دلوں پر حکمرانی ہے اور اسلام کا یہ پیغام آج بھی دنیا کے ہر انسان کے دل پر دستک دے رہا ہے۔ یہ پیغام اس حقیقت کی ترجمانی ہے کہ اسلام امن و سلامتی کا ترجمان اور ایک آفاقی پیغام ہے ، جو ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہے۔