• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خون یا پیشاب ٹیسٹ کی بوتل پر متعلقہ افراد کے نام لکھنا

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: مسلمانوں کے نام عموماً اللہ تعالیٰ، انبیائے کرام علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ناموں پر مشتمل ہوتے ہیں، لیکن جب ہم میڈیکل ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری جاتے ہیں تو مریض کا نام پرچی پر لکھ کر ٹیسٹ کی بوتل پر لگایا جاتا ہے، جب کہ بوتل کے اندر کبھی خون اور کبھی پیشاب یا پاخانہ بھی ہوتا ہے، کیا مسلمانوں کے نام ٹیسٹ کی ان بوتلوں پر لکھنا جائز ہے؟

اس میں گستاخی اور بے ادبی کا پہلو ہوگا یا نہیں؟ عربی رسم الخط یا رومن رسم الخط میں لکھنے سے کیا حکم میں فرق ہوگا؟ خصوصاً غیر مسلم ممالک کے اعتبار سے بھی بتائیے کہ وہاں اس مسئلے کے حکم میں فرق ہوگا؟ یہ بھی ملحوظ رہے کہ اس کا متبادل بھی موجود ہے کہ شناخت کے لیے نمبروں یا کوڈ کا استعمال کیا جائے، جسے ”نیو مریکل“ کہا جاتا ہے۔

جواب: جس بوتل میں پیشاب، خون یا اس کے علاوہ کسی بھی قسم کی نجاست ہو، اس پر اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی مقدس ہستی کا نام لکھنا بے ادبی ہے، رسم الخط خواہ عربی ہو یا رومن، اس سے اجتناب ضروری ہے، لہٰذا اگر مریض کا نام کسی مقدس نام پر ہو تو اس کے ٹیسٹ سیمپل پر مریض کی شناخت کے لیے دیگر طریقے مثلًا عددی شناخت (Numerical Identification)، بارکوڈ یا کیو آر کوڈ (QR Code) یا کوئی اور علامت استعمال کی جائے جس میں مقدس نام نہ ہوں۔

مسلم ممالک یا غیرمسلم ممالک میں حکم میں فرق نہیں آئے گا۔ مسلمانوں کو اس معاملے میں حکمت وبصیرت کے ساتھ متعلقہ اداروں اور لیبارٹریز کو اس بہتر متبادل کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ غیرمسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ اگر کسی جگہ مکمل نام لکھوانا ضروری ہو تو پھر اپنے نام کا خود ہی کوئی کوئی مخفف طے کرکے لکھوائیں جس سے کسی قسم کی بے ادبی بھی لازم نہ آئے اور ضرورت بھی پوری ہوجائے۔

نبی اکرمﷺ جب بیت الخلا جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی انگوٹھی جس پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ نقش تھا، اُتار لیا کرتے تھے ۔ (سنن ابی داؤد، ج: 01، ص: 15، ط: دار الرسالۃ العالمیہ، بیروت) اِس حدیث سے یہ مسئلہ مستفاد ہوا کہ بیت الخلا جو نجاست کی جگہ ہے، وہاں جانے والے شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ اپنے جسم سے ہر قابلِ تعظیم شے کو علیحدہ کردے، یہی حکم ہر اس چیز کا بھی ہوگا جہاں نجاست کسی بھی شکل میں پائی جائے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید