آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ہماری مسجد کے پیش امام صاحب ماشاءاللہ ایک صاحب علم جید عالم ہیں اور ساتھ ہی ایک مشہور دینی درس گاہ میں بطورِ استاد خدمات سر انجام دے رہے ہیں، غالبا ۱۲ سال سے وہ ہماری مسجد میں پیش امام ہیں، موصوف ہر جمعہ کو نماز فجر میں سورت "رعد" کی تلاوت فرماتے ہیں اور اس عمل پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور کبھی بھی اس کو تبدیل نہیں کرتے۔ کیا ان کا یہ عمل قابلِ تقلید کہا جاسکتا ہے؟
جواب: آپ کے سوال میں کئی پہلو قابلِ وضاحت ہیں:
1۔ امام صاحب مکمل سورۂ رعد پڑھتے ہیں یا اس کی کچھ مخصوص آیتیں؟
2۔ اگر مخصوص آیتیں پڑھتے ہیں تو بدل بدل کر پڑھتے ہیں یا ایک طرح کی آیات ہی ہر جمعہ کی نمازِ فجر میں پڑھتے ہیں؟
3. اگر ایک طرح کی آیات ہر جمعہ کی نمازِ فجر میں سورۂ رعد کی مخصوص آیات پڑھتے ہیں تو کیا وہ اسے جمعہ کی نمازِ فجر میں لازمی سمجھتے ہیں یا نہیں؟ ان سوالات کے جوابات کے بغیر آپ کے سوال کا جواب دینا اصولی طور پر مشکل ہے۔
تاہم اصولی جواب یہ ہے کہ نماز میں پڑھنے کے لیے کسی سورت کو خاص کرنا اور ہمیشہ اسی سورت کو پڑھنا مکروہ ہے، ہاں اگر دوسری سورتیں یاد نہیں ہوں تو مکروہ نہیں ہوگا، لیکن اگر کسی نماز میں کسی خاص سورت کو متعین نہیں کیا، بلکہ مختلف مخصوص سورتوں میں سے کسی نماز میں کوئی سورت اور کسی نماز میں کوئی اور سورت پڑھتا ہو اور اس تعیین کو ضروری نہ سمجھتا ہو تو یہ مکروہ نہیں ہے۔
بہر صورت امام کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ نماز میں سنت کے مطابق قراءت کرے اور قرآن کریم کی مختلف جگہوں سے پڑھنے کا اہتمام کیا کرے، تاکہ عام مقتدی کسی مخصوص سورت کے پڑھنے کو لازم نہ سمجھ لیں۔
ملحوظ رہے کہ بعض نمازوں میں بعض سورتوں کی تلاوت کا معمول رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے، اگر امام ان سورتوں کو ان نمازوں میں پڑھنے کا وقتًا فوقتًا معمول رکھتا ہے، اور اسے لازم نہیں سمجھتا، بلکہ کبھی دوسری سورتیں بھی پڑھتا ہے، تو یہ نہ صرف درست ہے، بلکہ اتباع کی نیت ہو تو پسندیدہ بھی ہے۔ (کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصّلاۃ، فصل فی القراءۃ،544/1،ط:سعید)
یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر آپ مسجد انتظامیہ میں ہیں یا حکمت کے ساتھ مسئلہ بتا سکتے ہیں تو بہتر! اگر آپ کے مسئلہ بتانے سے نمازیوں میں انتشار ہو تو آپ کو براہِ راست مسئلہ چھیڑنے سے اجتناب کرنا چاہیے!
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk