پروفیسر خالد اقبال جیلانی
حقیقت یہ ہے کہ معراج النبی ﷺ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کے لئے جسمانی و روحانی طور پر ’’رفعنا لک ذکرک‘‘ کا مشاہدہ و نظارہ تھا تو دوسری طرف اسلام کی عالمگیر دعوت کے ارتقاء اور عروج و کامیابی کی نوید بھی تھا۔ اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہجرتِ مدینہ کا حکم الہٰی آگیا۔ رسول اللہ ﷺ جب اہلِ طائف کا یاس انگیز جواب سن کر طائف سے باہر نکل رہے تھے تو دور سے یثرب کی مدہم سی آواز آئی کہ میں ’’مدینہ النبی‘‘ بننے کو حاضر ہوں۔ میں نورِ حق کی مشعل کو اٹھاؤں گا اور ساری دنیا کو روشنی عطا کروں گا۔
میری گود میں نیکی کا نظام پرورش پائے گا اور میری گہواروں میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گی ، گویا طائف قریب تھا اور دور ہوگیا، یثرب دور تھا، مگر قریب آگیا۔ غرض کہ طائف رسول اللہ ﷺ کی ابتلا و آزمائش کا نقطۂ عروج تھا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے واقعۂ معراج کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی دل داری کا سامان کیا اور اس کے بعد ہجرت مدینہ کی شکل میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت و تحریک کے لئے فتح مندی، کامیابی اور عروج و ارتقاء کا ایک نیا دروازہ کھل گیا۔
اگر رسول اللہ ﷺ کی تمام تر جدوجہد مکہ کی تکالیف، طائف کی اذیتیں، پھر معراج یعنی افلاک کی نظر نوازی، آسمانوں پر عزت افزائی اور پھر عرش الہٰی پر دیدارِ الہٰی اور اس کے بعد مکہ کو الوداع کہنا، مدینے کا آپ کو مرحبا کہنا، اسلام کا عروج اس ساری داستان عزیمت و عظمت اور آخر الامر ’’غلبۂ دین‘‘ میں آج مسلمانوں اور عالم اسلام کے لئے، امید اور کامیابی کی ایک نوید ہے۔
عصر حاضر میں امت محمدیہ ﷺ اور اسلام ہر سطح اور ہر جگہ پر جن حالات سے دوچار ہیں، وہ یہی ہیں کہ قدم قدم پر انہیں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ ہر محاذ پر ہزیمت اور شکست ہے، ناکامیاں پوری امت کو گھیرے ہوئی ہیں، عالم اسلام پر عالم کفر اپنے قدم جمانا چاہتا ہے، مسلمانوں کی شہِ رگ معیشت پر ہنود ویہود اور مغربی طاقتیں اپنے پنچۂ استبداد کو گاڑے ہوئے ہیں۔
مقصد ان سب کا ایک ہی ہے کہ مسلمانوں کو کسی بھی طرح دہشت زدہ و مرعوب کر کے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے، جیسا کہ مکہ کے سرداروں اور مشرکین نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ کیا تھا، لیکن اسلام وہ پودا ہے کہ اسے جس قدر کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی جڑیں اس قدر گہری اور مضبوط ہوتی جاتی اور اس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں۔
قرآن کریم نے عہد رسالتؐ کی اس کیفیت کو بہت دل نشین انداز سے بیان کیا ہے کہ’’جن سے لوگوں نے کہا کہ مکہ والے تمہارے مقابلے کے لئے جمع ہوگئے ہیں، لہٰذا تم اُن سے ڈرو تو اس سے ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اللہ ہی کافی ہے اوروہ بہترین کارساز ہے۔‘‘(سورۂ آل عمران : 173)
اس وقت بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے کہ تمام غیر مسلم ایک دوسرے سے گلے مل مل کر اورایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مجتمع ہو رہے ہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہئے، عالم اسلام کی کیا حکمتِ عملی ہونا چاہئے۔ اس سب ظلم و زیادتی کے عالمی ماحول میں ہمیں چاہئے کہ ہم حوصلہ ، ہمت اور متاع گراں مایہ کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیں، جابرانہ عالمی نظام ہماری پست ہمتی اور کم حوصلگی کا ذریعہ نہ ہو، بلکہ مسلم دنیا کے استحصال پر مبنی اس تمام عالمی ماحول اور ریشہ دواینوں میں ہمارا اللہ پر ایمان و یقین اور بھی بڑھ جانا چاہئے، ہم مادی طاقتوں کی کارسازی اور مکرو فریب پر یقین کرنے اور ڈرنے کے بجائے اللہ کی قدرت اور کاسازی پر یقین کریں۔ صبر و استقامت سے ثابت قدم رہیں اور یہ پکار اٹھیں کہ ’’ حسبنا اللہ و نعم الوکیل‘‘۔ اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا کارساز ہے۔‘‘
یادرکھیئے ! جو قومیں او ر امتیں اپنی مرضی سے بہ رضا و رغبت اپنے جان و مال کا اللہ کے ہاتھوں سودا کر لیتی ہیں، جنہیں اللہ کے راستے میں پانے سے زیادہ کھونا اور جینے سے زیادہ مرنا عزیز ہو اسے کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔واقعۂ معراج امت مسلمہ کے لئے دل داری اور طمانیت کا سبق ہے کہ وہ مصیبت اور مایو س سے مایوس کن حالات میں بھی ہمت و حوصلہ نہ ہاریں، بلکہ اس طرح کے استحصال اور استعماریت پر مبنی حالات و واقعات اُن کی ثابت قدمی کو مضبوط سے مضبوط کرتے چلے جائیں۔ دنیا کا لا دینی ماحول اللہ پر ان کے ایمان و یقین کو اور بھی فزوں تر کرتا چلا جائے کہ جیسے رات کی تاریکی سے صبح پھوٹتی ہے اور گرمی اور حبس جب انتہا سے بڑھ جائے تو بارش کی نوید ہوتی ہے۔
بعینہ باطل اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ اور ظہور کے بعد حق ایک نئی قوت و طاقت اور آب و تاب کے ساتھ دنیا کی ظلمتوں پر چھا جاتا ہے، اور عالم کفرکی طاغوتی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس چراغ کواس نوید خداوندی کے باوصف بجھایا نہیں جا سکتا کہ ’’وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کااتمام کر کے رہے گا چاہے کافروں کو یہ بات کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ (سورۂ صف :۸)
یہ ایک آفاقی سچائی ہے کسی گروہ کے لئے سب سے بڑی طاقت اس کا اندرونی حوصلہ اور ہمت مردانہ ہی ہوتی ہے۔ جو قوم اس متاع حیات سے محروم ہو جائے وہ ایک باعزت اور خود دار قوم کی حیثیت سے دنیا کی اقوام میں اپنا وجود کھو دیتی ہے۔واقعۂ معراج کا پیغام اور سبق یہی ہے کہ جہدِ مسلسل ، یقین کامل اور ثبات محکم بالآخر آج بھی امت کو عروج و سربلندی سے سرفراز کرے گی اور آخری غلبہ، اسلام اور عالم اسلام ہی کو حاصل ہوگا۔