• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: کیا آن لائن گیم سے پیسے کمانا صحیح ہے یا غلط؟ جس میں شرط لگائی جاتی ہے، اگر جیت گیا تو ڈبل ملتے ہیں؟

جواب: کسی بھی قسم کا کھیل جائز ہونے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط پایا جانا ضروری ہے، ورنہ وہ کھیل لہو ولعب میں داخل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہوگا:

1۔ وہ کھیل بذاتِ خود جائز ہو، اس میں کوئی ناجائزبات نہ ہو۔

2۔ اس کھیل میں کوئی دینی یا دنیوی منفعت ہو، مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ، محض لہو لعب یا وقت گزاری کے لیے نہ کھیلا جائے۔

3۔ کھیل میں غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو، مثلاً جوا ، تصاویر ، موسیقی وغیرہ۔

4۔ کھیل میں اتنا غُلو نہ کیا جائے کہ شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا ہو۔

حاصل یہ ہے کہ جس گیم میں غیر شرعی امور کا ارتکاب کیا جاتا ہو، مثلاً جان دار کی تصاویر، موسیقی اور جوا وغیرہ ہوں، یا مشغول ہوکر شرعی فرائض اور واجبات میں کوتاہی اور غفلت برتی جاتی ہو، یا اسے محض لہوو لعب کے لیے کھیلا جاتا ہو، اس طرح کا گیم کھیلنا جائز نہیں ہوگا، اور آن لائن/ ڈیجیٹل گیم میں عموماً مذکورہ تمام خرابیاں یا ان میں سے اکثر ہوتی ہیں۔ 

لہٰذا ایسے آن لائن گیم جن میں مذکورہ مفاسد میں سے کوئی خرابی پائی جائے، وہ کھیلنا ہی جائز نہیں ہوگا۔ اور سائل نے شرط لگا کر آن لائن گیم سے پیسے کمانے کا حکم پوچھا ہے، یہ جوئے کی صورت ہے، لہٰذا اس صورت میں اگر گیم میں دیگر خرابیاں نہ ہوں تو بھی جوئے کی وجہ سے یہ گیم کھیلنا اور اس سے کمانا جائز نہیں ہوگا۔ (روح المعانی ، سورۂ لقمان، 11/ 66، ط: دار الکتب العلمیۃ - تکملۃ فتح الملھم، قبیل کتاب الرؤیا، 4/ 435، ط: دارالعلوم کراچی)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید