ڈاکٹر نعمان نعیم
اسلام کا پیغام امن و سلامتی اور انسان دوستی ہے، جو تمام مخلوقات کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر زور دیتا ہے، باہمی احترام اور پُرامن بقا کے اصولوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں امن اور سکون قائم کرنا ہے۔ امن و امان ايک انسانی ضرورت ہے، قرآن مجید میں نعمتِ امن کو اللہ تعالیٰ نے بطور احسان بھی جتلایا ہے، اس لئے امن و امان ايک بہت بڑی نعمت ہے۔
ایک خوشگوار اور کامیاب معاشرے کے لیے امن وسلامتی انتہائی ضروری ہے ،ورنہ اس کے بغیر زندگی کا سکون اور معاشرتی راحت حاصل نہیں ہوسکتی، اس لیے اسلام نے انسانوں کو ہر شعبۂ زندگی میں امن قائم کرنے اور عدل وانصاف سے کام لینے کا حکم دیا۔
آج کا جدید اور ترقی یافتہ دور جو سیاسی، سماجی، معاشی، سائنسی اور علمی میدان میں حد ِکمال کو چھو رہا ہے، اس دور میں بھی دنیا اسی طرح امن و امان کے مسئلے سے دوچار ہے جس طرح آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کا معاشرہ امن اور سلامتی کے مسئلے سے دوچار تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخروہ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں امن و امان ناپید ہے اور ہر سُو بد امنی کا راج ہے؟ اور پھر یہ کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ نے اس کا کیاحل پیش ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ جو دین لائے‘ اس کا نام اسلام ہے، جس کے معنی امن اور سلامتی کے ہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺکا لایا ہوا دین امن اور سلامتی کا دین ہے، جس کے ہر امر اورنہی کے پیچھے امن اور سلامتی کا راز مضمر ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: صحیح معنیٰ میں مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)’’کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے پوری ا نسانیت محفوظ رہے اور کامل مومن وہ ہے جس سے لوگوں کی جان و مال محفوظ رہے۔‘‘( سنن نسائی)
جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ آپﷺ کے لائے ہوئے پیغام ’’اسلام ‘‘ اور آپﷺ کی حیاتِ طیبہ کا اصل مقصد معاشرے کو بلا امتیاز امن و سلامتی فراہم کرنا ہے۔بدامنی کے اسباب اورمعاشرے سے کسی مکروہ چیز کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اسباب و محرکات کو ختم کیا جائے۔
حضورِ اکرم ﷺکی تعلیمات کے مطابق بلا امتیاز ہر انسان کی جان و مال قابلِ احترام ہے، کسی ایک انسان کو ناحق قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے اور کسی ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، جیسے قرآن مجید میں ارشادباری تعالیٰ ہے : ’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا (ناحق)قتل کیا، اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی، اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی۔‘‘ (سورۃ المائدہ)
ایک اور آیت کریمہ میں کسی مؤمن کی جان لینے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی، غضب، لعنت اور دوزخ میں داخل ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے، جیسے اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘۔ (سورۃالنساء ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے کسی غیر مسلم پُر امن شہری کو ناحق قتل کیا، اللہ نے اس کے لیے جنت حرام کردی ہے ‘‘۔ (سنن ابوداؤد)
نبی کریم ﷺنے انسانی جان کے تحفظ لیے نہ صرف اخلاقی تعلیم دی ، بلکہ اس کے لیے قانونِ قصاص و دیت بھی دیا، تا کہ انسانی جان محفوظ رہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺکی پاکیزہ سیرت کے مطابق ہر انسان کی جان قابل احترام ہے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب۔
جب تک کوئی شخص کسی کی جان نہیں لیتا یا زمین میں فساد نہیں پھیلاتا، اس وقت تک نہ ریاست کو کوئی حق پہنچتا ہے اور نہ کسی فرد کو کہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے، لیکن اگر ناحق کسی کی جان لی گئی تو پھر زمین میں فتنے اور فساد کا دروازہ کھل جائے گا۔
بد امنی اور فتنہ و فساد کی دوسری وجہ کسی کے مال پر ناجائز طور پر ہاتھ ڈالنا ہے، پھر وہ مال کسی فرد کا ہو یا کسی قوم کا۔ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺکی تعلیمات یہ ہیں کہ جائز اور قانونی طریقے کے علاوہ کسی بھی طریقے سے دوسروں کا مال نہ کھاؤ۔آپ ﷺ کی لائی ہوئی الہامی کتاب قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے : ’’ اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ باہمی لین دین ہو تمہارے درمیان ایک دوسرے کی رضامندی کے ساتھ۔‘‘ (سنن نسائی)
آپﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اپنے بھائی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر کسی کے لیے کھانا حلال نہیں۔ ‘‘(مسندِ احمدبن حنبل)’’ایک مسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‘‘(صحیح مسلم)تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے اس طرح قابلِ احترام ہیں جس طرح آج کا دن (۹ ذی الحجہ) اور جس طرح یہ مہینہ(ذی الحجہ) اور جس طرح یہ شہر( مکہ مکرمہ)۔‘‘ (صحیح بخاری)
آپﷺ کی پاکیزہ سیرت اور تعلیمات کے مطابق رشوت، غبن، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی بیشی، دھوکا و فریب، حرام اور ناجائز چیزوں کا کاروبار،ناجائز قبضہ، لوٹ کھسوٹ، جوا، سود اور چوری وغیرہ ،مال و دولت حاصل کرنے کے ناجائز ذریعے ہیں۔
اگر ان ذرائع سے روزی حاصل کی گئی تو معاشرے میں فتنہ اور فساد برپا ہو جائے گا اور ملک سے امن و سکون چلا جائے گا۔ اس لیے امن و سلامتی کے پیغمبر ﷺنے ان سب ذرائع سے روزی حاصل کرنے کو حرام اور ناجائز قرار دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺنے فرمایا : ’’ جس بندے کا گوشت حرام مال سے پروان چڑھا، اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘(الترغیب والترھیب)
تیسری اہم بات جس کی وجہ سے دنیا میں فتنے اور فساد برپا ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالا جائے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہر شخص قابِل احترام ہے، چاہے وہ حاکم ہو یا محکوم، مرد ہو یا عورت، مسلم ہو یا غیر مسلم، استاد ہو یا شاگرد، امیر ہو یا غریب، افسر ہو یا ماتحت، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ، ہر ایک معاشرے میں عزت و وقارکا مستحق ہے۔
ہمارےمعاشرے کی بد قسمتی یہ ہے کہ آج کے اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں بھی قدیم جاہلیت کی رسمیں جاری ہیں۔ آج کے اس جدید اور ترقی یافتہ انسان کے لیے آپ ﷺکی پاکیزہ سیرت اور تعلیمات میں وہی ہدایت اور ہبری موجود ہے جو چودہ سو سال پہلے والوں انسانوں کے لیے تھی۔
چوتھا اہم سبب جس کی وجہ سے دنیا میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جائے۔ انسانی تاریخ میں حضورِ اکرم ﷺ وہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے تنگ نظری اور تعصب زدہ معاشرے میں مذہبی وفکری آزادی کا علم بلند کیا اور اس سلسلے میں جبر واکراہ کو فتنہ وفساد قرار دیا اور اپنی تعلیمات میں مذہبی و فکری جبر سے سختی کے ساتھ روکا، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : ’’دین میں جبر درست نہیں، ہدایت گمراہی سے الگ اور واضح ہو چکی ہے‘‘(سورۃالبقرہ)
آپ ﷺ نے اس حوالے سے نہ صرف جبر و اکراہ کو ممنوع قرار دیا، بلکہ ہر ایسے رویے سے روکا جس کی وجہ سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں کسی بھی مذہبی پیشوا یا مذہبی شخصیت کو برا بھلا کہنا ناجائز ہے، کیونکہ اس سے دو مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے، فتنے اور فساد کا اندیشہ ہے، جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں برا بھلا مت کہنا، ورنہ وہ دشمنی اور نادانی کی وجہ سے اللہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں گے۔ ‘‘ (سورۃ الانعام)
دنیا میں امن و سلامتی کو قائم رکھنے اور فتنہ اور فساد سے بچنے کے لیے آپ ﷺنے جو تعلیمات اور پاکیزہ سیرت ہمارے لیے چھوڑی ہیں،انسانی تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ آج ہمارے معاشرے میں جو بدامنی، بے چینی، فتنہ و فساد برپا نظر آتا ہے وہ دراصل نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے دوری کا نتیجہ ہے۔ آپ ﷺنے اس حوالے سے ایک اصولی ہدایت دی تھی: ’’لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو تو کامل مسلمان بنو گے۔‘‘ (جامع ترمذی)
ہر شخص اپنی جان، مال اور عزت و آبرو کا تحفظ چاہتا ہے اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اُسے مذہبی وفکری آزادی ہو اور ہر شخص اپنے وطن کی آزادی وخودمختاری چاہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کے لیے بھی وہی سوچ رکھے اور ان کے ساتھ اسی رویے سے پیش آئے جس کی دوسروں سے توقع رکھتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کے حکمرانوں سے لے کر عوام تک اور عوام سے لے کر خواص تک ہر ایک خاتم الانبیاءﷺ کی پاکیزہ سیرت کو اپنے لیے نمونۂ عمل سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ اسی طریقے سے دنیا سے بدامنی اورفتنہ و فساد ختم کیا جا سکتا ہے اور امن و سلامتی کی فضا پیدا کی جا سکتی ہے۔
اسلام نے امن وامان کا جو تصور دیا اور اس کے متعلق جو ہدایات اور تعلیمات دی ہیں اس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی، نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات سے عملی طور پر امن وامان کا نمونہ بھی انسانوں کے سامنے پیش کیا اور ہر شعبہ زندگی سے متعلق واضح ارشادات سے نوازا۔
خوش خلقی ،ایثارووفاداری، انسانی ہمدردی، انسانیت نوازی، عفو ودرگزر،صلہ رحمی وحسن سلوک وغیر ہ بے شمار قیمتی اور عظیم الشان تعلیمات سے اس امت کو نواز کر امن عالم کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ڈالی اور یہ حقیقت ہے کہ اسلام ہی نے دنیا میں امن وامان قائم کیا اور اس کے ماننے والے پوری دنیا میں ِ امن وسلامتی کے پیکر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے اسلام کی سنہری تعلیمات کو عام کیا جائے۔