• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذاتی ملاقاتوں میں شیر و شکر، مہرباں اور قہقہے لگاتے سیاستدان

اسلام آباد (فاروق اقدس) ذاتی ملاقاتوں میں شیروشکر، مہرباں اور قہقہے لگاتے سیاستدان، ایوان اور پریس کانفرنسوں میں الزامات کی شعلہ بیانی ،پارلیمنٹ کی غلام گردش میں خواجہ آصف ،بیرسٹر گوہر کی خوشگوار ملاقات ،قومی سیاست میں جہاں اختلافی سوچ اور متصادم سیاسی موقف اور نظریات رکھنے والے سیاستدانوں( اہم راہنما اور قائدین ) کیمروں کے سامنے مختلف پلیٹ فارمز پر خواہ وہ پارلیمان کے ایوان ہوں، کوئی پریس کانفرنس یا کسی تقریب میں خطاب، ایک دوسرے کے خلاف کس طرح شعلہ بیاں نظر آتے ہیں یہ مناظر کم وبیش روز ہی دیکھنے میں آتے ہیں جبکہ ایوان میں بعض مواقعوں پر یہی سیاستدان آپس میں دست وگریباں ہوتے بھی دکھائی دیتے ہیں لیکن کیمروں کی عدم موجودگی میں یہی سیاستدان جب غیر رسمی گفتگو خوشگوار ،جملوں کے تبادلے ،پرجوش معانقے کرتے اور قہقہے لگاتے دکھائی دیتے ہیں تو اس طرز سیاست پر تعجب ہی نہیں بلکہ سیاسی رویوں کی دو عملی پر اس وقت دکھ بھی ہوتا ہے جب اگلے ہی روز وہ ایک دوسرے پر الزامات اور کردار کے حوالے سے لرزہ خیز انکشافات کرتے ہوئے اخلاقیات کے تمام تقاضے فراموش کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے کچھ منظر ٹی وی ٹاک شوز اور ہمارے پارلیمانی ایوانوں میں بھی دیکھنے میں آتے ہیں جب ایوان میں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے کے بعد قہقہے لگاتے ہوئے ایک ہی ٹیبل پر چائے پیتے دکھائی دیتے ہیں اور شیروشکر ہونے والے ماضی کے حریف سیاستدانوں نے ماضی میں ایک دوسرے کے خلاف کیا کچھ کہا اور کیا وہ سب کچھ کہیں نہ کہیں محفوظ ضرور ہوتا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید