• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ طاس معاہدے میں ورلڈ بینک کا کلیدی کردار تھا، مہر علی شاہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ) انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں ورلڈ بینک کا کلیدی کردار تھا، قانونی طور پرپاکستان کا مکمل یا جزوی پانی بند کرنے کی قطعی طور پر کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق کہا کہ 14اگست 1947کے بعد چند مہینوں میں 31مارچ 1948جو پاکستان کے اندر آنے والی نہریں ہیں دریائے ستلج اور دریائے راوی میں ہیں جن کے ہیڈورک ہندوستان کی طرف دے دیئے گئے تھے اس تقسیم کے نتیجے میں ان کے پانی کو ہندوستان نے بند کردیا تھاپھر پاکستان نے اس پر بھرپور احتجاج کیا اور اس معاملے کو فوری طور پر اقوام متحدہ میں لیکر گیاپھر دونوں ملکوں کے درمیان ایک ڈائیلاگ شروع ہواجومنتج ہوا 1960کے معاہدہ سندھ طاس میں ،سندھ طاس معاہدے میں ایک کلیدی کردار ورلڈ بینک نے ادا کیا ۔اس معاہدے میں دنیا کے قانونی ماہرین کو بٹھایا گیااور تمام موضوعات کا احاطہ کیا گیا،تنازعات سے بچنے کیلئے تینEaster Reward ہیں یعنی دریائے ستلج ،دریائے بیاس اور دریائے راوی اس پر پارٹیز آپس میں معاہدہ کریں بالخصوص پاکستان اور ان کا مکمل پانی جو کہ ٹوٹل 172ملین ایکڑ فٹ جو سالانہ اوسط ہے اس میں سے 34ملین ایکڑ فٹ ان تین دریاؤں کا پانی ہے وہ پانی ہندوستان کے حوالے کردیا جائے اور پاکستان اس کے اوپر اگر کوئی پانی استعمال کر بھی رہا تھا تو وہ معاہدے کی successful conclusion کیلئے اپنے رائٹ کو فورگو کریں سلینڈر کردے In Fever of india اور انٹرل پاکستان کو یہ گارنٹی دی جائیگی جو تینEaster Reward ہیں انڈس اور جہلم اور چناب ان تین دریاؤں کا پانی پاکستان کو UnRestrictاستعمال کرنے دیا جائے گا۔سید مہر علی شاہ نے جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جو تین Easter Reward ہیں ان کی سیٹنگ قدرتی طور پر جغرافیائی اس طرح سے ہے وہ ماؤٹین میں سے نکلتے ہیں وہ پلینکز میں انٹر ہوتے ہیں تو اس وقت وہ ٹریٹلی انڈیا کے پاس ہوتی ہے ،جب دریا پہاڑی علاقوں سے نکلتے ہیں تو آگے میدانی علاقے شروع ہوتے ہیں ۔

ملک بھر سے سے مزید