• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تین ماہ سے پاک، افغان زمینی راستے بند، سینکڑوں پاکستانی طلبہ، تاجر واپسی کے منتظر

سپین بولدک( نیوز ڈیسک)پاکستان اور افغانستان کے درمیان زمینی سرحدی راستے بند ہوئے تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں جس کے باعث سینکڑوں پاکستانی طلبہ، تاجر اور خاندان افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طلبہ کے ایک نمائندے نے بتایا کہ صرف صوبہ ننگرہار میں ہی پانچ سے چھ سو پاکستانی طلبہ ایسے ہیں جو کسی طرح وطن واپس جانا چاہتے ہیں۔افغان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 25سالہ میڈیکل کے طالب علم شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بہت یاد کرتے ہیں، صرف صوبہ ننگرہار میں ہی پانچ سے چھ سو پاکستانی طلبہ ایسے ہیں جو کسی طرح وطن واپس جانا چاہتے ہیں، افغان یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 25 سالہ میڈیکل کے طالب علم شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے والدین اور رشتہ داروں کو بہت یاد کرتے ہیں،سردیوں کی چھٹیوں میں پاکستان میں اپنے اہلِ خانہ سے ملنا چاہتے تھے، تاہم 12 اکتوبر سے سرحد بند ہونے کے باعث وہ واپس نہیں جا سکے۔

ملک بھر سے سے مزید