• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شادی شدہ خواتین کو فضا علی کی نصیحت، نیا تنازع کھڑا

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پاکستانی اداکارہ و میزبان فضا علی کا کہنا ہے کہ شوہر پورا دن محنت کرتا ہے لیکن بیویاں اپنی تیز زبان سے انہیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔

فضا علی رواں سال نجی چینل پر رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کر رہی ہیں۔

دورانِ رمضان ٹرانسمیشن انہوں نے شوہروں کے حقوق کے موضوع پر بات چیت کی اور کہا کہ خواتین کے حقوق پر تو ہر کوئی بات کرتا ہے لیکن کوئی مردوں کے حقوق کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا، ان کے مسائل پر کوئی بات نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے نہ کے حقوق کی جنگ میں پڑنا ہے لیکن خواتین اپنی تیز زبان سے اپنے شوہروں کو تکلیف پہنچاتی ہیں۔

فضا علی نے شادی شدہ خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے شوہروں کا احترام کریں، مردوں کو اللّٰہ تعالیٰ نے کفیل و سرپرست بنایا ہے اور ان کا احترام لازم ہے۔

شو کے دوران ایک خاتون کالر نے اپنا دکھ بیان کیا اور کہا کہ میں 28 سال کی ہوں، میرے 3 بچے ہیں، اپنے گھر اور بچوں کو میں اکیلی سنبھالتی ہوں، شوہر نہ کماتا ہے نہ بچوں کو سنبھالتا ہے، بلکہ ذہنی تشدد کرتا ہے، جب معاشرے میں میرے شوہر جیسے مرد موجود ہیں تو آپ پھر شوہروں کے احترام کا پرچار کیسے کر سکتی ہیں؟

اداکارہ نے کالر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر کیس، سب کی زندگی مختلف ہوتی ہے، لیکن عورت کو پھر بھی شوہر کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ اللّٰہ نے اسے یہ حق دیا ہے، آج کی خواتین جب پیسہ کمانا شروع کر دیتی ہیں تو خود کو مردوں کے برابر سمجھنے لگ جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات کیسے بھی ہوں عورت کو اپنے شوہر کی عزت کرنا چاہیے خواہ وہ بدحالی میں ہی کیوں نہ رہ رہی ہو، کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

فضا علی کا یہ کہنا ہی تھا کہ ان کے پروگرام کے مخصوص ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے اور نئی بحث چھڑ گئی۔

سوشل میڈیا صارفین فضا علی کے مشورے پر انہیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ انہوں نے خود اسی نوعیت کے مسائل کے سبب اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

ایک صارف نے سوال کیا کہ جب وہ اپنے سابق شوہر کے مزاج میں تبدیلیاں برداشت کر سکتی تھیں تو انہوں نے خود دو بار طلاق کیوں لے لی؟

ایک صارف نے لکھا کہ اسلام میں مرد کو محافظ بنایا گیا ہے، باس نہیں۔

بعض صارفین کے مطابق سب کا یکساں احترام کیا جانا چاہیے جبکہ بعض صارفین اداکارہ سے ٹی وی پر آ کر اس طرح کے بیانات دینے سے گریز کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں تو بعض اسے سستی شہرت کا طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید