کراچی (نیوزڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سیکرٹری برائے ہوم لینڈ سیکورٹی کرسٹی نوم نے گزشتہ روز ایلسواڈور میں جیل کا دورہ کیا تاہم سوشل میڈیا پر کرسٹی نوم پر اس وقت تنقید شروع ہوئی جب انہوں نے سلاخوں کے سامنے کھڑے ہوکر پیغام ریکارڈ کرایا اور غیر قانونی تارکین وطن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ غیر قانونی طور پر امریکا آئیں گے تو یہی انجام ہوگا ، اس موقع پر انہوں نے 50ہزار ڈالر (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے ) مالیت کی سونے کی ایک قیمتی رولیکس کاسموگراف ڈےٹونا گھڑی پہن رکھی تھی ۔ اس چمکدار گھڑی نے قیدیوں کی سخت زندگی اور جیل کی سختیوں کے پس منظر میں نمایاں تضاد پیدا کیا۔کرسٹی نوم نے قیدیوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہا، "اگر آپ ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر آئیں گے، تو یہ ان نتائج میں سے ایک ہے جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر تنقید کی، بعض نے کہا کہ ایک عام آدمی کی نمائندگی کرنے والی حکومت کی وزیر کا اتنی مہنگی گھڑی پہننا مناسب نہیں۔ ایک وکیل نے تبصرہ کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ حکومتی عہدیدار عام لوگوں کی طرح ہوں جبکہ وہ اس قدر مہنگی اشیاء استعمال کرتے ہیں؟ اس تنقید کے جواب میں، ہوم لینڈ سیکورٹی کی ایک عہدیدار نے وضاحت کی کہ کرسٹی نوم نے یہ گھڑی اپنی کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی ہے اور وہ اسے اپنے بچوں کو وراثت میں دینا چاہتی ہیں۔