کراچی(نیوز ڈیسک/رضا چوہدری / نمائندہ جنگ)ذرائع کے مطابق،انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کو فرانس کے2027کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے والی جج کو جان سے مارنے کی دھمکیوں اور ان کے گھر کا پتہ آن لائن شیئر کرنے کے بعد پولیس نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ تین ججوں کے پینل کی سربراہ بینیڈکٹ ڈی پرتھوئس کے گھر کا پتہ پیر کو فیصلہ سنانے کے بعد آن لائن شیئر کیا گیا، جنہوں نے میرین لی پین کو یورپی یونین کے فنڈز میں خوردبرد کی قصوروار پایا اور ان پر عوامی عہدہ حاصل کرنے پر پانچ سال کی پابندی عائد کی، انہیں اب پولیس کا تحفظ حاصل ہے۔ میرین لی پین نے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور جتنی جلدی ممکن ہو سکا اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی، جس کا مقصد ان کو صدارتی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال 2027 کی دوڑ سے باہرہوگئی ہیں ، لیکن اپنے مستقبل کے لیے لڑتی رہیں گی۔جج بینیڈکٹ ڈی پرتھوئس کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں بھی موصول ہوئیں، ان کی تصویر ایکس اور انتہائی دائیں بازو کی سائٹوں پر لگی ہوئی تھی۔پیرس پولیس نے تصدیق کی کہ دھمکیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ واضح ہو کہ فرانس کی ایک عدالت نے پیر کوفرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کو یورپی فنڈز میں خوردبرد کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 4 سال قید اور ایک لاکھ یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے، جبکہ 5 سال تک کوئی عوامی عہدہ رکھنے یا اس کے لیے انتخاب لڑنے پر پابندی بھی عائد کردی ۔اوڈوکسا کے رائے شماری کے مطابق،میرین لی پین کی نیشنل ریلی کے تقریباً 90 فیصد حامیوں کا خیال ہے کہ عدالت نے ان کے ساتھ دیگر سیاست دانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت سلوک کیا، جب کہ نصف سے زیادہ فرانسیسی عوام کا خیال ہے کہ ا ن کا منصفانہ ٹرائل ہوا ۔مذکورہ فیصلےسے پہلے میرین لی پین 2027 کے انتخابات میں سب سے آگی تھیں۔ انہوں نے اور اندرون و بیرون ملک ان کے اتحادیوں نے فرانسیسی اسٹیبلشمنٹ پر ان کے صدارتی عزائم کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججوں نے سیاست میں مداخلت کرکے جمہوریت کے لیے بحران پیدا کیا ہے۔میرین لی پین نے عدلیہ کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کی تردید اور بینیڈکٹ ڈی پرتھوئس کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے اپنی سزا کو کالعدم کرنے کے لیے قانونی ذرائع استعمال کرنے کا عزم کیا ہے۔وزیر انصاف جیرالڈ ڈرمینین، جنہوں نے دھمکیوں کی مذمت کی، اور اعلیٰ کونسل برائے عدلیہ سمیت جج بینیڈکٹ ڈی پرتھوئس اور ان کے ساتھیوں کی سیاسی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔قامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانسیسی عدالت کا فیصلہ 56 سالہ لی پین کے لیے ایک تباہ کن دھچکا ہے، نیشنل ریلی (آر این) پارٹی کی سربراہ یورپی انتہائی دائیں بازو کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں اور فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات میں سب سے آگے ہیں۔اس فیصلے کے فرانس کی سیاست پر وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی جانشینی کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے اور کئی ماہ کے مسلسل بحرانوں کے بعد کمزور ہونے والی ان کی کمزور اقلیتی حکومت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔اس سے دائیں بازو کے رہنماؤں میں غیر منتخب ججوں کے مینڈیٹ میں مداخلت پر بڑھتے ہوئے عالمی غصے میں اضافے کا بھی امکان ہے۔