• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اللہ تعالیٰ کے حضور مناجات اور توبہ و استغفار کی فضیلت و اہمیت

مفتی غلام مصطفیٰ رفیق

انسان بنیادی طور پر خیر و شر کا مجموعہ ہےاس میں شر کی طاقتیں دو ہیں، ایک انسانی نفس، یہ اندرونی اور دوسرا شیطان، یہ بیرونی طاقت ہے، یہ دونوں طاقتیں انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتی ہیں، اس لیے اس دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان سے کچھ نہ کچھ غلطیاں اور گناہ صادر ہوجاتے ہیں ،کیوں کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ 

سوائے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، ان سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوتا، نبوت سے پہلے بھی اور نبوت کے بعد بھی انبیاءؑ کی جماعت معصوم ہوتی ہے، یہ معزز گھرانے کے افراد ہوتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ان کا بطور خاص انتخاب فرماتا ہے ،یہ ہمارا متفقہ عقیدہ ہے۔

انبیاءکی تخلیق ہی ایسی ہے کہ وہ ان دونوں شر کی طاقتوں سے محفوظ ہوتے ہیں، انہیں جو نفس عطا کیاجاتا ہے، وہ نفس مطمئنہ ہوتا ہے، جس میں طبعی طور پر ہر گناہ اور معصیت سے نفرت ہوتی ہے اور خالص عبادت اور رضا اس نفس میں مجتمع ہوتی ہے، اور شیطان کے تسلط اور غلبہ سے وہ محفوظ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا ہر قول اور فعل نفسانی خواہش اور شیطانی تسلط سے پاک ہوتاہے ۔حتیٰ کہ حالت نوم میں بھی ان کا دل بیدار رہتا ہے، اور ان کا مزاح بھی اتنا پاکیزہ ہوتا ہے کہ حق کے دائرے سے باہر نہیں ہوسکتا۔

توبہ و استغفار کی فضیلت :۔ جب انسان خطا کا پتلا ہے تو ان خطاؤں کےازالے کے لیے قرآن کریم نے ہدایت دی اور رہنمائی کی ، چنانچہ سورۂ آل عمران کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے کچھ بندے ایسے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ ’’اگر کبھی کوئی گناہ کاکام ان سے ہوجاتا ہے، یا ان سے کوئی گناہ ہوجاتا ہے (یعنی وہ اپنے اوپر ظلم کرلیتے ہیں )تو فوراً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور وہ اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگنے لگ جاتے ہیں، استغفار کرتے ہیں ، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو؟ اور یہ لوگ کبھی جان بوجھ کر اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے ‘‘۔

اس آیت میں اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کسی سے گناہ سرزد ہوجائے تو اسے چاہیے فوراً اللہ کو یاد کرے، ایسے لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ،یہ لوگ گناہ کے بعدفوراً توبہ اور استغفار کرنے لگتے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ، گناہوں پر جمتے نہیں ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ مغفرت اور دخول جنت سے نوازے گا۔

امام ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو شیطان رونے لگا اور شیطان نے کہا:اے میرے رب، تیری عزت وجلال کی قسم! جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں رہیں گی اور وہ زندہ رہیں گے، میں انہیں گمراہ کرتا رہوں گا، تو اللہ نے فرمایا: میری عزت وجلال کی قسم! جب تک میرے بندے مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے ،میں مسلسل ان کو بخشتا رہوں گا۔

احادیث میں نبی کریم ﷺنے استغفار کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ایک حدیث میں رسول کریم ﷺفرماتے ہیں : جو شخص استغفار کی کثرت کرتا ہے، یعنی ہمیشہ استغفار کرتا رہتا ہے، مسلسل استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر تنگی اور پریشانی سے اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو غم سے نجات اور رہائی نصیب فرماتا ہے اور اس آدمی کو اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے روزی پہنچاتا ہے کہ اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اسے معلوم بھی نہیں ہوتا ایسی جگہ سے اللہ اسے رزق عطا فرماتا ہے۔

یہ حدیث ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ ہم کثرت سے چلتے پھرتے ،اپنے کاموں میں مشغول ہوں، تب بھی استغفار کرتے رہیں،اور اس کے تین بڑے فائدے اس حدیث میں پیارے رسول کریم ﷺنے ہمیں بتائے ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ استغفار کی برکت سے اللہ ہمیں پریشانیوں سے بچائےگا اور اگر کوئی آدمی کسی پریشانی میں مبتلا ہوگا ،اللہ تعالیٰ اس پریشانی سے اسے نکال دے گا۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ ہر غم سے اللہ ہمیں نجات عطا فرمائے گااور تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی جگہ سے روزی دے گا، جہاں ہمارا گمان بھی نہیں ہوگا، غیب کے خزانوں سے ہمیں اللہ تعالیٰ روزی عطا فرمائے گا۔

نبی کریم ﷺکا استغفار کی کثرت کرنا:۔ نبی کریم ﷺتو تمام گناہوں سے معصوم تھے، پھر بھی آپ ﷺکثرت سے استغفار کرتے تھے ، چنانچہ حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو (پہلے) تین مرتبہ استغفار کرتے اور (پھر) یہ دعا پڑھتے: اللّٰھُمّ انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الاکرام۔ " (صحیح مسلم)

مسلم شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب سورۂ نصر نازل ہوئی توآپ ﷺبکثرت’’ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ‘‘ پڑھتے تھے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس حدیث پر عمل کریں اور نمازوں کے بعد ’’ أَسْتَغْفِرُ اللَّه‘‘پڑھنے کا اہتمام کریں۔

ایک دوسری حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :اللہ کی قسم ! میں دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا اور توبہ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری)

آپ ﷺ اتنی کثرت سے استغفار کرتے ، اس سے مقصود امت کو ہمیں استغفار وتوبہ کی ترغیب دلانا تھا کہ آنحضرت ﷺ باوجودیکہ معصوم اور تمام مخلوقات سے افضل ہیں، پھر بھی جب آپ ﷺ نے دن میں ستر بار توبہ واستغفار کی تو امت کے گناہ گاروں کو بطریق اولیٰ استغفار وتوبہ بہت کثرت سے کرنی چاہئے۔

استغفار کے کلمات:۔ اب استغفار کن کلمات یعنی کن الفاظ سے کرنا چاہیے ، اس کے لیے احادیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں ، جس بندے کو جو یاد ہوں وہ کلمات استغفار کے پڑھتے رہنا چاہیے۔

ایک کلمہ استغفار کا "أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَىُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ "ہے جسے یہ یاد ہو، یہ پڑھتارہے ۔

ایک کلمہ " أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ رَبِّي مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ " ہے، یہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور جسے یہ یاد نہ ہوں تو ’’أَسْتَغْفِرُ اللّٰه‘‘،’’أَسْتَغْفِرُ اللّٰه‘‘ہی پڑھتا رہے۔یہ مختصر کلمہ ہر مسلمان کو یاد ہوتا ہے، اسے پڑھتے رہنا چاہیئے ، اسے زبان پر ہر وقت جاری رکھیں اللہ تعالیٰ ہمیں استغفار کی تمام فضیلتیں عطا فرمائیں گے۔

توبہ کی فضیلت و اہمیت:۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ہر انسان خطا کار ہے، یعنی ہر انسان گناہ کرتا ہے ،کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے، اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ یعنی جن لوگوں سے گناہ ہوگیا اور انہوں نے اپنے گناہ سے توبہ کرلی، یہ سب سے بہترین لوگ ہیں۔ اگر انسان گناہ سے توبہ نہیں کرتا بلکہ بار بار گناہ کرتا رہتاہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔

اس لیے حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا : جب کوئی بندۂ مومن یعنی مسلمان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ اس گناہ سے توبہ کر لیتا اور استغفار کرتا ہے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے یعنی وہ سیاہ نقطہ ہٹا دیا جاتا ہے، اگر وہ آدمی زیادہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور پورا دل سیاہ ہوجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس سے حفاظت فرمائے۔

جوبندہ گناہوں سے سچی توبہ کرتاہے اور اپنی توبہ پر قائم رہتاہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺفرماتے ہیں : گناہوں سے صحیح اور پختہ توبہ کرنے والا شخص ایسا ہے کہ گویا اس نے گناہ کیاہی نہ ہو ۔اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ واستغفار کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

اقراء سے مزید