آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: کیا شوال اور قضا روزوں کی نیت خواتین ایک ساتھ کر سکتی ہیں؟
جواب: نفل روزہ الگ ہے اور فرض کی قضا کا روزہ الگ اور مستقل حیثیت رکھتا ہے، روزے میں نفل کی نیت کرنے سے وہ نفلی روزہ ہوگا اور قضا کی نیت کرنے سے وہ قضا کا روزہ ہوگا، ایک روزے میں نفل اورقضا دونوں کی نیت نہیں کرسکتے، لہٰذا شوال کے چھ روزوں کے ساتھ، قضا روزوں کی ادائیگی کی نیت کرنا صحیح نہیں ہے۔
اس لیے اگر اس میں شوال کے چھ روزوں کی نیت کی ہے تو وہ نفلی روزے ہوں گے، قضا کے نہیں ہوں گے، اور اگر ان دنوں میں قضا کی نیت کی ہے تو وہ قضا کے روزے ہوں گے اور اس سے نفلی کا ثواب نہیں ملے گا، اور اگر دونوں کی نیت کرلی تو وہ قضا روزے شمار ہوں گے۔
اگر عورت شوال میں قضا اور نفل روزے دونوں ادا کرسکتی ہے تو بہتر، ورنہ شوال کے روزوں کی فضیلت کی خاطر پہلے شوال کے نفل روزے رکھ سکتی ہے، کیوں کہ شوال کے بعد اس کا وقت نہیں رہے گا، جب کہ رمضان کی قضا بعد میں بھی کرسکتی ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے رمضان کے قضا روزے آئندہ سال شعبان میں رکھ پاتی تھی، جب رسول اللہ ﷺ خود کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے۔
تاہم بہتر یہ ہے کہ قضا روزے جلد از جلد رکھ لے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ الطوری 2/ 299 - الفتاویٰ الھنديۃ 1/ 196- تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق وحاشيۃ الشلبی 3/ 13)