آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: سعودی عرب میں ملازمت کے سلسلے میں مقیم ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ اگر عیدالفطر کی چھٹیوں میں عمرہ ادا کروں تو کیا مجھ پر حج کی ادائیگی لازم ہوگی؟ اور اگر میرے پاس حج کے لیے رقم نہیں ہے اور گورنمنٹ حج کا اجازت نامہ بھی جاری نہ کرے تو اس صورت میں میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ آیا مجھے عید کی چھٹیوں میں شوال میں عمرہ ادا کرنا چاہیے؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی ایسا شخص جس پر حج فرض نہ تھا، عید کے بعد شوال کے مہینے میں اس نے مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کر لیا اور اس کے پاس حج کے ایام تک قیام کے مصارف واسباب مہیا ہوں اور حکومت کی طرف سے اسے حج تک رکنے اور حج کرنے کی اجازت بھی ہو اور اس نے پہلے حج فرض بھی نہ کیا ہو تو اس پر حج فرض ہو جائے گا، اگر حج کے ایام تک قیام کے مصارف واسباب مہیا نہ ہوں، یا پھر قیام کے مصارف واسباب تو ہوں، لیکن حکومتِ سعودیہ کی طرف سے حج کے ایام تک قیام کرنے اور حج کرنے کی اجازت نہ ہو (جیسا کہ موجودہ زمانے میں ہوتا ہے)، تو اب اُس پر حج فرض نہیں ہوگا، اور جو شخص اپنا فرض حج پہلے کرچکا ہے، اس پر شوال میں عمرہ کرنے سے حج فرض نہیں ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ سائل کے پاس حج کے لیے رقم نہیں ہے، اور گورنمنٹ حج کا اجازت نامہ بھی جاری نہیں کرتی، تو سائل عیدالفطر کی چھٹیوں میں اگر عمرہ ادا کرے گا تو اس پر حج کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔ (البحر الرائق، کتاب الحج، ج:2، ص:538،539، ط: دار الکتب العلمیۃ -فتاویٰ شامی، کتاب الحج، ج:2، ص:459، 460، ط: سعید)