اسلام آباد (نمائندگان جنگ )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی ریکارڈ سستی کردی ہے اور انہوں نے بڑا ریلیف دیتے ہوئے گھریلو صارفین کے لئے بجلی کی قیمت میں 7روپے 41پیسے اور صنعتی صارفین کیلئے 7روپے 69پیسے فی یونٹ کمی کا بڑا اعلان کرتےہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی، آئندہ 5سال میں گردشی قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائےگا، بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی ، سالہا سال سے بند پڑے زنگ آلود سرکاری پاور پلانٹس فروخت کرنا ہوں گے ، ڈسکوز کوپرائیویٹائز یا پروفیشنلائز کیاجائےگا، سالانہ 600؍ ارب روپے کی بجلی چوری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا، نجکاری و رائٹ سائزنگ کےبغیر پاکستان ترقی نہیں سکتا، بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد اب ہمیں اصلاحات اور سٹرکچرل تبدیلیاں کرنی ہیں، بجلی سستی کرنے میں آرمی چیف کا کلیدی کردار ہے ، ملک ڈیفالٹ تک پہنچانے والے خوش تھے مگر معاشی استحکام آگیا۔ ادھر وفاقی ادارہ شماریات نے کہا کہ ملک میں مہنگائی 60سال کی کم ترین سطح پر ہے ، مارچ میں مہنگائی کی شرح 0.69فیصد، جولائی تا مارچ 5.25 فیصد رہی ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ مئی کے مہینے کا بل قیمت میں کمی کے ساتھ آئے گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کےنرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے حوالے سے تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمان، سرمایہ کار ، کاروباری شخصیات اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ معاشی میدان میں کامیابیوں کا سلسلہ آگے بڑھارہے ہیں ۔ اب منشور میں کیے گئےوعدے کو پورا کرنے کاوقت آگیا ہے،یہ معاشی ترقی واستحکام کے نتیجے میں خوشخبری سنانے کا موقع ہے ۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ مہنگی بجلی سے عوام متاثرہوئے،ملک کی خاطر عام آدمی کی قربانیوں کامکمل احساس رکھتے ہیں،مہنگی بجلی کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بھی متاثرہوئیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ تما م شعبوں کی ترقی میں مہنگی بجلی ایک رکاوٹ ہے،ترقیاتی عمل آگے بڑھانے کیلئے بجلی قیمتوں میں کمی ناگزیرہے۔بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لئے ٹاسک فورس کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ عیدسے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھتے ہوئے بجلی کے شعبے میں فائدہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ءسے لے کر آج تک اس میں 3.5 روپے کی کمی ہوئی، آج گھریلو صارفین کے لئے مزید 7اعشاریہ 41 روپے فی یونٹ کمی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جون 2024ءمیں صنعتوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58اعشاریہ 50روپے تھی جس میں مشترکہ کاوشوں سےدس اعشاریہ 30 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جو 48اعشاریہ19روپے فی یونٹ تک پہنچی۔ آج اس میں مزید 7روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2393ارب روپے (2کھرب 393ارب روپے)ہے، اس گردشی قرضے کے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرلیا گیا ہے، آئندہ پانچ سالوں میں گردشی قرضہ بتدریج ختم ہو جائے گا لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ہم خود کوتبدیل کریں۔ خود کو تبدیل کئے بغیر اس گردشی قرضے سے جان نہیں چھوٹے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری پاور پلانٹس (جنکوز ) سالہا سال سے بند پڑے ہیں اور ایک کلو واٹ بجلی وہاں سے پیدا نہیں ہو رہی، لیکن سالانہ اربوں روپے کیتنخواہیں اور مراعات جاری ہیں جو بہت بڑا ظلم ہے۔اس کا بوجھ بھی عوام پر پڑتا ہے۔ یہ وہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا۔ اب ان جنکوز کی پہلی لاٹ کو شفاف طریقے سے فروخت کیا گیا ہے جس سے 9 ارب روپے وصول ہوں گے جبکہ بند پڑے زنگ آلود جینکوز پرسالانہ7ارب روپے کا خرچ ہو رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ وہ مسائل ہیں جو کسی ایک حکومت کے پیدا کردہ نہیں، یہ 77 سال کا بوجھ ہے جس کے نیچے قوم دبی ہوئی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کے بعد اب ہمیں اصلاحات اور سٹرکچرل تبدیلیاں کرنی ہیں۔ سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔اس چوری کاخاتمہ کرنا ہے۔ اوپن مارکیٹ کے ذریعے بجلی کو مزید سستاکرناہے۔ حکومت ڈسکوزمیں بہت بہتری لے کر آئی ہے لیکن وہاں سب ٹھیک نہیں ہے۔ عام صارفین کو ڈسکوز میں تنگ کیاجاتا ہے، ان ڈسکوز کو فوری طورپر پرائیویٹائزیا پروفیشنلائز کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گردشی قرضے کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کر لیا ہے۔آئندہ پانچ سال میں گردشی قرضہ تبدریج ختم ہو جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری پیداواری پلانٹس کے نقصانات پر بھی توجہ دی گئی ۔ زنگ آلود پلانٹس پر سالانہ خرچہ 7ارب روپے تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کےلئے آئی پی پیز کے ساتھ بھی مذاکرات کئے۔