کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ کے آٹھ تعلیمی بورڈز میں سے چھ بورڈز کے چیئرمین نے جمعرات کو اپنے عہدوں کا چارج سنبھال لیا تاہم سکھر تعلیمی بورڈ میں چیرمین کی تعیناتی کا معاملہ عدالت میں ہونے کے باعث نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جب کہ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے نامزد چیرمین نے آفر لیٹر پر دستخط نہیں کیئے جس کی وجہ سے ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا۔یاد رہے کہ چئیرمین تلاش کمیٹی کی جانب سے مقرر کیے گئے چیئرمین حضرات کو فوری اپنے عہدوں کا چارج لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں نئے چیئرمین حضرات کی تعیناتی کے خلاف آئینی درخواست جمعرات کو مسترد کردی گئی تھی جس کے بعد محکمہ بورڈز و جامعات نے فوری طور پر نئے چیئرمین حضرات کو جمعرات ہی کو چارج سنبھالنے کی ہدایت کردی تاکہ موجودہ چیئرمین عدالت سے مزید حکم امتناعی نہ لے سکیں۔ ریٹائرڈ بیوروکریٹ محمد مصباح تنہیو کو بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کراچی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، غلام حسین سہو کو میٹرک بورڈ کراچی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر وسطی مشرف علی راجپوت کو سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے لیے سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد چانڈیو کو مقرر کیا گی ہے۔نوابشاہ تعلیمی بورڈ کےلیے قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر آصف علی میمن کو چئیرمین مقرر کیا گیا ہے۔ میرپورخاص تعلیمی بورڈ کےلیے ریٹائرڈ صوبائی ایڈیشنل سیکریٹری منصور راجپوت کو مقرر کیا گیاہے۔ سکھر تعلیمی بورڈ کےلیے سندھ مدرسہ کے پروفیسر زاہد حسین چنڑ کے نام کی سفارش کی گئی ہے جبکہ لاڑکانہ بورڈ کےلیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر خالد حسین مہر کو مقرر کیا گیا ہے۔