کراچی( ثاقب صغیر )شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث جعلی پولیس اہلکار غیر اخلاقی ایپ Gay social network app کے ذریعے شہریوں کو پھنساتے تھے۔گلشن اقبال پولیس کے ہاتھوں گرفتار ملزمان بلاول خلجی اور سید وقاص حسین نے پولیس اہلکاروں، صحافی ، سرکاری ادارے کے ملازمین اور شہریوں کو نشانہ بنایا۔پولیس نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے اور ان کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 5 مقدمات درج ہیں جب ایک مقدمہ ملزمان کے خلاف رحیم یار خان میں بھی درج ہے،ملزمان کے خلاف گلشن اقبال پولیس نے مزید دو مقدمات بھی درج کیے ہیں۔ملزمان غیر اخلاقی ایپ کے ذریعے اپنے شکار سے دوستی کرتے تھے پھر ان سے ملنے کے لیے پولیس یونیفارم میں جاتے اور شہریوں کا قلیل مدتی اغوا کر کے ان سے لاکھوں روپے تاوان وصول کرتے تھے۔ملزمان متاثرہ افراد کو کے گھر میں گھس پر انھیں ہتھکڑی لگاتے اور پھر ان کی ویڈیو بناتے ۔ملزمان کے موبائل فونز سے متعدد شہریوں کی ہتھکڑی لگی ہوئی ویڈیوز بھی ملی ہیں جو ان سے التجا اور ویڈیو نہ بنانے کی درخواست کرتے نظر آتے ہیں جبکہ ملزمان کی مختلف فلیٹس میں آنے اور جانے، پولیس یونیفارم پہن کر موٹر سائیکل چلانے اور کار میں بیٹھ کر جانے کی فوٹیجز بھی پولیس نے حاصل کی ہیں۔ملزمان مغویوں کو کار میں گھماتے ،ان پر تشدد کرتے ،ان کا اے ٹی ایم کارڈ خالی کرتے اور گھر کا قیمتی سامان بھی لوٹ لیتے،ملزمان شہریوں کو فل فرائی اور ہالف فرائی کرنے کی دھمکیاں دے کر کسی جگہ پر کار سے انھیں اتار کر فرار ہو جاتے ۔ملزمان کا شکار افراد شرمندگی سے بچنے کے لیے پولیس کو رپورٹ نہیں کرواتے تھے۔ ملزمان کے قبضے سے 2 پستول، 20 بیگ، پولیس یونیفارم ، متعدد پولیس کے بیجز، ہتھکڑی ،8 موبائل فونز ،جعلی بلٹ پروف جیکٹ، گاڑی، متعدد گھڑیاں، مختلف موبائلز کے پائوچ اور جدید ترین بڑی ایل سی ڈی برآمد ہوئی ہے۔ گروہ کے سرغنہ بلاول خلجی کا تعلق رحیم یار خان سے ہے جو کراچی میں گلشن کا رہائشی بھی ہے۔