اسلام آباد (خالد مصطفیٰ)امریکی حکومت نے پاکستان سے درآمدات پر 29 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو کہ 10_فیصد بنیادی (baseline) ٹیرف کے علاوہ ہے۔ یوں پاکستان کی برآمدات پر مجموعی ٹیرف 39 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ اس فیصلے نے امریکہ میں پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر ٹیکسٹائل، کی قیمتوں میں مسابقت کو شدید متاثر کیا ہے۔یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں "یومِ آزادی تجارت" (Liberation Day) کے نام سے نئی تجارتی پالیسی کے اعلان کے تحت کیا۔ نیا ٹیرف 9 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جب کہ 10 فیصد کا بیس لائن ٹیرف 5اپریل سے لاگو ہوگا۔ وزارت تجارت کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ "یہ نیا 29 فیصد جوابی ٹیرف، پہلے سے لاگو 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ملا کر، پاکستانی برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں مہنگا کر دے گا اور پاکستان کو کم ٹیرف والے ممالک جیسے بھارت اور ترکی کے مقابلے میں نقصان پہنچے گا۔"یہ اقدامات پاکستان کو دی گئی GSP (Generalized System of Preferences) تجارتی سہولت کی عملی طور پر تنسیخ کے مترادف ہیں، جس کے تحت کچھ مصنوعات پر 4-5 فیصد ڈیوٹی لی جاتی تھی۔امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا سنگل کنٹری برآمدی بازار ہے، جہاں سالانہ 6 ارب ڈالر کی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل، برآمد کی جاتی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ٹیرف میں ہونے والےاس ردوبدل میں پاکستان کےلیے فائدے کےچند امکانا تھی ہیں مثال کے طور پر ویتنام پر کل 50 فیصد ٹیرف سے پاکستان کو 46 فیصد قیمت برتری ہے،انڈونیشیا پر کل 49 فیصدپاکستان کو 49 فیصد برتری،کمبوڈیا پر کل 49 فیصد،چین پر کل 44 فیصد بنگلہ دیش پر کل 47فیصدبرتری پاکستان کوحاصل ہے۔ بھارت پر صرف 13 فیصد ٹیرف پاکستان کو 26 فیصد نقصان ہے۔ترکی پر 29 فیصدسے پاکستان کو 10 فیصد اردن، مصر، وسطی امریکا سے پاکستان کو 23 فیصد نقصان نقاصان ہوگا۔ یعنی پاکستان زیادہ ٹیرف زدہ ممالک کے مقابلے میں اب بھی مسابقتی رہ سکتا ہے، مگر بھارت، ترکی، اردن جیسے کم ٹیرف والے ممالک کے سامنے مشکل میں ہے۔APTMA (آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن) کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار کا کہنا ہے کہ"پاکستان پر برآمدی اثرات محدود ہوں گے، کیونکہ علاقائی ممالک جیسے چین، ویتنام، بنگلہ دیش اور سری لنکا پر اس سے بھی زیادہ ٹیرف لگایا گیا ہے۔