• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی ٹیکس بڑا دھچکا، ملیحہ لودھی، کچھ بزنس پاکستان آسکتا ہے، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)امریکا کی جانب سے پاکستان پر تمام درآمدات پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے پاکستان پر اس کے اثرات پر جیو کیخصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے سا بق سفیر امریکا ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی ایکسپورٹ کے لئے سب سے بڑی مارکیٹ ہےٹیکس عائد کرنے سے پاکستان کو بڑا دھچکا لگے گا،ماہر معاشی امور خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی حتمی فیصلہ ہوگیا ہے بات چیت سے کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہے  ۔

معاشی تجزیہ کار علی حسنین کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور بھارت پر بالکل ہم سے زیادہ ٹیرف لگا ہے اس سے یہ ہوسکتا ہے کہ کچھ بزنس پاکستان کی طرف آجائے۔ 

سابق سفیر امریکا ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی ایکسپورٹ کے لئے سب سے بڑی مارکیٹ ہے ٹیکس عائد کرنے سے پاکستان کو بڑا دھچکا لگے گا کیونکہ جو پاکستانی پروڈکٹس ہیں جو ہم امریکا بھیجتے ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا اور اس سے ڈیمانڈ پر اثرات مرتب ہوں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر ہے اس کو اس سے بڑا دھچکا لگے گا ۔

 انہوں نے کہا اب ظاہر ہے پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کس طرح سے اس حوالے سے ایڈجسٹ کرسکے گا انہوں نے واضح کیا کہ ٹیرف تو پہلے بھی تھا لیکن اب جو اس میں اضافہ کیا گیا ہے اس سے امریکا میں ہماری ایکسپورٹ مہنگے ہوجائیں گے جس کے لئے اب ضروری ہے کہ پاکستان کو مزید نئی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی تاہم ایسا نہیں کہ وہ مارکیٹ چھوڑ دے کیونکہ امریکا پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اب پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنی ایکسپورٹ کو کس طرح سےCompetitive بنائے جبکہ برآمدات بڑھانا آسان کام نہیں ہے اس میں پاکستان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا پاکستان کی ایکسپورٹ پرفارمنسDetermine ہوتی ہے ، ہمیں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ۔ 

انٹرنیشنل سطح پر امریکا کی جانب سے جو ٹیرف لگایا گیا ہے اب اس کا رد عمل دیکھنا ہوگا کہ کیا آتا ہے اور وہ کس طرح کی بندشیں امریکن ایکسپورٹ پر لگاتے ہیں اوراس میں سب سے اہم کردار چائنا کا ہوگا ۔ 

ماہر معاشی امور خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ ہمیں سب سے پہلے پاکستان کا quantum of trade یو ایس کے ساتھ دیکھنا ہوگا کیونکہ پاکستان کا ٹوٹل quantum of tradeہے 7.2ارب ڈالرز ہے امریکا کے ساتھ اس میں 5.1 ارب ڈالرز کی ہماری ایکسپورٹ ہے یو ایس کے ساتھ جس میں ٹیکسٹائل سب سے بڑا quantum ہے ۔

دیگر ممالک پر یو ایس کی جانب سے زیادہ ٹیرف عائد ہوا ہے اس لئے پاکستان کے پاس یہ مواقع موجود ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ وسیع کرسکتا ہے امریکا نے اپنی جانب سے تو ٹیرف عائد کردیا ہے تاہم اب جو کمپنیز یا ممالک ہیں وہ اس حوالے سے گفت و شنید میں جائیں گی یہ تو ایک پروسیس ہے جس کا آج آغاز ہوا ہے ایسا نہیں ہے کہ کوئی حتمی فیصلہ ہوگیا ہے بات چیت سے کوئی اور حل بھی نکل سکتا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید