• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ محصولات: عالمی منڈی میں ہلچل، حصص، ڈالرز اور تیل قیمتیں کم

لندن (اے ایف پی) جمعرات کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک پر نئی ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں زبردست ہلچل دیکھی گئی ہے۔

حصص، ڈالرز اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور سونا بلند ترین سطح پر چلا گیا جس کی فروخت $3,167.84 فی اونس پر پہنچ گئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں ڈبلیوٹی آئی میں 7.2 جبکہ برینٹ کروڈ کے پلیٹ فارم پر 6.7 فیصد کمی ہوئی۔ 

نیسڈیک انڈیکس 4 فیصد گرگیا، ٹوکیو، ہانگ کانگ، شنگھائی، پیرس، فرینکفرٹ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی، اسٹاک مارکیٹس اور ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی، ٹرمپ کے محصول نے ایک ایسی تجارتی جنگ کو جنم دیا ہے جس سے کساد بازاری (recession) اور مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یورو کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ایک دن میں 2.6 فیصد تک کمی ہوئی، جو ایک دہائی میں سب سے بڑی گراوٹ ہے جبکہ ین اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں بھی ڈالر کو سخت نقصان ہوا۔

امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی، نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 4 فیصد سے زائد گر گیا۔" اسٹاکس اور امریکی ڈالر دونوں کی بیک وقت گراوٹ، ٹرمپ کی تجارتی پالیسی پر سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے،" 

سٹی انڈیکس اور فاریکس ڈاٹ کام کے تجزیہ کار فواد رضا قزاده نے کہا کہ لباس بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز، جن کا دارومدار سستی غیر ملکی لیبر پر ہے، بری طرح متاثر ہوئی ہیں— نائکی کے شیئرز میں 11 فیصد اور گیپ میں 15 فیصد کمی آئی۔

دنیا بھر میں آٹو، لگژری، اور بینکنگ سیکٹرز کے شیئرز بھی شدید متاثر ہوئے۔ٹوکیو کا نکیئی انڈیکس عارضی طور پر 4 فیصد سے زیادہ گر گیا جبکہ پیرس اسٹاک مارکیٹ یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں 3 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی۔

تیل کی قیمتوں میں بھی تقریباً 7 فیصد کی کمی ہوئی، اور یہ $70 فی بیرل سے نیچے آگئی، کیونکہ اقتصادی سست روی سے تیل کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔

سونے کی قیمت جو غیر یقینی حالات میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہے نئی بلند ترین سطح $3,167.84 فی اونس پر پہنچ گئی۔اسی طرح، حکومتی بانڈز کی پیداوار (ییلڈ) بھی کم ہو گئی، کیونکہ سرمایہ کار خطرناک اثاثوں سے نکل کر محفوظ سرمایہ کاری کی طرف جا رہے ہیں۔

یہ گھبراہٹ صدر ٹرمپ کے اس غیر متوقع اور سخت ٹیرف اعلان کے بعد دیکھنے میں آئی، جس میں انہوں نے ان ممالک پر شدید تنقید کی جنہوں نے مبینہ طور پر امریکہ کا "برسوں سے استحصال" کیا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت چین پر 34 فیصد، یورپی یونین پر 20فیصد، اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر کئی ممالک پر مخصوص ٹیرف شرحیں نافذ کی جا رہی ہیں، اور باقی تمام ممالک پر "بیس لائن" ٹیرف کے طور پر 10فیصد لاگو ہوگا جس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

اہم خبریں سے مزید