• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منوج کمار نے شاہ رخ خان پر 100 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ کیوں دائر کیا؟

تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا
تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا

بھارتی بلاک بسٹر فلم اوم شانتی اوم کے مشہور سین کے خلاف منوج کمار نے شاہ رخ خان پر 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

2007ء میں فرح خان کی فلم اوم شانتی اوم ریلیز ہوئی، جس میں شاہ رخ خان اور دیپیکا پڈوکون نے مرکزی کردار ادا کیے، دیپیکا کی یہ ڈیبیو فلم تھی اور فلم نے خاصی مقبولیت حاصل کی، لیکن ایک سین نے لیجنڈری اداکار منوج کمار کو شدید ناراض کر دیا۔

متنازع سین میں شاہ رخ خان کا کردار اوم پرکاش مکھیجا منوج کمار کے نام پر فلم کے پریمیئر میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، پولیس اہلکار اسے پہچان نہیں پاتے کیونکہ وہ منوج کمار کا مشہور چہرے پر ہاتھ رکھنے والا انداز اپناتا ہے۔

منوج کمار نے مطالبہ کیا کہ یہ سین فلم سے حذف کیا جائے، جس پر فرح خان اور فلم سازوں نے اتفاق کیا۔

شاہ رخ خان نے عوامی طور پر معذرت کی اور کہا کہ میں بالکل غلط تھا، اگر انہیں دکھ پہنچا ہے تو میں معذرت خواہ ہوں، میں نے انہیں کال کی اور انہوں نے کہا کہ کوئی بڑی بات نہیں بیٹا۔

یہ معاملہ 2013ء میں دوبارہ سامنے آیا جب اوم شانتی اوم جاپان میں وہی سین حذف کیے بغیر دوبارہ ریلیز کی گئی، اس بار منوج کمار نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا اور شاہ رخ خان اور ایروس انٹرنیشنل کے خلاف 100 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔

ان کے وکیل نے کہا کہ شاہ رخ خان نے پہلے معذرت کی، لیکن دوبارہ وہی غلطی دہرائی گئی، نہ کوئی ذاتی معافی دی گئی اور نہ ہی عدالت کے احکامات کا احترام کیا گیا۔

2008ء میں عدالت نے ہدایت دی تھی کہ تمام ایڈیشنز، پرنٹس اور نشریاتی مواد سے وہ سین ہمیشہ کے لیے حذف کر دیا جائے۔

منوج کمار نے کہا کہ میں نے دو بار معاف کیا، مگر اس بار نہیں، یہ میرے لیے توہین ہے، عدالت کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہوئی۔

کئی سال کی قانونی جنگ کے بعد منوج کمار نے کیس واپس لے لیا، اس دلیل کے ساتھ کہ قانونی کارروائی شاہ رخ اور فرح خان میں احساسِ ذمے داری پیدا کرنے میں ناکام رہی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید