• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشاورت کے بغیر بجٹ پر ووٹ نہیں دینگے، نئی نہریں منظور نہیں، شہباز نہیں عوام کیساتھ کھڑے ہونگے، بلاول

گڑھی خدا بخش (ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر عوام کہے گی کہ کینالز نامنظور ہیں تو پیپلزپارٹی عوام کیساتھ کھڑی ہو گی، شہباز شریف کے ساتھ نہیں،پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ پاکستان تو کیا عالمی سطح پر لڑ کر آیا ہوں، عالمی دنیا کو منایا کہ ہمارے دریائے سندھ کو بچانا ہے، پیپلز پارٹی کارکنان سندھو پر نہریں نا منظور کے نعرے لگاتے ہوئے بوڑھے ہوگئے، کینالز منصوبے پر حکومت سے ناراض ہیں، اسلئے حکومت میں نہیں بیٹھے، صدر زرداری نے سی ای سی اجلاس میں متنازع کینالز منصوبے کو مسترد کیا، مثبت سیاست سے مسائل کا حل نکالنا ہے، دہشت گردملک توڑنا چاہتے ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں مشاورت کے بغیر بجٹ میں ووٹ نہیں دینگے،ہمیشہ وفاق کیساتھ کھڑا رہوں گا، ہر سازش ناکام بنائینگے، دہشت گرد کبھی مذہب، کبھی قوم پرستی کے پیچھے چھپتے ہیں، بلوچ بہنوں کو خودکش بمبار بنا دیا جاتا ہے، قیدی نمبر 804 دہشت گردی کے خلاف اپنا حق ادا کرے، زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک بچایا، جو پاکستان کا پرچم اتارے گا اس کو پہلے پیپلز پارٹی اور مجھ سے مقابلہ کرنا ہوگا، اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشتگردوں کیخلاف ایک ہونا ہوگا، چاروں بھائی ایک ہوجائیں تو کوئی پاکستان کی معاشی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا، کینالز منصوبہ پورا ہونے نہیں دینگے، بین الاقوامی سازشوں اور ہمار ی اپنی غلطیوں کی وجہ سے دہشتگردی کی لہر عروج پر ہے، مخالفین کو زرداری فوبیا ہے، صدر زرداری نے مشترکہ اجلاس میں متنازع کینالز منصوبے کو مسترد کیا، اپنے اختلافات ایک طرف رکھ کر دہشتگردوں کیخلاف ایک ہونا ہوگا،’اپوزیشن سے اپیل دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ساتھ دیں،حکومت سندھ کے عوام کی آواز سنے، کینالز منصوبےکو پورا ہونےنہیں دینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی 46ویں برسی پر گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ مشرف کے متنازع یکطرفہ کینالز کے فیصلے ہوں، یا عمران خان کے یکطرفہ متنازع فیصلے ہوں، جو بلوچستان کے حالات کا فائدہ اٹھا کر وفاق کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ہم ان کا راستہ روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سازش اور ہماری غلطیوں کی وجہ سے دہشت گردی عروج پر ہے، دہشت گرد کبھی مذہب، کبھی قوم پرست اور علیحدگی پسندوں کے پیچھے چھپتے ہیں ہمیں پاکستانیوں کے خون سے کھیلنے والے درندوں کا مقابلہ کرنا ہے، بلوچستان میں مزدوروں کو شہید کیا جاتا ہے، کبھی کراچی میں بلوچ بہنوں کو خودکش بمبار بنایا جاتا ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ لوگ اب پاکستان سے جنگ چھیڑ چکے ہیں اور عوام کو شہید کررہے ہیں یہ لوگ خود عالمی طاقتوں کو بیچتے ہیں اور اپنے لوگوں کو شہید کرتے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ آصف زرداری نے 18ویں ترمیم کی صورت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا آئین بحال کیا صوبوں کو حق دلا کر قائد عوام کا حق پورا کیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم پر یہ فرض بھی ہے کہ ہم آج کے مسائل کا مقابلہ کریں، حقائق یہ ہیں کہ پاکستان تاریخی مسئلے سے گزر رہا ہے، ہم مثبت سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور اس سے ہی ہم نے اپنے عوام کی نمائندگی کرنی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج پاکستان ہر طرف سے مسائل کا شکار ہے، معاشی بحران ہے، دہشتگردی عروج پر ہے، بین الاقوامی سطح پر سازشیں جاری ہیں کہ کس طریقے سے پاکستان کو نقصان ہو، اندرونی سیاست اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پورے معاشرے کو نقصان ہو رہا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست ہماری آنے والی نسل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم نے بھی یہی نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنی ہے، کیا ہم نے امید اور یکجہتی کی سیاست کرنی ہے، ہم مثبت سیاست کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، شہید بے نظیر بھٹو دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی آواز تھیں، کیا ہم بھول چکے ہیں کہ ہم نے سب سے بڑی قربانی دی ہے، کیا ہم اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ بین الاقوامی سازشوں اور ہمارے اپنے ملک کی غلطیوں کی وجہ سے دہشتگردی کی دوسری لہر بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخوا تک عروج پر ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ احساس محرومی دور کرنا، پسماندگی کو دور کرنا، صوبائی خودمختاری پر صحیح معنوں میں عملدرآمد کرنا، جمہوریت کو مضبوط کرکے ہی ہم یہ نظریاتی جنگ جیت سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فوری طور پر ان درندوں کا مقابلہ کرنا ہے، جو پاکستانی عوام کے ساتھ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، اپنی سیاسی منزل حاصل کرنے کیلئے بین الاقوامی سازش کو کامیاب کرنے کے لیے پاکستان کے عوام کو شہید کیا جارہا ہے، کبھی خیبرپختونخوا میں رمضان کے مہینے میں کسی مسجد میں خودکش دھماکے سے لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے، کبھی بلوچستان میں گولی چلا کر مزدور کو شہید کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد کا نہ کوئی مذہب اور نہ قوم ہوتی ہے، دہشتگرد اپنے مذہب کو عالمی طاقتوں کو بیچتے ہیں، ہم مل کر دہشتگردوں کو شکست دیں گے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، اپوزیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ اپنا کردار ادا کرے، قیدی نمبر 804جو بھی ہو، سیاست آپ کا حق ہے، بین الاقوامی سازشوں کے خلاف اپوزیشن کو کردار ادا کرنا چاہئے۔ ایک ہو گئے تو دہشتگردوں کو عبرتناک شکست ہوگی۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مہنگائی میں کمی پر حکومت کی کامیابی کو سراہتے ہیں، تھرپارکر ماڈل جیسی ترقی ہونی چاہئے، حکومت نے طے کیا تھا کہ چاروں صوبے کی پی ایس ڈی پی مل کر بنائیں گے، جو آپ سننا چاہتے ہیں، وہ بات آخر میں کروں گا، بینظیر چاروں صوبوں کی زنجیر تھی، ہم پاکستان کھپے کہنے والے ہیں، دہشتگرد پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں، ہم شہیدوں کو دفناتے ہوئے پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے خطاب میں کہا کہ ملک توڑنے کی کوشش کرنے والوں کو پاکستان کھپے کے نعرے سے جواب دیں گے، پاکستان مخالف قوتوں کو خبردار کرتا ہوں، جو بلوچستان کے حالات کا فائدہ اٹھا کروفاق کو نقصان پہنچانا چاہ رہے ہیں، ہم ان لوگوں کا راستہ روکیں گے۔

اہم خبریں سے مزید