• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال کی طرح امسال بھی28 جولائی کو پوری دنیا میں’’انسدادِ ہیپاٹائٹس کا عالمی دن‘‘ منایا گیا، جس کا مقصد ہیپا ٹائٹس، خاص طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے وائرسز کی سنگینی، تشخیص، علاج اور روک تھام سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ عالمی ادارۂ صحت نے2030 ء تک نئے انفیکشنز میں90 فی صد کمی اور ہیپاٹائٹس سے ہونے والی اموات میں65فی صد کمی کا ہدف مقرّر کیا ہے۔

اور اِس کے لیے عالمی سطح پر پالیسیز، ویکسی نیشن پروگرامز اور تشخیصی نظام متعارف کروائے جارہے ہیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود صرف مصر وہ واحد مُلک ہے، جس نے یہ ہدف کام یابی سے حاصل کیا ہے کہ جہاں حکومتی سطح پر بروقت فیصلے، مربوط حکمتِ عملی اور مؤثر عمل درآمد نے یہ امر ممکن بنایا۔

پاکستان میں بھی ماہرینِ امراضِ معدہ نے حکومت کو متعدّد بار جامع پالیسیز اور عملی تجاویز فراہم کی ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پالیسیز پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اِس خطرناک اور تیزی سے پھیلتی بیماری کے ضمن میں جلد از جلد سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ ہم بھی2030ء کا ہدف حاصل کرنے میں کام یاب ہو سکیں۔یہ ایک چیلنج تو ہے، مگر مناسب حکمتِ عملی، ویکسین، جدید علاج اور عوامی شعور کے ذریعے دنی یہ اہداف حاصل کر سکتی ہے۔

ہیپا ٹائٹس کا عالمی منظر نامہ:

عالمی ادارۂ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بَھر میں تقریباً30 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی سے متاثر ہیں، جب کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد قریب ساڑھے پانچ کروڑ ہے۔ اِن دونوں وائرسز کی وجہ سے ہر سال13 لاکھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں یرقان، جگر کا سرطان اور جگر کی شدید تکالیف شامل ہیں، جب کہ روزانہ تقریباً 3500 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس -بی کے متاثرین میں سے تین تہائی کو اِس بات کی آگاہی تک نہیں کہ وہ اپنے اندر وائرس لیے پھر رہے ہیں کہ صرف 13.5 فی صد مریضوں کو تشخیصی سہولت حاصل ہے۔ 

ہیپاٹائٹس -سی میں تشخیص کی شرح بہتر ہے، مگر یہ بھی صرف 36فی صد تک محدود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر اِن امراض کی روک تھام کے لیے شعور، اسکریننگ اور ٹیسٹنگ مہمّات کی اشد ضرورت ہے۔ ہیپاٹائٹس اے/ای بنیادی طور پر ترقّی پذیر ممالک میں آلودہ پانی سے پھیلتا ہے اور ہر سال 55,000 افراد اس کا شکار ہو کر جان گنوادیتے ہیں۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی وبا:

پاکستان میں ہیپاٹائٹس-بی اور سی عوامی صحت کے لیے بڑے چیلنج بن چُکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، مُلک میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے ایک کروڑ، پچاس لاکھ افراد اِس وبا کا شکار ہیں، جن میں تقریباً40 لاکھ ہیپاٹائٹس-بی اور 88لاکھ سے ایک کروڑ ہیپاٹائٹس-سی کے مریض شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس-بی کے کیسز عام آبادی میں2.5 فی صد کے قریب ہیں، جب کہ ہیپاٹائٹس سی کا پھیلاؤ تقریباً4 سے 5فی صد ہے۔ 

علاقائی حوالے سے دیکھا جائے، تو یہ کیسز سندھ اور بلوچستان میں قدرے زیادہ ہیں اور اندرونِ سندھ بعض علاقوں میں10 فی صد سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر سال پاکستان میں50ہزار سے ایک لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور12 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں یہ وبا بنیادی طور پر غیر محفوظ طبّی عمل، دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز، غیر معیاری اوزاروں اور دانتوں کے آلات، خون کی منتقلی میں معیار کی کمی اور انجیکشنز کے ذریعے منشیات کے استعمال کے سبب پھیل رہی ہے۔

نشہ کرنے والوں(IDUS) میں15فی صد ہیپاٹائٹس- بی اور حیرت انگیز طور پر 68فی صد ہیپاٹائٹس-سی پایا جاتا ہے۔ واضح رہے، ہیپاٹائٹس وائرس کی پانچ اقسام( اے، بی، سی، ڈی اور ای)میں سے دو، بی اور سی سب سے خطرناک تصوّر کی جاتی ہیں، جنہیں’’خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

ہیپاٹائٹس اے اور ای:

ہیپاٹائٹس اے اور ای، یہ دونوں وائرسز بنیادی طور پر آلودہ پانی اور غیر محفوظ خوراک کے ذریعے پھیلتے ہیں اور ترقّی پذیر ممالک میں اِن کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔ ہیپاٹائٹس-اے عام طور پر بچّوں کو متاثر کرتا ہے، جب کہ ای بالغ افراد، خصوصاً حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، ہیپاٹائٹس-ای کے ہر سال تقریباً2 کروڑ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے35000 سے 55000اموات واقع ہوتی ہیں۔

پاکستان میں HEV کے کئی بڑے آؤٹ بریکس رپورٹ ہوئے ہیں، خاص طور پر کراچی، اسلام آباد، لاہور اور سیلاب زدہ علاقوں میں، جہاں پینے کے صاف پانی کی کمی اور نکاسیٔ آب کے ناقص نظام نے اِس وائرس کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔حاملہ خواتین میں ہیپاٹائٹس-ای انفیکشن کی شرحِ اموات 16-33فی صد تک بتائی گئی ہے، جو جگر کی شدید خرابی ( Acute Liver Failure) کا باعث بنتی ہے۔ 

بچّوں میں HEV کے خلاف قوّتِ مدافعت (1gG مثبت ہونے) کی شرح 2022 ء میں تقریباً 18 سے 26 فی صد پائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وائرس کم عُمری میں عام طور پر منتقل ہو چُکا ہوتا ہے۔ ایمس اسپتال، حیدرآباد کی ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق، بالغ افراد میں ہیپاٹائٹس کے خلاف مدافعت(IgG) 68فی صد لوگوں میں پائی گئی۔

پاکستان میں ہیپا ٹائٹس-اے90 فی صد بچّوں کو چھے برس کی عُمر ہی میں ہو جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر بغیر کسی علامت کے ہوتا ہے۔ ہپاٹائٹس-اے کے لیے ایک محفوظ اور مؤثر ویکسین کئی دہائیوں سے دست یاب ہے، جو دنیا کے متعدّد ممالک کے حفاظتی ٹیکا جات پروگرام کا حصّہ ہے۔ 

اگرچہ پاکستان میں یہ سرکاری سطح پر شامل نہیں، لیکن نجی شعبے میں دست یاب ہے۔ ہیپاٹائٹس-ای سے متعلق تازہ پیش رفت یہ ہے کہ اس کی ویکسین اب عالمی سطح پر دست یاب ہے اور پاکستان میں بھی متعارف کروائی جاچُکی ہے۔ 

یہ ویکسین HEV سے بچاؤ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں، جہاں بیماری کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہے یا حاملہ خواتین کو بچانے کی ضرورت ہو۔ اِن دونوں بیماریوں کا علاج زیادہ تر علاماتی (symptomatic) نوعیت کا ہے، کیوں کہ یہ عام طور پر خود بخود ختم ہو جاتی ہیں، لیکن کم زور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اور حاملہ خواتین میں پیچیدگیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔

ہیپاٹائٹس-بی:

ہیپاٹائٹس-بی سے2019 ء میں تقریباً 30 کروڑ افراد متاثر تھے، اور سالانہ 820,000 افراد اس کی پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جیسا کہ جگر کی شدید بیماری، سکڑاؤ اور جگر کا کینسر۔ پاکستان میں بھی اِس حوالے سے صُورتِ حال خطرناک ہے۔ نیشنل سروے(2007 ء سے 2008 ء تک) کے مطابق HBV کا پھیلاؤ2.5 فی صد تھا، یعنی تقریباً40لاکھ افراد اس میں مبتلا ہیں۔ بچّوں میں بھی شرح 1.9 سے 3.6 فی صد رہی اور خاص گروپس مثلاً ہیموفیلیا/تھلیسیمیا کے مریضوں اور حاملہ خواتین میں پھیلاؤ بڑھ کر دُگنا ہوسکتا ہے۔ 

اِس بیماری کے پھیلاؤ کے بنیادی اسباب میں غیر محفوظ انجیکشنز، دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز، خون کے ناقص معیار سے ٹرانسفیوژن اور ماؤں سے بچّوں تک وائرس کی منتقلی شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس-بی ایک ایسا وائرس ہے، جس سے مؤثر ویکسین ہی کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔ ترقّی یافتہ ممالک میں یہ ویکسین حفاظتی ٹیکا جات کے پروگرام کا لازمی حصّہ ہے، مگر پاکستان میں پیدائش کے24 گھنٹوں کے اندر ویکسین لگوانے کی شرح انتہائی کم ہے، جو صرف 45 فی صد بنتی ہے۔ 

یہ شرح بڑھانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ نوزائیدہ بچّوں کے لیے HBV برتھ ڈوز ویکسی نیشن پروگرام مُلک گیر سطح پر نافذ کرے اور دیہی علاقوں تک رسائی ممکن بنائے، جہاں یہ بیماری زیادہ شدّت سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ، حاملہ خواتین کی اسکریننگ بھی لازمی بنائی جائے تاکہ متاثرہ ماؤں سے بچّوں تک وائرس کی منتقلی روکی جاسکے۔ 

علاج کے ضمن میں پاکستان میں اینٹی وائرل ادویہ دست یاب ہیں، جو حکومتِ سندھ مفت فراہم کر رہی ہے، لیکن یہ ادویہ زندگی بھر استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ پاکستان میں HBV کے صرف13 فی صد مریض اپنی بیماری سے آگاہ ہیں اور ان میں سے بھی5 فی صد سے کم علاج کروارہے ہیں۔ تشخیص اور علاج کا یہ خلا ختم کرنے کے لیے قومی سطح پر ہیپاٹائٹس-بی اسکریننگ کیمپس قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ہیپا ٹائٹس-سی:

ہیپاٹائٹس-سی کے لیے ویکسین موجود نہیں ہے، اِس لیے بچاؤ کا واحد طریقہ عوامی شعور میں اضافہ، محفوظ طبّی عمل اور غیر محفوظ انجیکشنز کا خاتمہ ہے۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس-سی کا پھیلاؤ 5 سے 7.5 فی صد تک رپورٹ ہوا ہے، جو عالمی اوسط سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بنگلا دیش اور بھارت میں اس کی شرح 0.5 سے1 فی صد ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجز، دانتوں کے علاج کے ناقص آلات اور منشیات کے انجیکشنز کے ذریعے پھیلتا ہے۔ 

اگر پاکستان نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات شروع نہ کیے، تو2030 ء تک7 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس-سی کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں، جن میں 50 فی صد افراد50 سال سے کم عُمر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بَھر میں کی گئی تحقیقات کے مطابق،80فی صد افراد لاعلم ہیں کہ وہ اِس مرض میں مبتلا ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں صرف 2فی صد افراد ہیپاٹائٹس-سی کا مکمل علاج کرواتے ہیں، جب کہ دنیا میں ایسے افراد کی شرح 20سے40 فی صد تک ہے۔

البتہ ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے، جہاں DAAs)Direct Acting Antivirals) جیسی جدید ادویہ عالمی سطح پر سب سے سستی ہیں اور ایک مکمل کورس تقریباً12000 سے 45000روپے میں دست یاب ہے۔ DAAs کے ذریعے ہیپاٹائٹس-سی کا علاج8 سے12 ہفتوں میں 97 فی صد مریضوں کو صحت یاب کر سکتا ہے۔ 

اس کے باوجود علاج تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے، کیوں کہ مُلک میں صرف 22 فی صد مریض تشخیص شدہ ہیں اور اُن میں سے بھی محض 2 فی صد اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ اِس ضمن میں حکومت کو چاہیے کہ DAAs کو سرکاری اسپتالوں میں مفت فراہم کرے اور ضلعی سطح پر مفت اسکریننگ پروگرام شروع کیا جائے تاکہ مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔ واضح رہے، سندھ حکومت ہیپاٹائٹس کا 3 ماہ کا علاج مفت کر رہی ہے۔

ہیپاٹائٹس-ڈی:

ہیپاٹائٹس-ڈی وائرس (HDV) ایک ایسا وائرس ہے، جو صرف اُن افراد کو متاثر کرتا ہے، جو پہلے ہی سے ہیپاٹائٹس-بی سے متاثر ہوں۔عالمی سطح پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس-بی کے مریضوں میں تقریباً5فی صد افراد HDV اور HBV مشترکہ انفیکشن رکھتے ہیں۔ یہ مشترکہ انفیکشن، بیماری کی شدّت بڑھا دیتا ہے اور جگر کی شدید پیچیدگیوں، سکڑاؤ اور ہیپاٹو سیلور کارسینوما(HCC) کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ 

سندھ اور بلوچستان وہ علاقے ہیں، جہاں یہ شرح50 فی صد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ سندھ کے اندرونی علاقوں، خاص طور پر’’ڈیلٹا بیلٹ‘‘جیسے اضلاع میں HDV کا پھیلاؤ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اِس علاقے میں غیر محفوظ طبّی طریقۂ کار، غیر معیاری سرنجز اور ناقص انفیکشن کنٹرول پالیسیز کی وجہ سے بیماری تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے۔

علاج کی بات کریں، تو’’ Pegylated Interferon‘‘ محدود افادیت رکھتا ہے اور ہر مریض کے لیے یک ساں طور پر فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ تاہم، خوش آئند امر یہ ہے کہ ایک نئی دوا، Bulevirtide ( جو HDV کے جگر کے خلیات میں داخلے کو روکنے والا’’ اینٹری انہیبٹر‘‘ ہے)، یورپ میں منظوری حاصل کر چُکی ہے اور ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ پاکستان میں بھی اِس جدید دوا کی رجسٹریشن اور دست یابی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان میں وائرس کی روک تھام، علاج معالجہ:

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی بڑھتی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے، جس کے تحت:

ہیپاٹائٹس-بی ویکسی نیشن:

نوزائیدہ بچّوں کو پیدائش کے فوراً بعد ہیپاٹائٹس-بی کی ویکسین دینا لازمی قرار دی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا جائے۔ اس کے ساتھ، ایسے تمام بالغ افراد، جواب تک ویکسین سے محروم ہیں، اُن کے لیے قومی سطح پر خصوصی ویکسی نیشن مہم چلائی جائے۔

ہیپاٹائٹس-سی کے لیے اسکریننگ پروگرام:

مُلک بھر میں ضلعی سطح پر مفت یا کم لاگت ٹیسٹنگ سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ مریضوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو اور بیماری ابتدائی مرحلے ہی میں کنٹرول کی جا سکے۔ ہیپاٹائٹس-سی کے خاتمے کے لیے عالمی ادارۂ صحت اور مصر کے ماڈل پر جلد سے جلد عمل کیا جائے، جس کے تحت پاکستان میں ہر سال ڈھائی سے 3کروڑ افراد کی اسکریننگ کروائی جائے، جس سے کم و بیش9 لاکھ افراد میں ہیپاٹائٹس-سی کی تشخیص ہوگی اور اُن کا علاج بھی کیا جاسکے گا۔ اِس طرح ہر سال8 سے 9لاکھ افراد ہپاٹائٹس-سی کے گروہ میں سے کم ہوتے جائیں گے اور دس سالوں میں پاکستان ہیپاٹائٹس-سی سے پاک ہو جائے گا۔ ان شاء الله

غیر محفوظ انجیکشنز کا خاتمہ:

مُلک بھر میں آٹو ڈس ایبل سرنجز کا استعمال لازمی قرار دیا جائے تاکہ غیر محفوظ طبّی طریقۂ کار اور استعمال شدہ سرنجز کے باعث ہونے والے انفیکشنز کو مؤثر طریقے سے روکا جاسکے۔

صاف پانی کی فراہمی، خوراک کے معیار میں بہتری:

ہیپاٹائٹس-اے اور ای کی روک تھام کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب کے نظام میں بہتری اور خوراک کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ بچّوں اور بڑوں کو کھانے سے پہلے اور رفعِ حاجت کے بعد، صابن سے اچھی ہاتھ دھونے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔

ہیپاٹائٹس رجسٹری کا قیام:

ایک قومی ہیپاٹائٹس ڈیٹابیس تشکیل دیا جائے، جس میں تمام متاثرہ مریضوں کا ریکارڈ محفوظ ہو تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کا درست تخمینہ لگایا جاسکے اور مستقبل کی پالیسی سازی بہتر انداز میں کی جاسکے۔

ہیپاٹائٹس کے بڑھتے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو چاہیے کہ عالمی ادارۂ صحت کے 2030ء کے اہداف پر عمل کرتے ہوئے بروقت تشخیص اور علاج معالجے کے اقدامات کرے۔ اِس مقصد کے لیے حکومت، نجی شعبے اور کمیونٹی کا اشتراک ضروری ہے تا کہ آنے والی نسلوں کو اِس خاموش قاتل سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اِس ضمن میں مختلف سوسائیٹیز بھی پاکستان میں ہیپا ٹائٹس کی روک تھام کے لیے کوشاں ہیں۔ (مضمون نگار، ایمس اسپتال حیدرآباد سے وابستہ ہیں)