آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال:۔ اگر کوئی دکاندار کسی بل میں (جو صحیح قیمتیں لگا کر مثلاً 10,000 کا بن رہا ہو) اس میں ردوبدل کر کے اسے 25,000 کا بنائے اور اس میں سے 10,000 کمیشن کے طور پر کسی کو دے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے، جو شخص کمیشن لے رہا ہے ،وہ اپنے Client کو بھروسا دلا کر اس کی دکان سے سامان دلاتا ہے کہ آپ کو صحیح جگہ سے سامان دلا رہا ہوں تو کیا یہ صحیح ہے۔
جواب:۔ صورت مسئولہ میں دکان دار کا اصل بل سے زیادہ کا بل بناکر دینا غلط بیانی، دھوکا دہی کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، نیز گناہ کے کام میں معاونت بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرنے کا حکم فرمایا ہے، اگر دکان دار اصل مقدار سے زیادہ پیسوں کا بل بناکر ملازم کو دیتا ہے تو ایسا کرنا شرعاً نا جائز و حرام ہونے کے ساتھ ساتھ اصل مالکان پر ظلم وزیادتی کی بنا ءپر دکان دار گناہ گار بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے یہاں جواب دہ بھی ہوگا، لہٰذا اسے اس طرح کے کاموں سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔
اسی طرح کوئی شخص کسی کےلیے کوئی چیز خرید تا ہے تواس کی حیثیت وکیل کی ہوتی ہے، اور وکالت کی بنیاد امانت پر ہوتی ہے، چنانچہ وکیل اپنے موکل کے لیے جو چیز جتنے روپے کی خریدے گا، اتنے ہی پیسے اپنے موکل سے لے سکتا ہے، اس سے زیادہ پیسے بتاکر لینا جھوٹ اور خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے۔
زیر نظر مسئلےمیں اگر کوئی خریدار کسی شخص پر اعتماد اور بھروسا کر کے اس کے توسط سے کسی دکان سے کوئی چیز خرید ے، جبکہ اس خریدار نے اس شخص کو اپنا کمیشن ایجنٹ نہیں بنایا اس کے ساتھ اجرت /کمیشن کا کوئی معاہدہ نہیں ہو ا اور نہ ہی یہ شخص دکان دار کاکمیشن ایجنٹ ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کا مذکورہ خریدار سے جھوٹ اور دھوکا دہی کے ذریعے کسی قسم کا کمیشن لینا ناجائز ہے۔
ہاں البتہ اگر خریدار اسے اپنا اجیر /کمیشن ایجنٹ مقرر کرے کہ تم مجھے فلاں سامان دلوادو میں تمہیں اتنی اجرت دوں گا تو اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہوگا اور الگ سے اجرت لینا بھی جائز ہوگا، اسی طرح اگر دکان دار نے اس شخص کے ساتھ کمیشن کا معاملہ طے کیا ہو کہ تم میرے پاس خریدار لے کر آؤ، میں تمہیں اتنا کمشن دوں گا تو ایسی صورت میں دکان دار کا اپنے نفع میں سے اسے کمیشن دینا جائز ہوگا، تاہم کمیشن کی وجہ سے اس چیز کی قیمت میں اضافہ کردینا جائز نہیں ہوگا۔