• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مَیں تقریباً ایک سال سے شب بیداری کا شکار چلا آ رہا تھا۔ اِس مسئلے پر پوری توجہ نہیں دی۔8؍اگست کی صبح اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مَیں گہری نیند میں گردن کے بَل بستر سے زمین پر گر پڑا اَور خاصی چوٹ آئی۔ ہمارے گھر کے سامنے نیوروسرجن ڈاکٹر ظفر اقبال کا کلینک ہے، چنانچہ میرا بیٹا کامران فوری طور پر اُن کی طرف چلا گیا۔ وہ بلاتامل میرے غریب خانے پر تشریف لے آئے۔ گردن کا معائنہ کرنے کے بعد ہاتھ اور پاؤں ہلا جلا کر دیکھے اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ کسی ہڈی کو چوٹ نہیں آئی۔ اُنہوں نے کہا کہ گردن کا فوری علاج یہ ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر کالر کا استعمال شروع کر دیا جائے اور اِحتیاطاً گردن کا ایکسرے کروا لیا جائے۔ میرا پوتا افنان قریبی دکان سے چار پانچ کالر لے آیا کہ اِن میں سے کوئی ایک فٹ آ جائے گا مگر سبھی لمبائی میں چھوٹے اور حجم میں موٹے تھے۔ رات اِسی تگ و دو میں گزر گئی اور دَرد میں اضافہ ہوتا گیا۔

دوسری صبح میرا بھتیجا طیب اعجاز اپنی بیگم کے ہمراہ عیادت کے لیے آیا۔ ہماری سلیقہ مند بہو نے ایک کالر کا انتخاب کیا اور اُسی کی کانٹ چھانٹ شروع کر دی۔ ایک گھنٹے کی کوشش کے بعد وہ کالر گردن میں فٹ بیٹھ گیا اور مجھے قدرے سکون حاصل ہوا۔ پھر طیب ایکسرے کی ٹیم کو گھر پر لے آیا۔ اگلے روز ایکسرے رپورٹ ملی جو الحمدللہ بڑی حد تک تسلی بخش تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی تشخیص کے مطابق دواؤں کا استعمال شروع کر دیا گیا۔

دوسری رات میرے دکھ سُکھ کے ساتھی جناب مجیب الرحمٰن شامی، جناب حفیظ اللہ نیازی اور جناب جاوید نواز مزاج پرسی کیلئے آئے اور اُنہوں نے غیرمعمولی اپنائیت کا اِس طرح اظہار کیا کہ مجھے اپنے بدن میں توانائی دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اُن سے قبل علامہ عبدالستار عاصم بھی آئے جو میری کتابوں کے ناشر ہیں۔ وہ بھی دلجوئی کی ایک تصویر بنے بیٹھے تھے۔ اُن کے علاوہ مختلف شہروں سے دوستوں کے فون آتے رہے۔ ایک صاحب مزاج پرسی کیلئے امریکہ سے چلے آئے۔ اُن کا شکریہ ادا کرنا کارِمحال تھا۔

ایک شام پروفیسر وقار ملک، جناب اظہر ملک کے ہمراہ عیادت کیلئے آئے۔ پروفیسر صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُنہوں نے پاکستان کے معروف قانون دان جناب ایس ایم ظفر کی شخصیت پر نہایت معلومات افزا کتاب تحریر کی ہے اور جناب اظہر ملک کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ وہ سیاست پر نہایت سلجھی ہوئی گفتگو کرتے ہیں۔ وہ میری تحریروں کو بہت پسند کرتے ہیں۔ مَیں نے ایک دن اُن سے اِس عقیدت کی وجہ پوچھی، تو کہنے لگے آپ کی تحریروں سے پاکستان کی خوشبو آتی ہے اور یہ خوشبو ہماری والدہ نے ہماری رگ و پے میں اُتار دِی ہے۔ دراصل میرے نانا ملک حبیب اللہ پرانے مسلم لیگی تھے جو میری والدہ کو بچپن میں اُن جلسوں اور جلوسوں میں لے جاتے جن سے قائدِاعظم خطاب فرماتے تھے۔ میری والدہ بتاتی ہیں کہ ہم نعرے لگاتے تھے ’’بن کے رہے گا پاکستان، بَٹ کے رہے گا ہندوستان۔‘‘ اِس ماحول میں ہماری پرورش ہوئی اور پاکستان ہماری زندگی کا ماحصل قرار پایا۔

ابتدائی گفتگو کے بعد اظہر ملک نے حالاتِ حاضرہ کو موضوعِ گفتگو بنایا اور اِس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ربِ کریم نے کمال نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہ سخت حالات میں بھی خاص عنایات کی بارش کرتا رہتا ہے اور حقیقی دوست مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ غیرمعمولی بارشوں اور تباہ کُن سیلابوں سے جانی نقصان بھی ہوا ہے اور ایک موقع پر باپ اور بیٹی کار میں سیلابی پانی کی یلغار میں بہہ گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ گلگت بلتستان میں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ گرمی کی شدت سے گلیشیر پگھل گئے ہیں اور ہر سُو پتھر ہی پتھر نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کے بڑے بڑے شہر بھی غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اِس ہلاکت خیز تباہی سے زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایک طرف تباہی کے یہ قیامت خیز مناظر اور دُوسری طرف ہر آزمائش میں آزمایا ہوا دوست چین تباہ شدہ علاقوں کی آبادکاری میں مشغول نظر آتا ہے۔ اُس نے اِس مقصد کے لیے 6ملین ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ وہ متاثرہ علاقوں میں وسیع و عریض سڑکیں تعمیر کر رہا ہے جن کی بدولت فاصلے کم ہو جائیں گے اور معاشی ترقی میں غیرمعمولی اضافہ ہو گا۔ اِس طرح پاکستان کے لیے تعمیروترقی کا ایک جدید عہد طلوع ہو رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا مجھے تشویش اِس بات کی ہے کہ ہم دستور کی صریح خلاف ورزیاں کرتے آ رہے ہیں جس کے نتائج بہت خوفناک نکل سکتے ہیں۔ ہمارے دستور کی شِق 140۔الف کے تحت صوبائی حکومتیں اِس امر کی پابند ہیں کہ وہ مقامی حکومتیں قائم کرنے کے لیے قانون بنائیں، اُنہیں اختیارات اور وَسائل سے لیس کریں اور اُن کے باقاعدہ انتخابات کروائے جائیں۔ اِن واضح ہدایات کے برعکس سیاسی حکمرانوں نے خفیہ طور پر اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی جس کے تحت صوبوں کوقومی محصولات کا 62 فی صد حصّہ تفویض کر دیا گیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آئینی ترمیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ شامل تھے۔ اُس کمیٹی کے ارکان سے یہ حلف لیا گیا تھا کہ وہ ترامیم کے بارے میں پارلیمان کے ارکان سے بھی کوئی گفتگو نہیں کریں گے اور پورا معاملہ صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔ ایک ماہ کی دماغ سوزی کے بعد متفقہ سفارشات ترتیب دے دی گئیں جن کی کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ پھر ایک دن یہ ساری سفارشات چند گھنٹوں میں منظور کر لی گئیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اِن اصلاحات میں صوبائی خودمختاری کی حدود شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات سے بھی دو ہاتھ آگے تھیں۔ مزید ستم یہ ہوا کہ احتساب کا مؤثر نظام قائم نہیں کیا جس کی بدولت صوبے بڑی حد تک خودمختار ہو گئے اور شہری بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اِس بنا پر پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے مسائل میں اُلجھتا جا رہا ہے اور عوام کے اندر شدید بےچینی پائی جاتی ہے۔ اِس نازک موقع پر سخت احتیاط کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

تازہ ترین