ترکیہ نے اسرائیل سے تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان کے مطابق ترکیہ کے بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسرائیلی طیاروں کے لیے بھی ترک فضائی حدود بند کر دی ہے۔
ہاکان فدان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری نسل کشی کی حقیقت دنیا تسلیم کر چکی ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترک میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ ہاکان فدان نے کہا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے پیدا کردہ قحط کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہیئں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملوں کے حوالے سے اپنا رویہ تبدیل کر لیا ہے اور اب وہ کھل کر تل ابیب کا دفاع نہیں کر رہا۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ غزہ پٹی میں جاری نسل کشی، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی جارحانہ اقدامات کے خلاف ردعمل ہے، امریکا کی لامحدود حمایت پر غزہ پٹی پر قبضے کا اسرائیلی منصوبہ دو ریاستی حل کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اسرائیل کے حملوں میں اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 63 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ محصور غزہ شدید قحط اور تباہی کا شکار ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے وارنٹ جاری کیے تھے۔