• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الزائمر، پارکنسن جیسے دماغی امراض کی تشخیص آنتوں سے ممکن، ماہرین

ماہرین کی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ الزائمر اور پارکنسن جیسے دماغی امراض کی تشخیص آنتوں کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے۔

تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بیماریوں کے خطرناک عوامل اس طرح 15 سال پہلے تک سامنے آسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وٹامن کی کمی، آنتوں کی سوزش، تیزابیت، ذیابیطس اور آنتوں کے دیگر مسائل الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کے خطرات بڑھاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق 155 تجزیوں کے بعد سامنا آیا کہ آنت اور دماغ کے تعلق کو متاثر کرنے والی بیماریاں ہی الزائمر اور پارکنسن کے خطرے کو بڑھاتی ہیں۔

جریدے سائنس ایڈوانسز کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق الزائمر اور پارکنس جیسی بیماریاں یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق الزائمر ہی ڈیمنیشیا جیسی بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ پارکنسن کی عام علامت قبض ہے، جو تقریباً 70 فیصد مریضوں کو متاثر کرتی ہے اور مرض کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں الزائمر اور پارکنسن کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں، برطانیہ میں 1 لاکھ 53 ہزار پارکنسن کے مریض ہیں جن کی تعداد اگلے 5 برس میں 1 لاکھ 72 ہزار ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں 8 لاکھ 82 ہزار افراد ڈیمنیشیا میں مبتلا ہیں، جن میں سے ایک تہائی کی تشخیص ہی نہیں ہوپاتی ہے۔

صرف برطانیہ میں ڈیمنیشیا کا خرچ 42 ارب پاؤنڈز ہے، جو 15 سال میں 90 ارب پاؤنڈز تک جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آنتوں کے ذریعے بیماری کی ابتدائی تشخیص اور علاج سے بیماری کی رفتار کم کی جاسکتی ہے اور مریض کی زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پارکنسن کی علامات میں بے قابو کپکپی، حرکت میں سستی، پٹھوں کی سختی کے ساتھ سوچنے اور یادداشت کے مسائل ہیں۔

ماہرین کے مطابق الزائمر کی ابتدائی علامات میں یادداشت کی کمزوری، سوچنے اور سمجھنے میں دشواری اور زبان کے مسائل ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید بگڑ جاتے ہیں۔

صحت سے مزید