• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرو رندھاوا نے گانے کی متنازع ویڈیو پر مقبولیت کا کریڈٹ لینا شروع کردیا

بھارتی گلوکار و اداکار گرو رندھاوا نے نئے گانے کی متنازع ویڈیو پر تنقید کا جواب دینے کے بجائے اس کی مقبولیت کا کریڈٹ لینا شروع کردیا۔

گرو رندھاوا کو نئے گانے کی ویڈیو میں اسکول کی طالبہ کے لباس میں اداکارہ کا بولڈ ڈانس کروانا مہنگا پڑ گیا۔

سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین نے الزام عائد کیا ہے کہ اس میوزک ویڈیو میں اسکول طالبہ کو جنسی انداز میں پیش کیا گیا ہے اور استاد، شاگرد کے رشتے کو نامناسب اور رومانوی انداز میں دکھایا گیا ہے۔

اس پر گرو رندھاوا نے براہِ راست وضاحت دینے کے بجائے انسٹاگرام اسٹوری شیئر کردی۔

جس میں گلوکار نے اپنے گانے کی مقبولیت کے اعداد و شمار دکھاتے ہوئے کہا کہ "Azul" نے صرف ایک گھنٹے میں ایک لاکھ سے زائد ویوز حاصل کیے، جبکہ اسے 27 ہزار سے زائد مرتبہ سرچ کیا گیا ہے۔

گرو رندھاوا نے اپنے پیغام  میں لکھا کہ "Azul is Azuling ’جب خدا ساتھ ہو تو صرف آگے بڑھتے ہیں، اس پر انہوں نے پیار بھرا ایموجی تو شیئر کردیا، مگر گانے کی ویڈیو پر تبصرے بند کردیے، تاکہ تنقید کرنے والے اپنی رائے براہِ راست ظاہر نہ کر سکیں۔

خیال رہے کہ نئے گانے کی ویڈیو میں گرو رندھاوا کو ایک فوٹوگرافی ٹیچر کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کلاس کی گروپ تصویر لینے کے منتظر ہیں۔ اسی دوران اداکارہ انشیکا پانڈے اسکول یونیفارم میں آتی ہیں اور رقص پیش کرتی ہیں، جس پر گرو کا کردار واضح طور پر مسحور نظر آتا ہے، بعد ازاں انشیکا عام کپڑوں میں بولڈ ڈانس کرتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو اخلاقی طور پر غلط رشتے کو دلکش انداز میں پیش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید