لاہور کے علاقے میں سیلاب متاثرین بارش میں سڑک پر قائم کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں، واش رومز نا ہونے کے باعث خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔
خواتین کا کہنا ہے کہ رفع حاجت کے لیے دور جھاڑیوں میں جانا پڑتا ہے، جس سے بہت پریشانی ہوتی ہے۔
لاہور میں سیلاب سے بےگھر ہو کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والی خواتین اور بچے کئی مسائل سے دو چار ہیں، خواتین اور بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔
جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، وہاں ہر شخص ہی پریشان ہے، تاہم بے گھر ہو کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والی خواتین اور بچوں کے مسائل اور بھی زیادہ ہیں۔
خواتین کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپوں سے انھیں عارضی چھت تو مل گئی لیکن بیت الخلاء کے مناسب انتظامات نہیں، وہ کھیتوں میں جانے یا کھلی جگہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں، اگر کسی جگہ بیت الخلاء موجود بھی ہے تو وہاں لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں، بیت الخلاء صاف نہیں ہوتے، خواتین کے مخصوص مسائل کے حوالے سے بھی کوئی انتظامات نہیں۔
دوسری جانب سیلاب زدہ علاقوں میں بچوں میں خارش اور جلدی امراض بھی پھیلنے لگے، چوہنگ لاہور کے ایک ریلیف کیمپ میں 2 ماہ کے شیر خوار کی آنکھوں سے خون نکل رہا ہے، ماؤں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں انھیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ کیا کریں اور کدھر جائیں۔
خواتین کا کہنا ہے کہ حفظان صحت کے اصولوں کا کہیں کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا، جس کی وجہ سے ادویات بھی اثر نہیں کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، راوی پل، مال روڈ، گلبرگ، ڈیوس روڈ اور گڑھی شاہو میں بارش ہوئی۔
ترجمان واسا کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش نشتر ٹاؤن میں 145 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ لکشمی چوک میں 124، اپرمال میں 124 اور تاج پورہ میں 119ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اقبال ٹاؤن میں 106، گلشن راوی میں 97، فرخ آباد میں 92، پانی والا تالاب میں 88، گلبرگ میں 84، جوہر ٹاؤن میں 80، مغل پورہ میں 67، جیل روڈ پر 58 اور ایئرپورٹ پر 25 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق شہر کا درجۂ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ہوائیں 3 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
لاہور میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مون سون کا آٹھواں اسپیل 2 ستمبر تک جاری رہے گا۔
ادھر چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دو گھنٹوں سے زائد مسلسل بارش کے باعث سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔
شیخوپورہ اور گرد و نواح میں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا جبکہ جہلم اور گرد و نواح میں بھی بارش سے ندی نالے بپھر گئے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔