• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب اور سندھ نے زرعی آمدن پر ٹیکس کی پرانی شرحیں بحال کر دیں

اسلام آباد(مہتاب حیدر) پاکستان کے دو بڑے صوبوں، پنجاب اور سندھ، نے زرعی آمدن پر عائد کیے گئے ٹیکس کی پرانی شرحیں بحال کر دی ہیں اس سے کسانوں کو اگرچہ وقتی ریلیف تو ملے گامگر قرض دہندہ ادارے سے مذاکرات کےلیے ایک نیا چیلنج بھی پیدا ہوگیا ہے۔ اس سے قبل دونوں صوبوں نے یہ ٹیکس عام آمدنی کی شرحوں کے مطابق کر دیا تھا، جس سے کسانوں پر بھاری بوجھ پڑا تھا۔سب سے پہلے پنجاب نے مالی سال 2025 کے لیے زرعی آمدن ٹیکس کی پرانی شرحیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ پنجاب اسمبلی نے ’’پنجاب زرعی آمدن ٹیکس (ترمیمی) ایکٹ 2024‘‘ منظور کرتے ہوئے صوبائی ریونیو بورڈ کو اختیار دیا تھا کہ وہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹیکس کی شرح طے کرے۔ اس کے بعد بورڈ آف ریونیو پنجاب نے اعلان کیا کہ سال 2025 کے لیے پرانی شرحیں ہی نافذ رہیں گی۔سندھ حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا، “اس فیصلے سے سندھ کے کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ختم ہو گئی ہے۔ نئی یعنی زیادہ شرحیں یکم جولائی 2025 سے نافذ ہوں گی۔”زرعی آمدن پر ٹیکس کی نئی (بحال شدہ) شرحیں مندرجہ ذیل ہیں۔جن کی کل آمدن 12 لاکھ روپے تک ہے، ان پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔12 لاکھ سے 24 لاکھ روپے تک آمدن پر، 12 لاکھ سے زائد حصے پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔24 لاکھ سے 48لاکھ روپے تک آمدن پر، 60 ہزار روپے کے ساتھ 24لاکھ سے زائد حصے پر 10 فیصد ٹیکس ہوگا۔
اہم خبریں سے مزید