• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مکھن یا نباتاتی تیل؟ کون سی چکنائی جان لیوا؟

—تصاویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصاویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سادہ غذا میں معمولی تبدیلی سے قبل از وقت موت کا خطرہ 20 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہارورڈ میڈیکل اسکول کی 50 سالہ تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں جن کے مطابق مکھن یا دیسی گھی کا زیادہ استعمال جان لیوا ہو سکتا ہے جبکہ نباتاتی تیل عمر بڑھانے میں معاون ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ مکھن یا دیسی گھی کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں کم مکھن یا دیسی گھی کھانے والوں کی نسبت کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 15 فیصد زیادہ ہوتا ہے، دوسری جانب مکئی، زیتون، بیجوں و دیگر پودوں سے حاصل کردہ تیل کا استعمال انسان کو صحت مند بناتا ہے۔

سائنسدانوں نے 50 سال کے عرصے میں 2 لاکھ 21 ہزار امریکیوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا، سوالناموں کے ذریعے کیے گئے اس تجزیے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا کہ مکھن کی جگہ پودوں پر مبنی کسی بھی قسم کا تیل استعمال کرنے سے موت کا خطرہ تقریباً 20 فیصد تک کم ہو گیا۔

روزانہ خوراک میں 10 گرام نباتاتی تیل کا اضافہ کینسر سے موت کے خطرے کو 11 فیصد اور دل کی بیماریوں سے موت کے خطرے کو 6 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔

اس کے برعکس روزانہ 10 گرام مکھن کا اضافہ کینسر سے موت کے خطرے کو 12 فیصد بڑھا دیتا ہے، صرف مکھن کی ایک ٹکیہ کو اتنی ہی مقدار میں بیجوں کے تیل سے بدلنے پر موت کا خطرہ 17 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران مجموعی طور پر 50 ہزار 932 شرکاء کا انتقال ہوا، جن میں سے 12 ہزار 241 کینسر اور 11 ہزار 240 دل کے امراض کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

ماہرین نے رائے پیش کی ہے کہ یہ ایک اہم مطالعہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مکھن کا انتخاب کرنے والے ان لوگوں جتنا نہیں جیتے جو سبزیوں کے تیل کا انتخاب کرتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی ہے کہ مکھن میں سیچوریٹڈ فیٹس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ سویا بین، کینولا اور زیتون کے تیل میں ان سیچوریٹڈ فیٹس زیادہ ہوتا ہے جو صحت کے لیے مفید ہے۔

ماہرین نے سوشل میڈیا پر نباتاتی تیلوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کو بھی مسترد کر دیا۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن نے لوگوں کو کولیسٹرول کنٹرول کرنے کے لیے مکھن کی جگہ سبزیوں کے تیل سے بنے مارجرین کے استعمال کا مشورہ دیا ہے جبکہ حال ہی میں کچھ سائنسدانوں نے بیجوں کے تیل سورج مکھی، مکئی وغیرہ پر تنقید کی ہے کہ ان میں اومیگا-6 کی زیادتی سوزش اور بعض صورتوں میں کینسر کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

دیگر ماہرین اس سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اومیگا-6 تیل ہماری صحت کے لیے ضروری ہیں اور یہ خراب کولیسٹرول کو کم کر کے دل کی بیماریوں سے موت کے خطرے کو گھٹاتے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید