ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف ایک ہفتے تک سوشل میڈیا کے استعمال میں نمایاں کمی سے نوجوانوں کی ذہنی صحت کئی پہلو سے بہتر پائی گئی۔
آج کی دنیا میں بہت سے نوجوانوں کےلیے سوشل میڈیا ہی اُن کی زندگی کا مرکز بن چکا ہے، دوستوں سے رابطہ، خبریں اور ذہنی دباؤ سے جڑا مواد ایک ہی اسکرین پر دستیاب ہے۔
ایک نئی تحقیق سے پتا ہے کہ صرف ایک ہفتے کےلیے سوشل میڈیا سے دور رہنا بھی بے چینی، ڈپریشن اور نیند کے مسائل میں کمی لاسکتا ہے۔
محققین نے 14 سے 24 سال کی عمر کے 295 نوجوانوں کا مشاہدہ کیا، جنہوں نے اپنا روزانہ کا اسکرین ٹائم تقریباً 2 گھنٹے سے کم کرکے صرف 30 منٹ کردیا تھا۔
ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد ان نوجوانوں کا سروے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان کی بے چینی، ڈپریشن اور بے خوابی کی علامات نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں، خاص طور ان افراد میں، جن میں اسے پہلے شدید ڈپریشن تھا۔
تحقیق کے مطابق اس اقدام سے بے چینی کی علامات میں 16 فیصد، ڈپریشن میں تقریبا 25 فیصد اور بے خوابی میں ساڑھے 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیر مشاہدہ رہنے والے نوجوانوں میں تنہائی کا احساس سوشل میڈیا کے اوقات میں کمی کے باوجود بھی برقرار رہا۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال کم کرنا فائدہ مند ہے، لیکن یہ ذہنی صحت کا واحد یا بنیادی علاج نہیں ہونا چاہیے۔
تحقیق شائع ہوچکی ہے، جس کے شریک مصنف ڈاکٹر جان ٹوریٹس ہیں، جو ہارورڈ میڈیکل اسکول میں نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔