قدیم تہذیبوں کی زبان اور الفاظ میں اس قدر گہرائی اور تاریخ ہوتی ہے کہ ان کا ترجمہ کرنا یا ان کا مطلب سمجھانا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ پنجابی زبان کا لفظ پسوڑی بھی اسی طرح کی ایک اصطلاح ہے کہ جسے اردو کےالجھن اور ہندی کے گڑ بڑ سے سمجھانا مشکل ہے۔ پسوڑی صدیوں سے روزمرّہ کی پنجابی کا حصہ ہے مگر علی سیٹھی نے کوک اسٹوڈیو میں اس پر گانا گا کر نہ صرف اس اصطلاح کو بین الاقوامی طور پر امر کر دیا بلکہ اس میں بین الاقوامی ، رومانوی اور روحانی معانی بھر دیئے ۔ ملکی صورتحال ایک بار پھرپسوڑی میں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ تضادستان ایک پسوڑی میں نہیں بہت ساری پسوڑیوں میں ہے اور پسوڑیوں سے نکلنے کا کوئی سیدھا اور آسان راستہ نظر نہیں آرہا۔
سیاست میں لڑائی تو شخصی بنیادوں پر شروع ہوئی تھی، عمران خان نے نواز شریف اور آصف زرداری کوکرپٹ کہنا شروع کیا مقتدرہ بھی ساتھ تھی بالآخر اس بیانیے نے عروج پایا اور عمران کے انصافیے گلی گلی چور چور کہنے لگے یہی فارمولہ جنرل باجوہ پر لاگو کر کے انہیں میر جعفر اور میر صادق کے خطابات سے نوازا گیا ۔ نواز شریف، عمران خان اور انکی جماعت کے ہر حد پار کرنے کو نہ بھول پائے ہیں اور نہ معاف کرنے کو تیا رہیں ۔دوسری طرف عمران خان بھی ان دو جماعتوں سے کسی مصالحت کی بجائے انہیں زندہ دفن کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ تین سال کی مسلسل آویزش کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ نون لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ،مصالحت یا اتفاق رائے کا کوئی امکان نہیں۔ پسوڑی کا دوسرا پہلو عمران اور ان کی جماعت کی مقتدرہ سے لڑائی ہے، پہلے جنرل باجوہ کو معتوب کیا گیا اور پھر جنرل عاصم منیر پر مسلسل تیر اندازی کی گئی۔ اس گولہ باری نے راستے کے تمام پل تباہ کر دیئے ہیں اور فی الحال یہ بھی طے ہے کہ مقتدرہ اور عمران خان کی پسوڑی بھی مکمل ڈیڈلاک کا شکار ہے۔
ریاست میں بھی ایک پسوڑی ہے کہ آئین میں کچھ ایسے مسائل ہیں جنکی وجہ سے اچھی حکمرانی ، مکمل کنٹرول اور اختیار حاصل نہیں اسی لئے گاہے گاہے ترامیم کی پسوڑی پڑ رہی ہے کہ ریاستی حکمرانی کے راستے میں کوئی پسوڑی حائل نہ رہے۔ 26 ویں اور 27ویں ترمیم کا مقصد عدلیہ کے بڑھے ہوئے کردار کو کم کرنا تھا دیو قامت عدلیہ اب پست اختیارات کی حامل رہ گئی ہے۔ زندگی بھر کے استثناء اور فوج کے ڈھانچے میں تبدیلیوں کا مقصد شخصی تحفظ کے علاوہ طویل مدتی منصوبہ بندی میں پسوڑیوں کو ختم کرنا ہے، مقتدرہ اور اتحادی حکومت 27 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد سے مضبوط، محفوظ اور بالاتر تو ہو گئے ہیں مگر اسکے نتیجے میں ریاست کے باقی ستون کمزور اور شکستہ لگنے لگے ہیں۔ ریاست کی عمارت کا ایک ستون طاقت ور اور آہنی ہو بھی جائے اور باقی کھمبے شکستہ ہو جائیں تو یا تو ریاست ایک طرف جھک جاتی ہے یا پھر کمزور کھمبے سہارا دینے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔
ایک نئی پسوڑی بین الاقوامی حالات کے پڑھنے اور پڑھانے میں بھی درپیش ہے ۔بین الاقوامی حالات سے ریاستی دانشور یہ کشید کر چکے ہیں کہ جمہوریت، جمہوری آرڈر اور انسانی حقوق کی پابندی دنیا کے منظر نامے کے سینٹر اسٹیج سے ہٹ کر بیک اسٹیج کا حصہ بن چکی ہیں مگر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیئرمین شاید ابھی اسی پرانے آرڈر اور سوچ کی ڈگر پر ہیں، اس لئے انہوں نے 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کی منظوری پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ تضادستان کی جو پسوڑی شخصی لڑائیوں سے شروع ہوئی تھی اب اسے جمہوری اور آمرانہ آویزش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، ان ترامیم کی منظوری سے پہلے دنیا بھر میں کہیں سے پاکستان کے نظام پر کوئی اعتراض نہیں اٹھا تھا یہ پہلی آوازہے جو یہ بتا رہی ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کا دور پاکستان کے معاملات میں اندرونی مداخلت سے باز رہے گا لیکن پوری دنیا ٹرمپ کے زیرنگیں نہیں ہے ،یورپ اور اقوام متحدہ سے چین، مصر اور سعودی عرب کے نظام پر بھی تنقید ہوتی رہی ہے اور اگر پاکستان نے بھی اسی طرح کا نظام تشکیل دینے کی طرف پیش رفت کی تو کم از کم یورپ سے اخلاقی دبائو ضرور پڑے گا۔تضادستان کی پسوڑیاں نظریاتی بھی ہیں اور عملی بھی۔ سوا سو سال سے اس خطّے میں جمہوریت کو آئیڈیل کے طور پر اپنایا گیا مگر آج کل پھر سے بحث جاری ہے کہ جمہوریت کی پسوڑی سے جان چھڑائی جائے تاکہ اختلاف کی کِل کِل ختم ہو۔ یہ پسوڑی بھی موجودہے کہ روشن خیالی ضروری ہے یا ملک کا مذہبی اور نظریاتی تشخص اسے بقا دے سکتا ہے۔ یہ پسوڑی بھی آئے روز رہتی ہے کہ اصل مسئلہ صوبوں کا بڑا ہونا ہے یاصوبے زیادہ ہوں تو طرز حکمرانی موثر ہو سکتا ہے اس پسوڑی پر بھی کام جاری ہے۔ ایک اور پسوڑی سول اور مقتدرہ کے درمیان ہے مقتدرہ سمجھتی ہے کہ وہ زیادہ منظم، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ ایماندار ہے جبکہ سول کیڈرز کا خیال ہے کہ مقتدرہ کے لوگ ڈسپلنڈ ہیں مگر زمینی حقائق کا ادراک نہیں رکھتے۔ پارلیمانی نظام یا صدارتی نظام پر بھی پسوڑی ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی کیوں کارگر نہیں ہو رہا؟ طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کی ریاست کے بارے میں مذہبی تشریحات بھی آئے دن پسوڑی کی وجہ بنتی ہیں۔ وکیل عدلیہ کے اختیارات پر پسوڑی ڈالے بیٹھے احتجاج کر رہے ہیں۔ پسوڑی تو یہ بھی ہے کہ نونی قیادت، عمرانی حکمرانی سے اس قدر خفا ہے کہ وہ انصافیوں کو سزا دلانے کیلئے اپنے جائز حقوق بھی سرنڈر کرنے پر تیار ہے۔
آج کل کی سب سے بڑی تضادستانی پسوڑی بہرحال اڈیالہ جیل کے باہر پڑی ہوئی ہے، جہاں بانی تحریک انصاف سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے کبھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی وہاں دھرنا دیتے ہیں اور کبھی علیمہ خان اور ان کی بہنیں وہاں احتجاج کرتی ہیں ۔ یہ منظر جب سوشل میڈیا پر آتا ہے تو عمران کے بڑے بڑے مخالف بھی نرم ہونے لگتے ہیں عمران خان کے دور میں پنکھے اتارے گئے اور ایئرکنڈیشنر بند کر دیئے گئے کیا اب ملاقاتیں بند کرکے اسی دائرے میں سفر کی پسوڑی کو دہرایا نہیں جارہا؟
اِس پسوڑی یعنی بقلم خود کو تین سال سے یہ پسوڑی پڑی ہوئی ہے کہ پسوڑی سے نکلنے کا واحد حل مذاکرات اور پھر ان مذاکرات کے ذریعے مفاہمت کا ممکنہ راستہ نکالنا ہے ۔نہ نواز شریف نے یہ تجویز مانی نہ عمران خان اپنے موقف میں تبدیلی پر تیار ہوئے اور نہ ہی مقتدرہ اس طرح کی ڈھیل دینے کو تیارہے کیونکہ اس کو یقین ہے کہ عمران خان کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ،وہ صلح کے باوجود ہر ایک سے انتقام لے کر رہے گا۔ اس تین طرفہ ڈیڈ لاک سے ملک بھر میں بے اطمینانی کی پسوڑی پھیلی ہوئی ہے۔ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے؟ یہ پسوڑی ایک پہیلی بن گئی ہے جو کسی سے حل نہیں ہو رہی۔بظاہر سب چپ ہیں،بظاہر امن ہے، بظاہر کنٹرول ہے ، طاقت کا پلّہ بھاری ہے کوئی چیلنج نہیں، اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، دور دور تک نظام کوبھی کوئی خطرہ نہیں، بظاہر 28،29اور30ویں ترمیم کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں،بظاہرملک کو مصر، سعودی عرب یا چین بنانے میں بھی کوئی امرمانع نہیں ، بظاہر لوگوں نے جنگ جیتنے کے بعد نظام کی تبدیلی کو امرِلازم سمجھ کر قبول کرلیا ہے، بظاہر جتنے مرضی ہتھوڑے لگیں، خنجر مارے جائیں یا تیر برسائے جائیں، بے روح جسم سب قبول کرتے جائیں گےلیکن اگر فرض کریں کہ سب کچھ بظاہر ہوا اور اندر کچھ اور پک رہا ہوا تو کیا ہوگا؟؟