• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مینار پاکستان اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت آ ل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں ’’قرار داد لاہور ‘‘ منظورکی گئی 329ایکٹرپرمشتمل اس قطعہ اراضی کو’’ منٹوپارک‘‘ کہا جاتا تھا جسے بعد ازاں گریٹر اقبال پارک کا نام دیا گیا۔گریٹر اقبال پارک نے جلسہ گاہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی ، جمعیت علما اسلام سمیت ہر بڑی قابل ذکر جماعت نے مینار پاکستان کے سائے میں اجتماع کے انعقاد کو ’’سیاسی قوت‘‘ کے مظاہرے کیلئے استعمال کیا ۔ جماعت اسلامی کے قیام کے بعد21نومبرسے23نومبر2025ء تک ہونے والا 16واں اجتماع ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد نے شرکت کی۔قبل ازیں11سال قبل2014ء میںمینار پاکستان کے سائے تلے اجتماع عام منعقد ہوا تھاجس میں مجھے بھی شرکت کا اعزا زحاصل ہوا تھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کاپہلا اجتماع عام 6سے8مئی 1949ء کو لاہور میں ہی منعقدہوا تھا۔اب تک لاہور میں جماعت اسلامی کا یہ چھٹا اجتماع عام ہے ۔ مسلم لیگ(ن) ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی مینار پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والے اجتماعات کو سب سے بڑے اجتماعات ہونے کے دعوے کرتی رہی ہیں،یہ اجتماعات چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتے تھے لیکن جماعت اسلامی کا حالیہ اجتماع عام ان اجتماعات سے نہ صرف بڑا اور تین دن پر محیط تھا۔ اگرچہ اس سیاسی میلے کے ’’دولہا ‘‘ حافظ نعیم الرحمن ہیں جن کی امیج بلڈنگ میں اجتماع عام نے بڑا کردار ادا کیا ہے تاہم اجتماع عام کے ساڑھے تین لاکھ سے زائد شرکاءکے قیام و طعام کا خوش اسلوبی سے انتظام کرنے کا کریڈٹ لیاقت بلوچ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے ۔ میری لیاقت بلوچ سے زمانہ طالبعلمی سے دوستی ہے میں نے ان کو اسلامی جمعیت طلبہ میں بہت قریب سے دیکھا ہے وہ بے پنا ہ صلاحیتوں کے مالک ہیں تنظیمی امورکے ماہر ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں اجتماع عام کا ناظم مقرر کیا گیا،انہوں نے یہ فریضہ دو اڑھائی ماہ کی شبانہ روز محنت سے ادا کیا ۔ جب شرکاء کی تعداد بڑھ گئی تو منتظمین نے انکے قیام کیلئے بادشاہی مسجد کے وسیع و عریض صحن کو بھی استعمال کیاجو جماعت اسلامی کےحکومت پنجاب سے خوشگوار تعلقات اور سیاست کاری کی عکاسی کرتا ہے ۔ اجتماع عام میں ہزاروں خواتین کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جماعت اسلامی کا خواتین میں وسیع حلقہ ہے میں نے کسی جماعت کے اجتماع میں باپردہ خواتین کی اتنی بڑی تعدادنہیں دیکھی ۔جماعت اسلامی کی سیاسی قوت کے کسی مظاہرے میں خواتین کی اس قدر تعداد کی شرکت میرے لئے باعث حیرت تھی۔ اجتماع کی سب سے اہم بات برطانوی نو مسلم خاتون جو سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی ہیںکی شرکت ہے،ان کا خطاب اجتماع عام کی توجہ کا مرکز بنا رہا ۔ گریٹر اقبال پارک میں نئی تاریخ لکھی جا رہی تھی دنیا کے45ممالک سے تقریباً120سرکردہ رہنمائوں نے اجتماع عام میں شرکت کی جبکہ 35ممالک سے 230 پاکستانیوںنےاپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی اگر اسے بین الاقوامی نوعیت کا اجتماع کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔دنیا بھر کی اسلامی تحاریک کی نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جماعت اسلامی کو پوری دنیا میں مسلمانانِ پاکستان کی نمائندہ جماعت تصور کیا جاتا ہے۔ منٹو پارک میں 23مارچ1940ء کو کم و بیش ایک لاکھ افراد کے اجتماع میں منظور کی گئی قرار داد لاہور میں قیام پاکستان کے خدو خال بیان کئے گئے تھے جماعت اسلامی نے دوسری بار مینار پاکستان کے سائے تلے بڑا اجتماع کر کے ان مقاصد کے حصول کیلئے عزم کا اعادہ کیا جن کے حصول کا 85سال قبل مسلمانان ہند سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اب کی بار جماعت اسلامی نے ’’نظام کی تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگایا ہے اس نعرے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ اجتماع کے شرکاء کی بڑھتی تعداد نے ایک مرحلے پر تو پریشان کر دیا تھا ۔ سیدابولاعلیٰ مودودیؒ نے1940 میں گنتی کے چند ساتھیوں کے ہمراہ جس جماعت کی بنیاد رکھی تھی وہ آج ایک تناور درخت بن گئی ہے یہ جماعت اسلامی کا ہی حسن ہے اس میں موجودہ اور سابق امیر ہاتھوں میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک اسٹیج پر کھڑے ہوں اگر اجتماع عام کو حافظ نعیم الرحمن کی تقریب رونمائی کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

جس میں سید مودودی ؒ ، میاں طفیل محمد ،قاضی حسین احمد ، سید منور حسن ، اورسراج الحق کی مسند پر حافظ نعیم کو بٹھا کر قوم کو موجودہ نظام کوتبدیل کرنے کا نعرہ دیا گیا ہے۔حافظ نعیم الرحمن کی عینک کی بولی لگی تو ایک صاحب حیثیت شخص نے ایک کروڑ 10 لاکھ میں خرید لی اسی طرح اجتماع کے آخر میں عطیات اکھٹے کرنے کا اعلان ہوا تو چند منٹو ں میں 10کروڑ روپے اکھٹے ہو گئے ۔ ’’بدل دو نظام ‘‘ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں یہ قوم کے دل کی آواز ہے جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا جماعت اسلامی نے پرو گرام بنایا ہے۔ یہ اجتماع عام اس پروگرام کی تکمیل کا آغاز ہے اجتماع عام میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے جماعت اسلامی نے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کا پرو گرام بنایا ہے اور جماعت اسلامی اپنے اوپر ملائوں کی جماعت کی چھاپ ختم کرنا چاہتی ہے ۔ یہ اجتماع ایک تحریک کی شکل اختیار کرے گا جس کی کوکھ سے ایک بار پھر پورے ملک میں نظام کی تبدیلی کی امید جنم لے گی۔جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام میں بین الاقوامی اسلامی تحاریک کالاہور میں ہیڈ کوارٹر بنانے کا فیصلہ سب سے بڑی کامیابی ہے ۔یہ تنظیم پوری دنیا میں اسلامی تحاریک کو منظم کرے گی اور مختلف ممالک میں اسلامی تحاریک کو درپیش رکاوٹیں دور کرے گی ۔ اجتماع میں مختلف سیشن ہوئے جن میں حافظ نعیم الرحمن کا خطاب جماعت اسلامی کے کارکنوں کیلئے انسپائرنگ تھاان کا انداز تخاطب جارحانہ ہے ،جماعت اسلامی کے کارکنوں کوحافظ نعیم الرحمن کی شکل میں نیا قاضی حسین احمد مل گیا ہے۔

تازہ ترین