پروفیسر خالد اقبال جیلانی
رمضان المبارک کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس مہینے میں رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق جس طرح بندوں کے اعمال اور نیکیوں کے اجر و ثواب کو ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ اپنے روزے دار بندوں کے رزق میں بھی برکت اور دستر خوان پر وسعت عطا فرماتا ہے۔ رمضان المبارک کے دیگر کئی صفاتی نام احادیث و روایات میں آئے ہیں۔
مثلاً شہر الصبر ِ صبرکا مہینہ، شہر الصوم روزہ کا مہینہ ، سید الشہور مہینوں کا سردار ، شہر اللہ، اللہ کا مہینہ، شہر العظیم عظمت والا مہینہ، شہر المبارک برکت کا مہینہ، وہیں اللہ کے رسول ﷺ نے رمضان المبارک کو’’ شہر المواسات‘‘ ہمدردی و غم خواری اور ایثار و قربانی کا مہینہ بھی فرمایا اور اس میں کسی روزے دار کو روزہ افطار کرانے پر اُس روزے دار کے برابر اجر کی نوید بھی سنائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: رمضان ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔
یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس نے کسی روزے دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے لئے گناہوں کی مغفرت اور جہنم کی آگ سے آزادی کا سبب ہوگا اور اسے اس روزے دار کے برابر ثواب دیا جائے گا بغیر اس کے کہ اس روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔آپﷺ سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے ہر ایک کو سامانِ (افطار) میسر نہیں ہوتا کہ جس سے وہ روزے دار کو افطار کراسکے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ یہ ثواب اس شخص کوبھی عطا فرمائے گا۔ جو دودھ کی تھوڑی سی لسی یا کجھور یاپانی کے ایک گھونٹ پر ہی کسی روزے دار کو افطار کرادے اور جو کوئی کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے ،اللہ اسے میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا، پھر اسے پیاس ہی نہیں لگے گی، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (بیہقی شعب الایمان)
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ میں رمضان المبارک کے لئے ’’مواسات‘‘ کا لفظ استعمال ہواہے۔ ’’مواسات‘‘ کے معنی ہیں۔ غم گساری، جان و مال سے کسی کی مدد کرنا، ایثار کا مظاہرہ کرنا۔ اپنے بھائی کی غم خواری کرنا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے اس مہینے میں مومن بھائیوں کی مدد کرنے، ان کا بوجھ ہلکا کرنے اور ان سے غم گساری سے متعلق اتنی ہدایات و ترغیبات دیں کہ جن کی کوئی حد نہیں۔
اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے مزید فرمایا کہ جو اس مہینے میں اپنے خادم و ملازم کے کام میں کمی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا‘‘ ۔ معلوم ہوا کہ اب یہ ہمدردی خواہ مالی ہو یاغذا، راشن وغیرہ فراہم کرکے ہو یا پھر ایک ملازم سے اس کے ملازمتی امور کے بوجھ کو کم کر کے یا ختم کر کے ہو یا لباس دےکر ہو، رسول اللہ ﷺ یوں تو اپنی ذات میں جو دوسخا کا دریا تھے ہی، لیکن رمضان میں آپ کا جو دوسخاغیر معمولی طور پر بارش کی طرح برستا اور ہر کوئی اس جو دوسخا کی بارش سے سیراب ہوتا تھا۔
رمضان میں آپ سے جو کوئی جو کچھ مانگتا، آپ انکار نہیں فرماتے تھے۔ احادیث میں ترغیب دلائی گئی ہے کہ اس ماہ مبارک کو مسلمانوں کے ساتھ مواسات میں گزاریں ۔ کسی غریب کو روزہ افطار کرانا اور اچھی غذا سے پورا ضیافت کرنا بڑی نیکی ہی نہیں، بلکہ غربا پروری اور غم گساری کی اعلیٰ مثال بھی ہے۔ پھر یہ کہ روزے کی حالت میں بھوک پیاس پر صبر سے بھوک پیاس اور روٹی سے محروم انسانوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اخوت و غم گساری کا شوق اور جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
کپڑا نا ہونے پر صبر آجاتا ہے، لیکن روٹی نا ملنے پر صبر نہیں آتا۔ جب انسان کو جائز طریقے سے روٹی نہیں ملتی تو وہ ناجائز طریقوں پر اتر آتا ہے اور مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ حیوانیت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔ اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ معاشرے میں انسانوں کی شکل میں شیطانوں کی جماعت نظر آتی ہے۔ جیسا کہ آج ہمارے معاشرے کی کیفیت ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کی خبر گیری رکھیئے جن کو رمضان میں بھی روزہ افطار کرنے کو ایک کھجور بھی نصیب نہیں ہوتی، تاکہ وہ انسانیت کا جامہ چاک کر کے حیوانیت کے راستے پر نہ چلیں۔
موجودہ بدترین معاشی حالات میں رمضان کے سماجی پہلو اور مواسات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس مہینے میں غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے ان کی کفالت کا انتظام کریں، تاکہ اُن کے چہروں کی اداسی اور احساس محرومی کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں اس رمضان میں خصوصی طور پر اپنے پاس پڑوس، رشتے داروں اور دوست احباب کی خبر لیں۔ اُن میں جو مستحق زکوٰۃ ہو، اسے باعزت طریقے سے زکوٰۃ دیں۔
عام طور پر باوقار اور شریف لوگ اپنی سفید پوشی کی خاطر خود نہیں مانگتے، حالاں کہ وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ انہیں ہم اس لئے نظر انداز کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے دروازے پر مانگنے نہیں آتے، ہمارا یہ رویہ کسی طرح درست نہیں، بلکہ خود اُن کے دروازے پر جاکر انہیں رازداری سے اللہ کی دی ہوئی دولت میں سے ان کا حق اور حصہ دیں ،اس کے لئے ضروری نہیں کہ زکوٰۃ ہی کی رقم سے مدد کی جائے۔
ہر کسی پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی، بلکہ ہم عمومی ذرائع آمدنی سے بھی یہ مواسات قائم کر سکتے ہیں۔ عام طور سے رمضان میں بڑی بڑی افطار پارٹیاں کی جاتی ہیں، جن میں صرف مالدار لوگوں عزیز رشتے داروں اور دوست احباب ہی کو مدعو کیا جاتا ہے اور غریب و محتاج مستحق افراد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، چاہے وہ ہمارا بھائی ہی کیوں نا ہو ۔ جبکہ افطار کے حق دار یہی مسکین و محتاج رشتے دار ہیں۔
پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مومن کی صفت قرآن نے یہ بیان کی ہے کہ وہ اپنی ضرورت روک کر اپنے بھائی کی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ قرآن کریم میں دو جگہ سورۂ حشر اور سورۂ تغابن میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔ کہ’’ مومنین کی صفت یہ ہے کہ وہ خودتنگی میں کیوں نہ ہوں دوسروں کی ضروریات کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
اسلام کی تعلیمِ فلاحِ انسانیت یہی ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسروں کی نشوونما اور ان کی ضرریات کی تکمیل کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے۔ لہٰذا غم گساری کے اس مہینے میں صدقہ، خیرات، مساکین کو کھانا کھلانے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے، بیواؤں کی حاجت روائی کرنے، ننگے بدن کو کپڑا پہنانے اور بیماروں کی دوا کی فکر کرنا اپنا مشغلہ بنالیں اور دوسروں کے غموں کو خوشیوں میں بدلنے کا ذریعہ بن جائیں۔
اس وقت ملک کے معاشی حالات بہت سنگین ہیں اور غریب جیتے جی مرگیا ہے، لہٰذا اس رمضان مخلوق کا غم کھانے کی تربیت حاصل کر لیں تو سارا سال اس پر عمل آسان ہوجائے گا۔ معروف صوفی بزرگ حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے جو مرتبہ بھی ملا ہے، وہ محض عبادت سے نہیں ملا ،بلکہ خدمت خلق اور مواسات و غم گساری سے ملا ہے‘‘۔
اللہ کی ذات سے کیا بعید ہے کہ ہمارے ہاتھ سے افطار اور سحری کے وقت کسی ضرورت مند روزے دار کے منہ چند لقمہ خوراک کے چلے جائیں تو ہمارا یہ عمل آخرت میں ہماری مغفرت کا ذریعہ بن جائے، لیکن اس مواسات اور غم گساری میں ہمیں اس بات کا بھی بہت خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری امداد اور تعاون حقیقی مستحق افراد تک پہنچے، ناکہ رمضان میں لشکروں کی شکل میں شہر شہر اور گاؤں پڑاؤ ڈالنے والے پیشہ ور گداگروں کی نذر ہو جائے۔
یاد رکھیے ہماری مدد کے سب سے اولین مستحق ہمارے قریب ترین رشتے دار بھائی بہن ہیں، اس کے بعد دیگر مستحقین۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ’’اصل نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، بلکہ حقیقی نیکی اور نیکوکار وہ ہے جو اللہ، قیامت، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان رکھتا ہے اور اللہ کی محبت میں اپنا پسندیدہ مال رشتے داروں، یتیموں، مساکین، مسافروں ، سائلوں اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ‘‘ ۔(سورۃ البقرہ 177:)
ہمارا رویہ اور سوچ یہ ہے کہ ہماری زکوٰۃ ہمارے سگے بھائی کے لئے نہیں ہے چاہے وہ روٹی کے ایک ایک نوالے کو محتاج ہو۔ یہ منفی سوچ ہے۔ ہمارے مال کے انفاق و زکوٰۃ کا پہلا اور حقیقی مستحق ہمارا سگا بھائی ہے، اگرچہ وہ ضرورت مند ہو۔رمضان میں مواسات یعنی ہمدردی خیر خواہی اور غم گساری و ایثار کا ایک پہلو یا شعبہ ہمارا کاروباری طبقہ ہے۔
وہ مواسات اور جذبۂ خیر خواہی کی نیت سے اس رمضان میں اشیائے خور و نوش اور دیگر استعمال کی تمام اشیاء چاہے وہ کچھ بھی ہوں انہیں سستا کریں، قیمتیں کم کریں کم سے کم منافع پر اشیاء فروخت کریں۔ اس کے ساتھ ذخیرہ اندوزوں اور قیمتیں بڑھانے والوں کی حوصلہ شکنی اور بائیکاٹ کے ساتھ حکومت بھی ان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو معاشی بدحالی مہنگائی سے اپنی پناہ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے بھائیوں کی دل جوئی و ہمدردی کا جذبۂ عمل عطا فرمائے۔ (آمین)