• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منوج باجپائی کی نئی فلم ٹیزر ریلیز ہوتے ہی شدید تنازع کا شکار ہوگئی

منوج باجپائی۔فوٹو: بھارتی میڈیا
منوج باجپائی۔فوٹو: بھارتی میڈیا

نیٹ فلکس انڈیا کی آنے والی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ (رشوت خور پنڈت) میں منوج باجپائی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، ممبئی میں ایک ایونٹ کے دوران اس کا ٹیزر جاری ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد فلم سوشل میڈیا پر شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔

ٹیزر میں منوج باجپائی کے کردار ’’ایک کرپٹ پولیس افسر‘‘ کا تعارف کرایا گیا، مگر فلم کے عنوان نے سخت ردِعمل کو جنم دیا ہے، جہاں کئی صارفین اسے غیر حساس اور توہین آمیز قرار دے رہے ہیں۔

کئی ناظرین نے لفظ ’’پنڈت‘‘ کے استعمال پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذریعے بدعنوانی کو ایک مخصوص برادری سے جوڑا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں مین اسٹریم انٹرٹینمنٹ میں ذات پات کی نمائندگی پر ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹیزر کے سامنے آتے ہی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر تنقیدی ردِعمل کی بھرمار ہو گئی، جہاں صارفین نے پلیٹ فارم اور فلم سازوں پر دقیانوسی تصورات کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔

ایک صارف نے لکھا کہ نیٹ فلکس کبھی گھوس خور  چمار، گھوس خور یادیو یا گھوس خور پاسوان، جیسا عنوان بنانے کی ہمت نہیں کرے گا، لیکن بھارت میں برہمن شناخت کو نشانہ بنانا آسان سمجھا جاتا ہے۔ نیرج پانڈے اور منوج باجپائی کو شرم آنی چاہیے کہ وہ اپنی ہی برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ شرم کرو منوج باجپائی، ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے عنوانات روزمرہ زندگی میں معمول بن جاتے ہیں۔

کئی صارفین نے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ ایک نے لکھا کہ نیٹ فلکس انڈیا، فوراً یہ عنوان تبدیل کرو ورنہ بائیکاٹ کا سامنا کرو۔

ایک اور تبصرہ کچھ یوں تھا کہ یہ نام جلد از جلد تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے جیسا لگتا ہے۔ نیٹ فلکس سے ایسی توقع نہیں تھی۔

’’گھوس خور پنڈت‘‘ نیٹ فلکس انڈیا اور فلم ساز نیرج پانڈے کے درمیان تازہ تعاون ہے، جنہوں نے اس سے پہلے ’’خاکی: دی بہار چیپٹر‘‘ اور اس کا سیکوئل بنایا تھا۔ یہ فلم نیٹ فلکس انڈیا کے 2026 کے کنٹینٹ لائن اپ کا حصہ ہے۔

کہانی اجے ڈکشت نامی ایک کرپٹ پولیس افسر کے گرد گھومتی ہے، جس کا کردار منوج باجپائی ادا کر رہے ہیں، جسے ’پنڈت‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید