• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک دور تھا کہ کسی ایک مصنف یا شاعر کا بیان کسی معاشرے کے تخلیقی ضمیر کا اعلان خیال کیا جاتا تھا ویت نام کی جنگ ہو،الجزائر کی جنگِ آزادی ہو یا سلامتی کونسل میں عوامی جمہوریہ چین کی جگہ تائیوان(فارموسا) کو بٹھانے کا معاملہ، ہم دیکھتے تھے کہ اس معاملے میں برٹرینڈ رسل نے کیا کہا ہے، ژاں پال سارتر کا موقف کیا ہے۔منو بھائی کے ’’گریبان‘‘ میں یا احمد ندیم قاسمی کے ’’حرف و حکایت‘‘ یا’’ فنون‘‘ میں اور سید سبطِ حسن کے’’پاکستانی ادب‘‘میں ایک کھلا بیان ہوتا تھا ہم جیسے طالب علموں کیلئے ! پھر کچھ ہفت روزہ ہوتے تھے، لیل و نہار،ویو پوائنٹ یا الفتح جن پر پابندیاں لگتی تھیں پھر وہ کسی اور طرح طلوع ہوتے تھے ، فیض احمد فیض،علی عباس جلال پوری، شوکت صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، ظہیر بابر اور ایسی خرد افروز باتیں کرتے تھے کہ قلم کار کا لکھا لفظ دیانتِ فکر کے ساتھ ہی تروتازہ رہتا ہے۔مہا منتری اندرا گاندھی نے سولہ دسمبر اکہتر کو جو دل آزار تقریر کی تھی وہ میں نے بی بی سی سے سنی تھی،مگر جب ہمارے جنگی قیدیوں کیلئے عالمی ضمیر کو جگانے کوذوالفقار علی بھٹو نے مہم چلائی تب کرشن چندر نے بھارت کے بھی کئی ادیبوں سے ایک مشترک بیان جاری کرنے کی اپیل کی تھی جس پر انکی وزیرِ اعظم نے کرشن چندر سے کہا کہ شملہ مذاکرات کیلئے پاکستانی وفد آ رہا ہے کچھ دنوں کیلئے اپنی مہم روک دو ۔میں نے روزنامہ جنگ میں اپنے ایک کالم میں محترمہ عائشہ گزدر کا ذکر کیا تھا جنہوں نے روزنامہ سنگ باد کے نائب مدیر شہید اللہ قیصر کے ایک ناول کا ترجمہ ’’ملاح کی بیوی‘‘ کے عنوان سے کیا تھا،یہ ناول جنرل محمد ایوب خان کے دور میں چار برس جمہوری حقوق کیلئےجدو جہد کی بنیاد پر سزا پانے والے نے لکھا تھا اور یہ اردو ترجمہ ستمبر بہتر میں کراچی سے شائع ہوا تھا اسی میں یہ درد ناک انکشاف ہفت روزہ الفتح کے حوالے سے موجود ہے کہ الشمس اور البدر کے پانچ رضا کارپندرہ دسمبر اکہتر کی شام شہید اللہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور وہ پلٹ کے نہ آیا ۔ شہید اللہ قیصر کےبچوں یا عزیزوں میں شاید کوئی ہو جسے ڈھاکہ یونیورسٹی کے تین گریجویٹ اظہار الحق،طارق محمود اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کراچی میں بلوا کے ایک تقریبِ اعتراف برپا کرلیں یا لاہور میں اربوں روپے کی اراضی مع ایک کھنڈر گلڈ ہائوس ہے ۔پہلے کہا جاتا تھا ماہنامہ سیپ کے مدیر نسیم درانی ، نقوش کے محمد طفیل کے صاحب زادے جاوید طفیل اور جمیل الدین عالی مرحوم کے صاحب زادے جناب راجو جمیل متفق ہوجائیں تو اس عمارت پرایک آڈیٹوریم اور رائٹرز ہائوس بنایا جا سکتا ہے،ہمارے جس خوش فہم یا سادہ لوح الطاف حسن قریشی نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے سے چند ہفتے پہلے محبت کا زمزمہ بہتے دیکھا تھا اور جنہوں نےکراچی،ملتان اور لاہور سے بیک وقت روزنامہ جسارت جاری کیا وہ بھی اسی تقریب میں ڈاکٹر مبارک علی کیساتھ آ جائیں، ڈاکٹر جعفر احمد اور اصغر ندیم سید بھی ہوں اور شہید اللہ قیصر ہی نہیں اس رات گُم ہونیوالے دوسرے ادیبوں، صحافیوں اور انجینئروں کی اولاد میں سے دو چار کو دعوت دی جائے یا تو کراچی میں یا پھر لاہور میں گلڈ ہائوس میں اور وہاں ان تمام بہاریوں اور دیگر افراد کے دکھوں کی یاد میں ایک تقریب کیساتھ یادگار بھی بنائی جائے جس میں اس موضوع پر لکھی جانیوالی بنگلہ، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں کی کتابوں کو یک جا کر دیں،پہلے میرے ذہن میں تھا کہ لاہور میں یہ تقریب ہو تو سید رضی عابدی کو مہمانِ اعزاز بنا لیں گے مگر وہ چند ہفتے پہلے یہ دنیا ہی چھوڑ گئے۔

اب یہ نہ پوچھئے گا سید رضی عابدی کون ؟ جنہوں نے تنقید لکھی ،ترجمے کئے،شعر کہے ،ڈاکٹر مبارک علی کے ساتھ مل کر تیسری دنیا کا ادب اور اچھوتوں کا ادب مرتب کیا اور جنہوں نے اپنی آپ بیتی لکھی ’بازار کی رونق‘ اور ابتدا میں یہ شعر لکھا

ہم نہ گاہک،نہ سوداگر،لینا دینا کیا

پھربھی ہیں بازار کی رونق،دیوانے کہلاتے ہیں

اس آپ بیتی میں ایک جہانِ معانی ہے،ایم اے او کالج لاہور،گورنمنٹ کالج لاہور سے کیمبرج یونیورسٹی سے ٹرائی پاس کرنا، امریکہ، یورپ، افغانستان،ایران اور ترکیہ کی سیر،کتاب خانے ،طالب علم ،استاد،اقدار وغیرہ کا فرق مگر پروفیسر حمید احمد خان جیسا دل نواز اور علم دوست استاد نہ دیکھا،لکھنؤ کے امام باڑے دیکھے مگر اپنی جنم بھومی سونی پت نہ بھولے( سونی پت کے متعلق میرا علم سرسری لیکن محسوسات گہرے ہیں) انہوں نے بھی ملال کے ساتھ یاد کیا کہ مشرقی پاکستان سے ہم نے فاصلہ کیسے پیدا کیا وہ لکھتے ہیں:’’ہمارے سادہ لوح عوام کو بتایا گیا کہ بنگالی بے دین اور غدّار ہیں‘‘۔ یہی نہیں انہوں نے بنگلہ دیش جانے والے سرکاری ملازموں کی خواتین سے اسلام آباد میں دو میٹھے بول بولنا چاہے تو وہ خوف یا اشتعال سے زور زور سے بولنے لگیں۔اب کیا ہی اچھا ہو کہ شہیداللہ قیصر کے بچوں کے سامنے سعیدہ گزدر کی بیٹی عائشہ گزدر ہو اور باقی احباب اردو بولیں بنگلہ میں باتیں کریں انگریزی بولیں یا پھر نذرل کا وہ گیت سنیں اور سنائیں جس پر مسعود اشعر نے افسانہ لکھا تھا بیلا نائیں رے، جولدی، جولدی(وقت نہیں ہے، جلدی، جلدی) کشفی ملتانی کے بھانجے ریاض انور نے ایک طویل نظم’ آوازوں کا بھنور‘لکھی جس میں مشرقی پاکستان کے دورے اور ادبی منظر نامے کا احوال تھا، یہی نہیں وہ بلبل اکادمی ڈھاکہ کے فنکاروں کو ملتان اور لاہور لے کر آئے۔ مگر میر انیس نے کہا تھا

یہ بے سبب نہیں سُونے گھروں کے سناٹے

مکاں یاد کیا کرتے ہیں مکینوں کو

تاہم کچھ تخلیقی لوگ پاکستان اور بنگلہ دیش کی بڑھتی قربت کو اور زیادہ بامعنی بنا دیں۔

تازہ ترین