اسلام آباد:(انصار عباسی)…پاکستان کے قوانین واضح طور پر اجازت دیتے ہیں کہ ایسے سرکاری ملازمین کیخلاف فوجداری کارروائی کی جائے جن کی غفلت کے نتیجے میں انسانی جان یا املاک کا نقصان ہو، تاہم ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے اور لاہور میں مین ہول کے واقعے جیسے بڑے سانحات بار بار پیش آتے رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے تحت سرکاری ملازمین کو ایسی صورت میں کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا جب غفلت یا قانونی فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کے باعث اموات واقع ہوں یا املاک کو نقصان پہنچے۔
تعزیراتِ پاکستان کے تحت جلد بازی یا غفلت کے باعث کسی کی موت واقع ہونا قابلِ سزا جرم ہے، جس کی سزا قید، جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، یہ قانونی دفعات ہر شخص پر لاگو ہوتی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔
ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ جہاں مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں موت واقع ہو، وہاں قانون نجی فرد اور سرکاری ملازم میں کوئی فرق نہیں کرتا، تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے قوانین شاذ و نادر ہی نافذ کیے جاتے ہیں اور زیادہ تر معاملات میں متعلقہ افسران کو محض انتظامی انکوائری کیلئے معطل کر دیا جاتا ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تعزیراتِ پاکستان ان صورتوں میں بھی لاگو ہوسکتا ہے جہاں کوئی سرکاری ملازم جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی کرے یا کسی غیر قانونی عمل میں سہولت فراہم کرے، جس کے نتیجے میں کسی کو نقصان یا موت واقع ہو۔
ذرائع کے مطابق، سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کے تحت سرکاری ملازمین ملک کے تمام قوانین کے تابع ہوتے ہیں، اور محکمانہ کارروائی فوجداری کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اسی طرح گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964ء کے تحت ہر سرکاری ملازم پر لازم ہے کہ وہ دیانت داری، فرض شناسی کا مظاہرہ کرے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جو اُس کے شایانِ شان نہ ہو۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمارتوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد میں ناکامی، خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنا یا غیر محفوظ استعمال کی اجازت دینا سروس رولز کے تحت بدانتظامی کے ساتھ تعزیراتِ پاکستان کے تحت فوجداری جرم بھی بن سکتا ہے۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ محکمانہ کارروائی اور فوجداری مقدمہ دو الگ عمل ہیں اور دونوں بیک وقت چل سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ سپریم کورٹ اپنے متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ جہاں کسی فوجداری جرم کا عنصر ثابت ہو، وہاں تادیبی کارروائی فوجداری مقدمے میں رکاوٹ نہیں بنتی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ معائنہ، منظوری، تجدید یا عمل درآمد کے ذمہ دار افسران تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر بیک وقت معطلی، برطرفی اور فوجداری مقدمے کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، گل پلازہ کی عمارت میں مناسب فائر ایگزٹس، الارم سسٹمز اور ہنگامی تیاری موجود نہیں تھی، جو بلدیاتی قوانین اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کے مطابق، ان لازمی تقاضوں پر عمل درآمد میں ناکامی، بالخصوص اس وقت جب بار بار معائنوں یا عوامی شکایات کو نظر انداز کیا گیا ہو، مجرمانہ غفلت کے مترادف ہو سکتی ہے۔
لاہور کے مین ہول کے واقعے کو بھی مجرمانہ غفلت کا کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس میں فوجداری اور انتظامی دونوں نوعیت کی کارروائی کی گنجائش موجود ہے۔