کراچی (محمد منصف ) سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو کیس کی پیروی کرتے ہوئے ایک وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ نادرا حکام نے رشوت لے کر 20 لاکھ افغان باشندوں کو قومی شناختی کارڈز جاری کیئے جو پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا بھر میں گھوم رہے ہیں۔افغان شہری نقیب اللہ کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کرلیا گیا اور اب درخواست گزار محمد اکرم کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دئیے ہیں۔ دو رکنی بینچ کے رکن جج نے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں نجانے کتنے بندے شامل کر دئیے ہوں گے؟ عدالت عالیہ نے نادرا کی جانب سے پاکستانی کے فیملی ٹری میں افغان باشندے کو شامل کرنے پر حکام کو 10 روز میں پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیدیا۔ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو نادرا کی جانب سے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے نادرا حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان کے فیملی ٹری میں کیسے شامل کردیا؟عدالت کا نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کے قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیدیا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے حکم دیا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کے فیملی ٹری میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ پاکستانی شہریوں کی فیملی ٹری میں غیر ملکی کو کیسے شامل کرلیا گیا؟