برطانیہ کی ایک تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر سے لیکر کولیسٹرول اور پھر وزن کم کرنے سے لیکر کئی دیگر بیماریوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانی ہو تو صرف روٹی کا استعمال بند کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
روز امنڈڈین نے ایک تجربے کے طور پر ایک ماہ کے لیے روٹی کا استعمال مکمل بند کرکے اپنی صحت کی جانچ کی تو وہ وطیرہ حیرت میں مبتلا ہو گئی۔
مذکورہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ ناشتے پر ہوتی تو انہیں دیکھتی وہ اپنے انڈوں کے ساتھ بٹری بریڈ کے مزیدار ٹکروں سے لطف اندوز ہوتے‘ مگر زندگی بھر روٹی سے محبت کو ترک کرکے ایک ماہ کے لیے بائیکاٹ کردیا، بالخصوص اتوار کا برنچ ہفتے کا سب سے مشکل وقت ہے۔
تجربے میں یہ بات سامنے آئی کہ الکوحل فری، شوگری فری اور سوشل میڈیا فری ہونا بالخصوص روٹی ترک کرنا مشکل چیز ہے ہزاروں سال سے روٹی انسان کی ضرورت ہے جو کوئی بری چیز نہیں مگر لیکن ہمارے آباؤ اجداد زیادہ تر روٹی یا درحقیقت آج ہم جو کھانا کھاتے ہیں اس کو نہیں پہچانتے تھے۔لٹرا پروسیسڈ فوڈز کا استعمال اب عام ہے۔
انتہائی مشہور ڈاکٹر اور براڈکاسٹر کرس وان ٹولکن نے اپنی کتاب الٹرا پروسیسڈ پیپل شائع کی تو ہم پر کئی اہم چیزیں عیاں ہوئیں پروسییڈ اشیاءکے استعمال سے بے چینی، بے خوابی سمیت کئی دیگر کئی مسائل سے موازنہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ موٹاپا، ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور کچھ کینسر جیسی دائمی بیماریوں کا بھی زیادہ خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ چالیس سال کی عمر میں اسٹیج 3 چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن مہینوں کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی اور ماسٹیکٹومی سرجری اور لائف سٹائل بدلنے کے بعد اب کینسر سے پاک ہوں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حیرت انگیز طور پر 99.8 فیصد برطانوی گھرانے باقاعدگی سے روٹی خریدتے ہیں جس میں روزانہ تقریباً 11 ملین روٹیاں فروخت ہوتی ہیں جو سفید روٹی کل روٹی کی کھپت کا 71 فیصد ہے۔