ہم طویل عرصے سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے حوالے سے دنیا بھر میں سرفہرست ممالک میں سے ایک ہیں۔ چناں چہ گزشتہ برس بھی یہ سلسلہ بہت شدّت سے جاری رہا۔ گزرے برس پاکستان میں ماحول کے ضمن میں دو واقعات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے۔ اوّل بھارت کی جانب سے یک طرفہ طورپر سندھ طاس معاہدے کی معطّلی، دوم ملک کے بڑے حصّے کا سیلاب سے بُری طرح متاثر ہونا۔
یہ درست ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہیں، لیکن گزشتہ برس دنیا بھر میں ان تبدیلیوں کے منفی اثرات دیکھے گئے۔ 2025میں ماحولیاتی صورت حال دنیا بھر میں شدید خراب رہی، جس میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں، جنگلات میں آگ اور شدید طوفان شامل ہیں۔ ان واقعات نے فصلوں کو تباہ کیا، بجلی کے نظام ناکام کیے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بنے۔
یہ دنیا کا ماحولیاتی بحران نازک دوراہے پر ہونے کا اشارہ ہے۔ پاکستان میں بھی خشک سالی، سیلاب، ا سموگ، اور جنگلات کی کٹائی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ برس یورپ نے اپنی تاریخ کی سب سے طویل گرمی کی لہر کا تجربہ کیا، جس میں درجہ حرارت \(45\) ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں فصلیں تباہ ہوئیں اور بجلی کا نظام بیٹھ گیا۔
امریکا اور کینیڈا میں جنگلات کی آگ نے لاکھوں ہیکٹر رقبے کو جلا دیا، جو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خشک سالی کا نتیجہ ہے۔ جنوبی ایشیا میں سمندری طوفانوں اور بارشوں نے پاکستان، بنگلا دیش، اور فلپائن سمیت کئی ممالک میں تباہی مچائی۔ براعظم افریقا میں ایتھوپیا، صومالیہ اور سوڈان جیسے ممالک شدید خشک سالی اور قحط کا شکار رہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ بے گھراور خوراک اور پانی کی کمی کا شکار ہوئے۔
آفات سے نمٹنے کے لیے ہماری تیّاری
پاکستان میں ماحولیاتی صورت حال خراب تر ہونے کے باوجود جنگلات کی کٹائی جاری ہے۔ حکومت کی مداخلت کے باوجود، پاکستان میں سالانہ 11\ ہزار ہیکٹر جنگلات کی کٹائی اب بھی جاری ہے، چراگاہوں کا رقبہ 60\ فی صدسے کم ہو کر 58\ فی صد ہو گیا ہے۔
دوسری جانب یہ حقیقت ہم سب پر واضح ہے کہ پاکستان تیزی سے بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نبرد آزما ہے اور اسے موافقت اور تیاری کے لیے روایتی فریم ورک سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مون سون سال ہا سال سے شدت اختیار کررہا ہے، گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور ہیٹ ویووز بھی بڑھتی جارہی ہیں۔
یہ کوئی سیاسی کھیل نہیں ہے۔ یہ ایک سنگین بحران ہے جو بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں ان آفات کو سیاسی رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔ گزشتہ برس موسمِ گرما میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کے زیرِ کنٹرول ملک کے تین بڑے صوبوں کو بارش سے متعلق ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔
لہذا اب کوئی بھی سیاسی جماعت کسی دوسرے پر یہ الزام لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ فلاں صوبائی حکومت نے اپنے صوبے کو آفت کے لیے تیار کرنے کے ضمن میں مؤثرانداز میں کام نہیں کیا۔ وقت کایہ مطالبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ شدّت اختیار کرتا جارہا ہے کہ ہر صوبائی حکومت کو آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جن کی تعداد اور شدت بڑھتی جارہی ہے۔
انتباہ نے بھی ہمیں نہیں جگایا
تقریباً ایک دہائی پہلے پاکستان میں پانچ سالوں میں پانچ بڑے سیلاب آئےتھے، جنہوں نے ایک واضح انتباہ کا کام کیا تھا۔ اب ایک بار پھر قدرت ہمیں متبنہ کررہی ہے کہ سیاست ہمیں نہیں بچا سکتی۔ گزشتہ برس مون سون جلد آگیا تھا، لیکن یہ غیر متوقع ہرگز نہیں تھا۔ متنبّہ کرنے والوں نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ 2025 میں گرمی کی شدت غیر معمولی ہوگی اور ملک میں بارشوں کا موسم جلد آئے گا، جو شدید ہوگا۔
اس کے باوجود ملک سیاست کے معمول کے جھمیلوں میں الجھا رہا۔ پھر یہ تعجب کی بات نہیں کہ پہاڑوں، میدانی علاقوں اور شہروں میں بارشوں کی شدت نے ہم میں سے بیش تر کو ششدر کردیا، خواہ وہ علاقے، جن کے بارے میں ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے منظم ہیں، یا وہ جہاں حکم رانی کا بحران اس حد تک شدید ہے کہ ہم اس پر بلا توقف بحث کرتے رہتے ہیں۔
سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اس بات کے بہت کم شواہد موجود ہیں کہ کوئی بھی حکومت، خواہ وہ صوبائی ہو یا وفاقی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔
بارشیں، ان کا رجحان، بڑھتا درجہ حرارت، حتیٰ کہ موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کے بارے میں سب خبردار کرتے ہیں کہ بالخصوص یہ عوامل ہمارے پہاڑوں اور گلیشیئرز کو کس طرح نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس کے باوجود حکومت آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ معاملے پر گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق، شمالی علاقہ جات میں ہونے والی تباہی کا بہ راہِ راست تعلق جنگلات کاٹنے کی بڑھتی ہوئی شرح سے ہے۔
بھارت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی
بھارت نے پہلگام کے حملےکے بعد یک طرفہ طورپر سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا تھا اور سال کے اختتام تک اپنی اس ہٹ دھرمی پر قائم تھا۔ پھر اٹھائیس دسمبر کو یہ خبر آئی کہ سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے آخرکار مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج II پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
خبر میں کہا گیا تھا کہ اس منصوبے پر بھارتی 3,277.45 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اس متنازع منصوبے پر آئندہ سال کے اوائل میں کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ دیگر منصوبوں میں ساولکوٹ، رتلے، بسر، پکل دل، کُوَر، کیرو، کرٹھائی شامل ہیں۔ دلہستی اسٹیجII منصوبہ 260 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرے گا۔
یہ منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دریائے چناب پاکستان کے حصے میں آتا ہے اور دلہستی اسٹیجII کی تعمیر انڈس واٹر ٹریٹی کی مکمل نفی ہے۔ وہ معاہدہ جسے بھارت نے مجرمانہ انداز میں عالمی قوانین کو ٹھکراتے ہوئے معطل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
سیلاب کے لگائے ہوئے زخم
گزشتہ برس بھی سیلاب نے پاکستان اور اس کے باسیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ۔ اس قدرتی آفت نے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمارخوف ناک تصویر پیش کرتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا جب پاکستان قدرت آفات کے نشانے پر آیا۔ عالمی بینک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی معیشت میں3فی صد توسیع ہوئی، تاہم سیلاب کے اثرات کے باعث اگلے مالی سال میں بھی شرحِ نمو کے اسی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی معیشت جون 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال میں3فی صد بڑھی، جو پچھلے سال کی2.6فی صدکی شرح سے زیادہ ہے۔ تاہم عالمی بینک نے خبردار کیا کہ اگرچہ مجموعی طور پر مستقبل کا منظرنامہ حوصلہ افزا ہے، لیکن سیلاب نے اسے متاثر کیا۔ سیلاب نے عوام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور شہری علاقوں و زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
گزشتہ برس آنے والے سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر اور تقریبا ایک ہزار افرادجاں بہ حق ہوئے۔جون سے شروع ہونے والے سیلاب نے2022کے اس تباہ کن سیلاب کی یاد دلائی جس نے ملک کے بڑے حصے کو غرقاب کردیا تھا۔11ستمبر تک خیبر پختون خوا میں سب سے زیادہ اموات (504) ریکارڈ کی گئیں، جو سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث ہوئیں۔14سے 16 اگست کے دوران صوبے میں بادل پھٹنے سے سیلاب آئے۔
خیبر پختون خوا کا ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں چار سے زائد افراد جاں بہ حق ہوئے۔ شانگلہ، سوات اور صوابی میں بھی اسی نوعیت کی تباہی دیکھنے میں آئی۔ شدید بارش، جنگلات کی کٹائی، وادیوں کی بندش اور بے قابو تعمیرات نے ملبے کے سیلاب کے لیے راستہ بنادیا جو مہلک ترین ہوتا ہے ، جو پہاڑی علاقوں میں منصوبہ بندی اور ضابطہ سازی کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
صوبہ پنجاب کو سب سے زیادہ بنیادی ڈھانچے اور زرعی نقصانات کا سامناکرنا پڑا۔ سندھ میں بڑا رقبہ زیر آب آیا اور آبادی کے انخلا کے مسائل پیش آئے، جو اس کی ہم وار (اور ناقص نکاسی والی ) زمین کی وجہ سے زیادہ بڑھے۔ خیبر پختون خوا کی ڈھلانیں مہلک ثابت ہوتی ہیں۔ پنجاب اور سندھ کو اقتصادی اور جغرافیائی لحاظ سے پھیلے ہونے کے باعث نقصانات کا سامنا ہے، کیوں کہ یہ نسبتاً ہم وار ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی جانب سے سترہ ستمبر کو جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہزار سے زیادہ افراد جاں بہ حق ہلاک اور25لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں سیلاب کے نتیجے میں بہت سے علاقے زیرآب آ ئے، اہم فصلیں تباہ ہوئیں اور بدحال لوگوں کی زندگیوں میں مزید مشکلات کا اضافہ ہوگیا۔
جون کے اواخر سے شروع ہونے والی مون سون کی غیرمعمولی اور شدید بارشوں سے آنے والے اچانک سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چوتھائی تعداد بچوں کی تھی۔ اس آفت سے مجموعی طور پر60لاکھ سے زائد افراد کسی نہ کسی طرح متاثر ہوئے۔
صوبہ پنجاب کے دریاؤں میں آنے والے سیلاب نے مون سون کی شدید بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کو مزید خراب کر دیا ۔ زرعی اعتبار سے پنجاب ملک کا اہم ترین صوبہ ہے جہاں بھارت کی جانب سے ان دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے سے47لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ صوبہ خیبر پختون خوا میں سیلاب سے16لاکھ افراد متاثر ہوئے۔
گلگت بلتستان کے کئی علاقے گلیشیئرکی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے اچانک سیلاب کی زد میں آ کر تباہ ہوئے اور کئی وادیاں دیگر علاقوں سے مکمل طور پر کٹ گئیں۔ صوبہ سندھ میں بھی بہت بڑے پیمانے پر سیلاب کے خطرے کے پیش نطر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا تھا اور صوبائی حکومت نے25لاکھ افراد کومحفوظ علاقوں میں منتقل کیا۔
قدرتی آفات سے بچاؤ کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق، سیلاب میں کم از کم 8,400سے زیادہ مکانات، 239پُلوں اور تقریباً700کلومیٹر ز سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا اور 22لاکھ ہیکٹرز سے زیادہ زرعی اراضی زیر آب آئی جس کا بڑا حصہ پنجاب میں واقع ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے چھ ستمبر کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اس تاریخ تک 1044 افراد زخمی ہوچکے تھے۔این ڈی ایم اے کے مطابق صوبہ پنجاب میں بارشوں کے باعث 223افراد جاں بہ حق اور654زخمی ہوئے، خیبر پختون خوا میں 502افراد جاں بہ حق اور218زخمی ہوئے، سندھ میں 58افراد جاں بہ حق اور78زخمی ہوئے اوربلوچستان میں بارشوں کے باعث 26 افراد جاں بہ حق اور 5افراد زخمی ہوئے، اسلام آباد میں 9افراد جاں بہ حق اور 3زخمی ہوئے، گلگت بلتستان میں 41افراد جاں بہ حق اور 52 افراد زخمی ہوئے۔
اسی طرح آزاد کشمیر میں بارشوں کے باعث 38 افراد جاں بہ حق اور 31زخمی ہوئے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ اس تارقخ تک بارشوں اور سیلاب کے باعث 7ہزار848مکانات کو نقصان پہنچا اور 6 ہزار 180 مویشی ہلاک ہو چکے تھے۔
سترہ نومبر کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جون تا ستمبر سیلاب کے باعث ملکی معیشت کو آٹھ سو بائیس ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا، رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کی شرحِ نمو میں اعشاریہ تین سے اعشاریہ سات فی صد تک کمی کا امکان ہے اور ترقی کی مجموعی شرح چار اعشاریہ دو فی صد سے کم ہو کر تین اعشاریہ پانچ فی صد تک آ سکتی ہے۔
تباہ کن سیلاب منہگائی میں اضافے کا سبب بنا، اگست سے اکتوبر تک مہنگائی کی شرح میں دواعشاریہ چھ فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ زراعت کے شعبے میں چار سو تیس ارب روپے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ زرعی شعبے کی شرح نمو ساڑھے چارفی صد سے کم ہو کر تین فی صد رہ جانے کا امکان ہے۔
فصلوں کی پیداوار میں کمی سے درآمدی اخراجات بڑھیں گے اور تجارتی خسارہ وسیع ہو سکتا ہے۔ بارشوں اور سیلاب نے انفراسٹرکچر کو تین سو سات ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ مواصلاتی نظام کی تباہی کے باعث ایک سو ستاسی ارب، اسّی کروڑ روپے کے اضافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق مجموعی قومی پیداوار میں کمی اور سپلائی چین متاثر ہونے سے منہگائی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا نفاد
تباہ کن سیلاب کی وجہ سے حکومت نے ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ملک میں ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ وزیر اعظم ،میاں شہباز شریف نے قومی ٹی وی چینلز پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ جلد ہی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے مزید نقصانات سے بچنے کے لیے حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔
اگست میں کراچی میں غیر معمولی بارش
محکمہ موسمیات کے مطابق اگست میں کراچی میں سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں170ملی میٹراور ایئرپورٹ پر158ملی میٹر ہوئی۔ دوسری جانب کراچی کے میئر مرتضی وہاب نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی میں لگ بھگ235ملی میٹر بارش ہوئی ہے، ہمارے نظام میں40ملی میٹر بارش کی گنجائش ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس مون سون کا موسم ملک کے اکثر علاقوں میں غیر معمولی رہا ۔جہاں ایک جانب صوبہ پنجاب ،خیبرپختون خوا، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ، بادل پھٹنے اور سیلاب سے مختلف واقعات میں سیکڑوں اموات ہوئیں ہیں، وہیں کراچی میں اگست کے مہینے میں ہونے والی بارش سے مختلف حادثات میں ایک روز میں دس کے قریب اموات ہوئی تھیں۔
یہ ہی نہیں بلکہ اس ایک روز کی بارش سے کراچی کی سڑکوں پر شہری کئی گھنٹے پانی کی نکاسی نہ ہونے کے باعث پھنسے رہے اور انٹرنیٹ اور بجلی کی عدم فراہمی نے بھی لوگوں کو کوفت میں مبتلا کیے رکھا۔ محکمہ موسمیات، کراچی،کے چیف میٹرولوجسٹ امیر لغاری کے مطابق اس روز کراچی میں ہونے والی بارش انتہائی غیر معمولی تھی۔
اس دوران لگ بھگ پورے شہر میں شدید بارش ہوئی اور کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جہاں 70 ملی میٹر سے کم بارش ہوئی ہو۔ معمول سے زیادہ بارش کے بعدکراچی میں اربن فلڈنگ کے باعث متعدد سڑکیں اور شاہ راہیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور دفاتر اور کام سے واپس آنے والے سڑکوں پر پھنستےگئے۔ یہ صورت حال سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈ کرتی رہی۔ دوسری جانب اس روز کی شدید بارش کے بعد صوبائی حکومت نے کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کردیا تھا۔
سندھ میں ٹائر جلانے اور پائرو لائسز پلانٹس کے آپریشن پر پابندی
اکتوبر کے پہلے ہفتے میں صوبہ سندھ سے ماحول کے تحفظ کے ضمن میں یہ اچھی خبر سامنے آئی کہ حکومتِ سندھ نے صوبے بھر میں ٹائر جلانے اور پائرو لائسز پلانٹس کے آپریشن پرپابندی لگادی ہے۔ سیکریٹری ماحولیات، سندھ، زبیر چنہ کے مطابق ٹائر جلانے اور ناقص پائرو لائسز پلانٹس سے فضا، مٹی اور پانی شدید متاثر ہو رہے ہیں، ٹائر جلانے سے سانس، دل اور اعصاب کے امراض بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ ٹائرپائرو لائسز جیسے خطرناک عمل سے کراچی کی فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے نام سے نئے قواعد کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ غیر معیاری فیولز، ٹائر آئل، غیر محفوظ ایندھن کے استعمال، تیاری اور فروخت ممنوع ہوگی، تمام پلانٹس کے لیے لائسنسنگ، ماحولیاتی کنٹرول سسٹم اور اخراج کی حد کے تقاضے لازم ہوں گے اورخلاف ورزی پر پلانٹس ضبط کرنے اور جرمانوں کی تجاویز ہیں۔
فضائی آلودگی اور ہمارے شہر
گزشتہ برس اکتوبر ہی کے مہینے سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست آچکا تھا۔ چوبیس اکتوبر کو لاہورکےایئر کوالٹی انڈیکس کی مجموعی شرح 362 ریکارڈ کی گئی تھی۔ چھ نومبر کو ملک کے سب سے بڑے شہر، کراچی کا فضائی معیار مضرِ صحت ریکارڈ ہوچکا تھا۔
ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کے مطابق کراچی دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر تھا۔ اس کے بعد آئندہ دنوں میں بھی ہمارےمختلف شہرفضائی آلودگی کی مختلف شرحوں کے ساتھ مذکورہ فہرست میں شامل رہے۔
ملکی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات
نومبر کے پہلے ہفتے میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے ملک بھرکے جنگلات میں لگنے والی آگ کے واقعات پر مشتمل تین سالہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی، جو ہماری آنکھیں کھولنے کے کافی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تین برسوں میں 479 واقعات پیش آئے۔
پنجاب میں 266، آزاد کشمیرمیں 74، خیبر پختون خوا میں 60بار آگ لگی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ پنجاب کے جنگلات میں آگ لگنے کے266واقعات پیش آئے۔ وفاقی دارالحکومت میں اس دوران جنگلات میں آگ لگنے کے 56واقعات پیش آئے۔ آزاد جموں و کشمیر کے جنگلات میں74، خیبرپختون خوا کے جنگلات میں 60، بلوچستان کے جنگلات میں آگ لگنے کے 17واقعات پیش آئے۔
سمندری تحفظ کے حوالے سے خراب ریکارڈ
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے سمندری تحفظ کے اہداف میں بہت پیچھے ہے اور اس کے چند موجودہ محفوظ قرار دیے گئےعلاقے بھی موثر ثابت نہیں ہو رہے۔ کاغذات پر پاکستان نے اپنے سمندری تحفظ کا آغاز کردیا ہے۔ گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں پاکستان نے کراچی سے تقریباً100کلومیٹر مغرب میں واقع دلدلی ساحلی علاقے میانی ہور کے قریب اپنا تیسرا سمندری محفوظ علاقہ قائم کیا تھا۔
اس سے پہلے 2017 میں استولا جزیرہ اور2024 میں چرنا جزیرے کو محفوظ قرار دیا گیاتھا۔ ان علاقوں کے تحفظ کا مقصد مونگے کی چٹانوں، مچھلیوں اور دیگر سمندری جان داروں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی تخلیق ہے۔ لیکن اگربہ غور جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے سمندری محفوظ علاقوں (ایم پی ایز) کی اصل صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔
وہاں تمام اقسام کی خلاف روزیاں عام ہیں۔ مثلابھاری بھرکم ٹرالرز سمندر کی سطح کو روندتے ہیں، غیر معیاری اور ممنوعہ جالوں کے ذریعے مچھلیوں کی نسل کشی اور ماہی گیروں کے ہاتھوں زیادہ مچھلیاں پکڑنے کے لیے برقی کرنٹ کا استعمال عام ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے 2030تک اپنے سمندر کے30فیصد حصے کو محفوظ بنانے کا عزم کیا ہے، لیکن فی الحال یہ تین سمندری محفوظ علاقے مجموعی طور پرایک فی صد سے بھی کم حصے پر مشتمل ہیں۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کی توثیق کرنے والے دیگر 95ممالک کے ساتھ مل کر2022میں کن منگ ، مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک (GBF) کو اپنایا تھا۔
اس فریم ورک کے تحت متعلقہ ممالک کے لیے یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ وہ 2030 تک اپنی خشکی اور آب گاہوں کا کم از کم30فی صد اور سمندری و ساحلی علاقوں کا بھی کم از کم 30فی صد حصہ تحفظ کے دائرے میں لائیں۔ اس ہدف کی آخری تاریخ میں پانچ سال سے بھی کم وقت باقی ہے، لیکن اس مقصد کی جانب پاکستان کی پیش رفت غیر متوازن نظر آرہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں، منفی اثرات اور سرکاری اعترافات
جون میں جرمن واچ کی جانب سے 2025کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا۔
موسمیاتی تبدیلیاں ہمیں جس بُری طرح متاثر کررہی ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ اب سرکاری سطح پر بھی اس ضمن میں اعترافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ بائیس اکتوبر کو ’’جیو نیوز ‘‘کے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ملکی ترقی میں سب سے بڑے دو مسائل ہیں، ایک موسمیاتی تبدیلی اور دوسرا بڑھتی ہوئی آبادی۔
دونوں مسائل کو ہمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اقتصادی نمو حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔پنجاب میں اسموگ ہو یا ملک بھر میں آنے والے سیلاب، ان کی شدت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے، جس میں انسانی جانوں کے زیاں کے ساتھ بے پناہ مالی نقصان بھی ہو رہا ہے۔
حالیہ سیلاب سے قبل جی ڈی پی کی شرحِ نمو 4.2فی صد خیال کی جارہی تھی، تاہم پنجاب میں بڑے پیمانے پر زراعت کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کے باعث اس میں کمی کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کے بعدایک اور وفاقی وز، یر ڈاکٹر مصدق ملک، نے بارہ دسمبر کو کہاکہ موسمیاتی اقدامات اب اختیار کا نہیں بلکہ بقا کا تقاضا بن چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات نیروبی میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اسمبلی کے ساتویں اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔