• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقعے پر مختلف شعبوں میں مفاہمت کی بتّیس یادداشتوں (ایم او یوز) پر دس خط کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق دونوںملکوں میں توانائی، آٹو موبیل، آئی ٹی، ادویہ سازی اور دیگر شعبوں میں تعاون ہوگا۔ 

دوسری جانب چینی کمپنیز نے پاکستان میں الیکٹرک بائیکس اور جدید زراعت میں سرمایہ کاری کرنے میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے معروف چینی کمپنی ہواوے کے چیئرمین کو پاکستان میں زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی ہے۔زرعی شعبے کے لیے یہ خبریں بہت خوش آئند ہیں۔

خطرات کی گھنٹی

عالمی بینک نےدسمبر2022میںپاکستان کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا پاکستان میں غربت کی شرح 2021۔22 میں 39.2 فیصد تھی۔ تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کے 90لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ تعداد 58لاکھ تھی۔

آگے چل کر اس رپورٹ میں پاکستان کے تجارتی خسارے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو 2022 میں سالانہ بنیادوں پر اپنی بلند ترین سطح یعنی44.8بلین ڈالرز تک جا پہنچی تھی اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا،کیوں کہ تباہ کن سیلاب کے باعث پاکستان کا نو ملین ایکڑ سے زیادہ زرعی رقبہ بُری طرح متاثر ہوا جس کے باعث ملک میں جہاں ایک طرف زرعی اجناس کی شدید کمی کا سامنا ہوا ،وہاں دوسری طرف کپاس ،گندم ،گنّے اور چاول وغیرہ کی قلت کے سبب ملک کی درآمدات کا گراف ہدف سے کہیں زیادہ بلند سطح پر پہنچ کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر مستحکم کر دے گا۔

پاکستان اگرچہ زرعی اور قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، اس کے باوجود تحفظِ خوراک کا مسئلہ پاکستان میں خوف ناک روپ اختیار کرگیا ہے۔ملک میں بہت بڑی تعداد میں لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں جس کا بڑا سبب افراطِ زر کی بلند شرح، معاشی پس ماندگی اور حکومت کی جانب سے زرعی پیداوار پر سبسڈیز میں کمی ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2050 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک بن جائے گا اورچالیس برس بعد فصلوں کے لیے پانی کی عدم دست یابی اہمی غذائی بحران کو شدید تر کردے گی۔

وقت کا جبر

دوسری جانب ہم کاشت کاری کے دہائیوں پرانے طریقےاپنائے ہوئے ہیں۔لہذا ہماری فی ایکڑ پیدوار بہت کم ہے۔لیکن وقت کا جبر اب ہمیں بہت کچھ تبدیل کرنے پر مجبور کرچکا ہے کہ اب پاکستان مزید قرض لینے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔لہذا ماہرین کے مطابق اب ہمیں فوڈسکیورٹی، زرعی برآمدات بڑھانےاور درآمدات کم کرنے کے لیے ملک بھر میں زیر کاشت نہ ہونے والی لاکھوں ایکڑ اراضی اور کم پیداواردینے والی زمین پر خاص توجہ دینا ہوگی۔

چناں چہ کچھ عرصہ قبل ‏پاکستان نے جدید زراعت کے فروغ کے لیے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینیجمنٹ سسٹم (لمز)، سینٹر آف ایکسی لینس قائم کیا ہے۔حکام کے مطابق اس انقلابی تحریک سے زمین، فصلوں، موسم، پانی کے ذخائر اور کیڑے مکوڑوں کی روک تھام پر ایک ہی چھت کے نیچے کام کیا جائے گا اور ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل قائم کی گئی ہے۔ اس پروگرام سے ملازمتیں پیدا ہونے کے علاوہ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی۔ 

جدید معلومات اور تجزیوںکی بنیادپر زرعی مشکلات، رکاوٹوں اور چیلنجز کی نشان دہی، مناسب حل تلاش کرنے اور شعوری فیصلے کرنے میں آسانی ہو گی۔حکّام کے مطابق اس کے علاوہ پروگرام کے مقاصدمیں ضایع شدہ اورنہ کاشت کی جانے والی زمین کی بحالی اور اس میں استحکام لانابھی شامل ہے۔مختلف شعبوں کے ماہرین، وسائل و ذخائر، جدید ٹیکنالوجی اور آب پاشی کےنظام کے مناسب استعمال سے پاکستان کی زراعت میں ایسی ترقی لائی جائے گی جس سے ملک کے ہر خطے میں نہ صرف خوراک کی کمی کو پورا کیا جائے گا بلکہ خوراک کی حفاظت اور ضرورت کے مطابق اسے ذخیرہ بھی کیا جائے گا۔

ہمارا حال

بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کے پہلے سبز انقلاب کے منصوبے کا آغاز1960کی دہائی میں کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں نئی ٹیکنالوجی، نہری نظام، بیج اور کیمیکل فرٹیلائزرز کو متعارف کرا کے اناج کی پیداوار میں تین گنا اضافہ کیا گیاتھا۔اس منصوبے کے بعد گندم کی پیداوار میں79 فی صداضافہ ہوا تھا۔

پہلے پیداوار کی مقدار3.7ملین میٹرک ٹن تھی جو سبز انقلاب کے بعد6.8ملین میٹرک ٹن ہوگئی تھی۔ 1960کی دہائی سے پہلے اور سبز انقلاب کے بعد کی پیداوار سے اگر موازنہ کریں تو آج ہماری زرعی پیداوار اوسط درجے سے بھی کم ہے۔آج پاکستان میں گندم کی مانگ 30.8 ملین ٹن سے تجاوز کرگئی ہے، لیکن پیداوار26.4ملین ٹن سے کم ہے۔ 

اس کے علاوہ کپاس کی پیداوار بھی دس برسوں میں چالیس فی صد تک کم ہوچکی ہے۔ دوسری جانب زرعی درآمدات کے بِل کا 10ارب تک پہنچ جانا ملکی معیشت کے لیے بہت سے مسائل کا باعث ہے۔ان تمام مسائل اور دشواریوں کے باعث ایسا قدم اٹھانے کی شدید ضرورت ہے جس کی وجہ سے زراعت کے جدید طریقوں کے ذریعے ملکی زمین کو دوبارہ زرخیز بنایا جائے۔

جدید زراعت کا منصوبہ

جدید زراعت کے فروغ کے ضمن میں پنجاب میں جدید کاشت کاری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ مختلف زرعی منصوبوں کے لیے سعودی عرب 500 ملین ڈالرز فنڈ کے ساتھ اور چین، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین بھی تعاون کر رہے ہیں جس سے یقیناً ہماری برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

اس کے علاوہ فن لینڈ بیچ، جنگلات اور حیاتیاتی نوعیت کے منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے۔یادرہے کہ پاکستان میں24ملین ہیکٹرز اراضی پر فصلیں لگائی جاتی ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ملکی معیشت میں زراعت 23فی صد جی ڈی پی کا اضافہ کرتی ہے اور37.4فی صد مزدوروں اور کسانوں کو نوکریاں فراہم کرتی ہے۔

‏اس ضمن میں جس زمین کی نشان دہی کی گئی ہے اس کا کل رقبہ4.4ملین ایکڑ ہے جس میں سے1.3ملین ایکڑ پنجاب میں، 1.3ملین ایکڑ سندھ،1.1ملین ایکڑ خیبرپختون خوا اور0.7ملین ایکڑ بلوچستان میں ہے۔

آج دنیا بھر میں 80فی صد ہائبرڈ بیج استعمال کیے جاتے ہیں جن سے پیداوار میں30سے50فی صد تک اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں آٹھ فی صد ہائبرڈ بیج استعمال ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بیجوں کی ضرورت 1.7 ملین ٹن ہے،لیکن اس کی موجود مقدار صرف 0.77 ملین ٹن ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ تھر، تھل اور کچھی کینال میں نہری منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔

پاکستان میں ہر سال سیلاب سے فصلیں تباہ اور پانی ضایع ہوتا ہے اس لیے اس منصوبے کے تحت سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے نئی نہریں بنائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ آب پاشی کے جدید طریقوں جیسے کہ ماڈیولر ڈرپ آب پاشی،ا سپرنکلر آب پاشی اور محور آب پاشی کا استعمال کیا جائے گا۔مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے شعبوں میں زراعت، پھل، پولٹری، سولر سسٹم اور ہواسے توانائی حاصل کرنے کے شعبے شامل ہیں۔

لینڈ انفارمیشن اینڈ مینیجمنٹ سسٹم(لمز)کے مطابق پاکستان میں11بڑے حصے کاشت کےلیے ہیں۔ کل زمین79.6ہیکڑز ملین ہے جس میں سے 24ملین ہیکٹرززمین پر فصلیں لگائی جاتی ہیں جبکہ 9.1ملین ہیکٹرز بنجر زمین ہے جس پر کام کر کے اسے زرعی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

بھاری سرمایہ کاری کی توقع

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زرعی انقلاب سے آئندہ پانچ برسوں میں پچاس ارب ڈالرز تک سرمایہ کاری اور چالیس لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ملک میں ساڑھے چار ارب ڈالرز کا خورنی تیل درآمد کیاگیا۔ ہمیں اس کے تدارک کے لیے بھی زرعی انقلاب سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات قرض سے نہیں سرمایہ کاری سے ٹھیک ہوسکتے ہیں۔ 

خلیجی ممالک پاکستان گرین انیشیٹیو میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ کوئی بھی سرمایہ کار سیاسی حالات سازگار نہ ہونے تک سرمایہ کاری نہیں کرتا۔ہم اپنے دوست کو یقین دلائیں کہ پیروں پر کھڑے ہونے جارہے ہیں تو وہ مزید ساتھ دیں گے۔ قومی سلامتی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی اقتصادی سکیورٹی کومستحکم کریںاور زرعی معیشت کوبہت مضبوط بنائیں۔

بہت کچھ ممکن ہے

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زرعی شعبے کے نتائج کے لیے تین سے چار ماہ تک انتظار کرنا ہوتاہے۔لیکن صنعتی شعبے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے پانچ سے آٹھ برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے، لہٰذا زرعی شعبے پر توجہ دے کر ہم جلد اچھے نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ہمارے سامنے ہسپانیہ کی مثال ہے۔وہاں کے جنوبی صحرا تیبرناس کا شمار یورپ کی خشک ترین جگہ میں ہوتا ہے۔ 

ساٹھ کی دہائی میں یہ جگہ ویران، بیاباں مناظر کی عکس بندی کرنے والے فلم سازوں کے لیے نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ لیکن پھر اس زمین پر شگوفے کِھلنے شروع ہوئے اور آج یہ بنجر صحرا نصف سے زاید یورپ کے لیے تازہ سبزیاں اور پھل پیدا کر رہا ہے۔ اس کا سہرا گرین ہاؤسز (شیشے سے بنی ہوئی عمارت جس میں پودوں کو موسمی تغیرات سے بچاکر اگایا جاتا ہے) کے سر ہے۔ اس کی ابتدا 1963میں اسپین کے ایک ادارے Instituto Nacional de Colonización نے کی اور زمین کی تقسیم کے ایک منصوبے کے تحت کچھ گرین ہاؤسز تیار کیے۔

ان گرین ہاؤسز میں اُگنے والے صاف ستھرے پھل اور سبزیوں نے اسپین کے صوبے المیریا کے سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور لوگوں نے تیبرناس میں گرین ہاؤسز کی تعمیر میں سرمایہ کاری شروع کردی۔ آج گرین ہاؤسز تیبرناس صحرا کے 50ہزار ایکٹر رقبے پر پھیلے ہوئےہیں اور المیرا اسپین کی معیشت میں ڈیڑھ ارب ڈالرز سالانہ کا اضافہ کررہا ہے۔

تیبرناس میں پھیلے گرین ہاؤسز صرف ایک معاشی کرامت نہیں بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی ہیں۔ وہ ایک خیال کو حقیقت میں ڈھالنے کا عملی ثبوت ہیں۔ ماحول اور زمین کو کنٹرولڈماحولیاتی فارمنگ کےلیےاستعمال کرنا بہت اچھا خیال ہے۔ گرین ہاؤسز میں پھل اور سبزیوں کی فی ایکٹر پیداوار باہر اُگنے والی فصل کی نسبت بہت زیادہ اور صحت بخش ہے۔ہمیں بھی کچھ ایسے ہی منصوبوں پر عمل کرنا ہوگا۔

چیلنجز

زراعت کی ترقی اور زرعی پیداوار میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے ملک کا آب پاشی کا نظام ہے، جو وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔پانی کی تقسیم ضرورت کے مطابق نہیں ہوتی۔ الیکٹرک ٹیوب ویل ناکارہ ہوگئے ہیں، عمدہ بیج میسّر نہیں، بروقت پانی نہ ملنے سے تیار فصل تباہ ہوجاتی ہے۔یوں کسان کی محنت، پَیسہ، کھاد، سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے۔ زراعت کی ترقی کے لیے نظامِ آب پاشی میں مثبت تبدیلیاں وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

نئے ڈیم بنانا اچھا فیصلہ ہے۔اس کے ساتھ نہروں، کھالوں کو پختہ کرکے اور ان کی مرمّت کرکے اس قابل بنایا جائے کہ پانی ضایع ہوئے بغیر مطلوبہ مقام تک پہنچ جائے۔ سندھ میں چھ زرعی زون ہیں، موسم، سماجی ڈھانچے، درجۂ حرارت،شہر اور وہاں کے لائیو اسٹاک اور لگائی گئی فصل کے حساب سے پانی کی مطلوبہ مقدار ملنی چاہیے۔ آب پاشی کا نظام پے چیدہ ہے۔ زراعت کی ترقی کے لیے آبی وسائل کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بے حد ضروری ہے، جس کے بغیر سبز انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔ 

سبز انقلاب لائے بغیر ہم ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتے۔ زراعت کے شعبے میں سرکاری سطح پراور نجی بینکس کی جانب سے فراہم کیے گئے قرض اپنی جگہ ، مگر اس سے حالات میں بہتری کے امکانات کم ہیں، کیوں کہ بینک صنعتی شعبے کے مقابلے میں زیادہ شرحِ سودپر قرضے فراہم کرتے ہیں، کسان اس شرحِ سود پر قرض نہیں لے سکتا۔ بینکس کو چاہیے کہ کاروں اور دوسری الیکٹرانک اشیاء کی لیزنگ اسکیمز کی طرز پر زرعی قرضہ اسکیم متعارف کرائیں۔ان اسکیمزسے کسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 

اس وقت 45 فی صد سے زاید آبادی زراعت کے پیشے سے منسلک ہے، اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو ملکی معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا۔لوگ زراعت کے پیشے کو خیرباد کہہ کر شہروں کا رخ کریں گے۔ دوسرا اہم مسئلہ مارکیٹنگ کاہے۔ مارکیٹنگ اسٹرکچر میں بہتری کے لیے کسی نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا۔60 فی صد منافع مڈل مین، یا آڑھتی لے جاتے ہیں پھر آدھا مال شہر تک آتے آتے ضایع ہوجاتا ہے۔