• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ایران نے بونڈی بیچ حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا؟ حقیقت بےنقاب ہوگئی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع بونڈی بیچ پر 14 دسمبر کو 2 مسلح افراد کی فائرنگ سے 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مبینہ پریس ریلیز گردش کر رہی ہے، جسے ایران کی وزارتِ خارجہ سے منسوب کیا گیا۔

اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا کہ بونڈی بیچ حملے کی منصوبہ بندی پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے کی۔

دعویٰ

20 دسمبر کو بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک مبینہ پریس ریلیز شیئر کی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ سڈنی میں ہونے والا حملہ ایران نہیں بلکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے بعض عناصر کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

مذکورہ دستاویز میں لکھا گیا تھا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق یہ کارروائی تہران کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے عناصر کی ہدایت پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔

یہ مبینہ پریس ریلیز ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے دستخط سے منسوب کی گئی۔

اس پوسٹ کو اب تک 1 لاکھ 19 ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ 1 ہزار سے زائد بار ری پوسٹ اور تقریباً 3 ہزار سے زائد لائکس حاصل ہو چکے ہیں۔

یہی دستاویز بھارت سے تعلق رکھنے والے دیگر اکاؤنٹس کی جانب سے فیس بک اور ایکس پر بھی شیئر کی گئی۔

دعوے کی حقیقت

تحقیقات کے مطابق یہ پریس ریلیز جعلی ہے اور ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں ایران کے سفارت خانے نے اس دستاویز کو دوٹوک انداز میں جعلی قرار دے دیا۔ 

سفارت خانے کے ایک سینئر اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، جیو فیکٹ چیک سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سو فیصد جعلی ہے۔ اس کی زبان، انداز، فارمیٹ اور مواد ہماری سرکاری کمیونیکیشن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وزارتِ خارجہ نے ایسی کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی۔

اہلکار نے بونڈی بیچ حملے سے متعلق ایران کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری کردہ مستند بیان بھی شیئر کیا۔

مزید برآں، جیو فیکٹ چیک نے ایران کی وزارتِ خارجہ کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ کا جائزہ لیا، تاہم دعویٰ گردش میں آنے کے وقت کے آس پاس ایسی کسی پریس ریلیز کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

نتیجہ

ایران کی وزارتِ خارجہ سے منسوب کی جانے والی مبینہ پریس ریلیز خود ساختہ و جعلی ہے اور یہ پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید