کراچی (نیوز ڈیسک) لاطینی امریکا میں امریکی مداخلت کی تاریخ، 1954میں گوئٹے مالا میں فوجی مداخلت کی حمایت، فیدل کاسترو کو ہٹانے کی کوشش کی گئی، 1989میں امریکا نے پاناما کے حکمران مینوئل نوریگا کو ہٹانے کیلئے پاناما پر حملہ کیا،برازیل اور ایکواڈور میں فوجی بغاوتوں کی راہ ہموار کرنے کی گئی، ڈومینیکن ریپبلک میں امریکی افواج نے صدر بوش کی واپسی روکنے کیلئے حملہ کیا،بولیویا، یوراگوئے اورچلی میںمداخلتیں کی گئیں ،ارجنٹائن کی فوجی حکومت کی حمایت،1980میں نکاراگوا میں امریکا نے سینڈنسٹا حکومت کے خلاف باغیوں کی حمایت کی ۔پہلی بار امریکا نے 1954میں گوئٹے مالامیں سی آئی اے کے ذریعے ایک ایسی فوجی بغاوت کی حمایت کی جس نے منتخب صدر جیکوبو آربینز گوزمین کا تختہ الٹ دیا۔ یہ کارروائی ان کی جانب سے کی گئی زمینی اصلاحات کے بعد کی گئی جس سے امریکی کارپوریٹ مفادات متاثر ہو رہے تھے۔ اس واقعے نے ملک میں دہائیوں پر محیط عدم استحکام اور فوجی آمریت کی راہ ہموار کی۔کیوبا میں1959سے لیکر 1961تک امریکا نے متعدد بار کوششیں کیں۔1959میں فیدل کاسترو کی جانب سے طاقتور حکمران فلجینسیو باٹسٹا کا تختہ الٹنے کے بعد، امریکا نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کوششوں کا اختتام 1961 میں "بے آف پگز" (Bay of Pigs) کے ناکام حملے پر ہوا، جسے سی آئی اے کی پشت پناہی حاصل تھی۔برازیل میں بھی 1964میں امریکا کی جانب سے مداخلت کی گئی ، امریکا نے کمیونسٹ مخالف قوتوں اور امریکا نواز سیاست دانوں کی حمایت کی، جس نے صدر جوآؤ گولارٹ کو ہٹانے کے لئے فوجی بغاوت کا راستہ صاف کیا۔ اس کے نتیجے میں ایک جابرانہ حکومت قائم ہوئی جو 1985 تک برقرار رہی۔1965میں ڈومینیکن ریپبلک میں امریکی افواج نے بائیں بازو کے صدر جوآن بوش کی واپسی کو روکنے کے لیے حملہ کیا، جس کی وجہ "دوسرے کیوبا" بننے کا خوف بتایا گیا۔ اس مداخلت کے ذریعے ایک امریکانواز حکومت قائم کی گئی۔ایکواڈورمیں 1961سے لیکر1963کے درمیان امریکا کی حمایت یافتہ کمیونسٹ مخالف کوششوں کے دوران سیاسی خلفشار پیدا ہوا، جس کا اختتام ایک فوجی بغاوت پر ہوا۔ اس کے نتیجے میں کیوبا سے تعلقات منقطع کر لئےگئے اور ملک واشنگٹن کے قریب ہو گیا۔1964سے لیکر 1970تک بولیویامیں سی آئی اے نے وکٹر پاز ایسٹنسورو سمیت منتخب رہنماؤں کے خلاف بغاوتوں کی حمایت کی، اور بعد میں صدر جوآن جوس ٹوریس کو کمزور کرنے کے لیے کام کیا کیونکہ انہوں نے امریکی کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا۔1960سے لیکر 1973تک یوراگوئے میں امریکاکی سیکورٹی امداد اور انٹیلیجنس تعاون نے فوجی حکومت کے قیام سے قبل بائیں بازو کے گروہوں کی سرکوبی میں مدد فراہم کی۔چلی میں 1970سے لیکر 1973کے درمیان سی آئی اے نے صدر سلواڈور ایلندے کے خلاف اپوزیشن کی مالی مدد کی، جس کے نتیجے میں 1973 میں آگسٹو پنوشے کی فوجی بغاوت ہوئی اور 17 سالہ وحشیانہ امریکا نواز حکومت کا آغاز ہوا۔1976میں امریکا نے ارجنٹائن کی اس فوجی حکومت کی حمایت کی جس نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔