کراچی (رفیق مانگٹ )صحت مند افراد میں روزانہ اسپرین فائدے سے زیادہ نقصاندہ، دل یا فالج کی تاریخ کے بغیر روزانہ اسپرین طبی طور پر غیر مناسب، اندرونی خون بہنے کا خدشہ، دل کے مریضوں کیلئے 81 ملی گرام کافی، ٹرمپ 325 ملی گرام لیتے ہیں جو چار گنا زیادہ ہے، ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسپرین خون پتلا کرنے کیلئے اچھی ہے اورمیں نہیں چاہتا گاڑھا خون میرے دل سے گزرے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو دہائیوں سے روزانہ 325 ملی گرام اسپرین لے رہے ہیں، طبی ہدایات کے مطابق یہ خوراک زیادہ ہے اور ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا، وہ کہتے ہیں اسپرین خون پتلا کرنے کے لئے اچھی ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ گاڑھا خون میرے دل سے گزرے۔ 2018 کی تحقیقات کے مطابق، جنہیں پہلے دل کی بیماری نہیں تھی، ان کے لئے روزانہ اسپرین فائدے سے زیادہ نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔اسپرین سے معدے اور آنتوں میں خون بہنے اور کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر 60 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں۔ دل کا دورہ یا فالج ہو چکے مریضوں کے لئے صرف 81 ملی گرام یعنی بے بی اسپرین تجویز کی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ اس سے چار گنا زیادہ خوراک لے رہے ہیں۔اسپرین خون کے پلیٹ لیٹس کے عمل کو روکتا ہے، جو خون کے لوتھڑے بناتے ہیں اور دل کے دورے یا اسٹروک کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر یہی اثر خون بہنے کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر گردے، معدے یا دماغ میں اندرونی خون بہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔کچھ تحقیقات نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسپرین کولیوریکٹل کینسر کے خطرے کو کم کر سکتی ہے، لیکن موجودہ شواہد اسے صرف اس مقصد کے لئے تجویز کرنے کے قابل نہیں بناتے۔طبی رہنما اصول ہیں کہ روزانہ اسپرین صرف انہی افراد کے لئے مفید ہے جنہیں پہلے دل کا دورہ یا اسٹروک ہو چکا ہو۔ 60-70 سال سے کم عمر اور دل کی بیماری کے خطرے والے افراد ڈاکٹر سے مشورے کے بعد استعمال کر سکتے ہیں۔اس کے باوجود صدر ٹرمپ کم تجویز کردہ 81 ملی گرام کی بجائے تقریباً 325 ملی گرام روزانہ لے رہے ہیں، جسے ماہرین غیر ضروری اور ممکنہ طور پر خطرناک قرار دیتے ہیں۔