• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی و برطانوی میڈیا نے وینزویلا پر حملہ غیر قانونی قرار دے دیا

کراچی (رفیق مانگٹ)امریکی و برطانوی میڈیا نے وینزویلا پر حملہ غیر قانونی قرار دے دیا، نیویارک ٹائمز کے مطابقنام نہاد نارکو ٹیررزم کا مؤقف کمزور اور مضحکہ خیز ہے ، کانگریس نے حملے کی منظوری نہیں دی، گارجین کا کہنا ہے کہ حملہاقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہجارحیت کے زمرے میں آتی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا کہ صدر ٹرمپ کا وینزویلا پر فوجی حملہ غیر قانونی اور دانش مندی سے عاری ہے،نام نہاد نارکو ٹیررزم کا مؤقف کمزور اور مضحکہ خیز ہے،امریکی آئین کے تحت جنگ یا فوجی کارروائی کی منظوری صرف کانگریس دے سکتی ہے، جبکہ ٹرمپ نے یہ منظوری حاصل نہیں کی۔کانگریس کی منظوری کے بغیر یہ کارروائی امریکی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے خلاف کوئی واضح، مربوط اور قانونی جواز پیش نہیں کیا۔انتظامیہ نے کارروائی کا جواز نام نہاد نارکو ٹیررزم کو بنایا، جسے ادارتی بورڈ نے کمزور اور مضحکہ خیز قرار دیا۔وینزویلا نہ تو فینٹینائل کا بڑا ذریعہ ہے اور نہ ہی وہ منشیات امریکا کو بڑے پیمانے پر فراہم کرتا ہے۔کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کو دہشت گرد قرار دے کر حملہ کرنا بین الاقوامی روایت میں طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔جنیوا کنونشنز 1949 اور بعد کے تمام انسانی حقوق کے معاہدے ایسے قتل کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ امریکی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ادارتی بورڈ کے مطابق یہ کارروائی قانونی طور پر ناقابلِ دفاع، بین الاقوامی نظام کے لیے خطرناک اور امریکا کے طویل المدتی مفادات کے خلاف ہے۔برطانوی اخبار گارجین نے لکھااس فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کنگسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر ایلوِیرا ڈومینگیز ریڈونڈو نے بھی اس کارروائی کو ایک خودمختار ریاست کے خلاف غیر قانونی طاقت کا استعمال قرار دیا۔ماہرین کے مطابق امریکا اس کارروائی کا دفاع ’خود دفاع‘کے مؤقف پر کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے فوری اور واضح خطرے کا ثبوت ضروری ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی صورتِ حال سلامتی کونسل کی ساکھ اور افادیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔بین الاقوامی مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکا کو اس کارروائی پر کسی قسم کے نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑا تو یہ مثال دیگر طاقتور ممالک کو بھی متنازع فوجی اقدامات کی ترغیب دے سکتی ہے، جس سے عالمی نظام اور بین الاقوامی قانون مزید کمزور ہو سکتا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھا اور تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے ۔

اہم خبریں سے مزید