• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کہاں 57 نمبر کہاں: 72 برطانوی یونیورسٹی کے مارکنگ نظام کی ناکامی سے پاکستانی طالبہ مواقع سے محروم  

لندن(مرتضیٰ علی شاہ ) پاکستانی طالبہ ریحاب اسد شیخ نے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس (LSE) کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے گریجویشن مارکس میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور اسکی ناکامی کی وجہ سےانہیں 57 نمبر دیے گئے جو بعد میں دوبارہ مارکنگ کے بعد 72 ہوئے اور اس وجہ سے وہ کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل کرنے کا موقع کھو بیٹھی۔ریحاب اسد شیخ 2020میں کراچی گرامر اسکول سے گریجویشن کے بعد برطانیہ آئیں۔ انہوں نے 2023میں LSE سے پالیسی اسٹڈیز میں گریجویشن مکمل کی اور بعد ازاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے ماڈرن ساؤتھ ایشین اسٹڈیز میں ماسٹرز کیا۔ تاہم ان کا اصل مقصد کیمبرج یونیورسٹی میں ایم فل کرنا تھا۔سندھ کے شہر خیرپور گمبٹ کی رہائشی ریحاب اب برطانیہ کی ایک سرکاری وزارت میں سینئر عہدے پر فائز ہیں، اور وہ کہتی ہیں کہ اگر تین سال قبل LSE کے گریجویشن مارکس کا مسئلہ نہ ہوتا تو ان کا کیریئر مختلف راہ اختیار کر سکتا تھا۔2023میں گریجویشن کے وقت، یو کے میں ہونے والے Marking and Assessment Boycott کی وجہ سے ان کے انڈرگریجویٹ ڈیزرٹیشن کو عام ڈبل مارکنگ کے بجائے ایک ہی مارکر نے جانچا، اور انہیں 57 نمبر دیے گئے۔ریحاب کا خیال تھا کہ یہ عمل انہیں دیگر طلبہ کے مقابلے میں نقصان پہنچا رہا تھا جن کے کام کو ڈبل مارک کیا گیا تھا۔
اہم خبریں سے مزید